آزادی کی واحد ضمانت…قلم کمان …حامد میر

20 Dec, 2012

مغرب کی اذان شروع ہوئی تو دوست نے سلسلہ کلام منقطع کیا اور الوداع کہنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ بہت عرصے کے بعد مجھے ملا تھا۔ کچھ سال پہلے میرے اس صحافی دوست پر پشاور میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ حملہ آوروں نے گاڑی روک کر بالکل قریب سے اس پر فائرنگ شروع کر دی۔ ایک گولی اس کے سینے پر لگی۔ دوسری گولی چلانے کیلئے حملہ آور نے اپنے پستول کو اس کے سر پر رکھا تو اس اللہ کے بندے نے پستول کی نالی پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ دوسری گولی نے اس کے ہاتھ میں سوراخ کر دیا۔ میرے دوست نے اپنے حواس کو قابو میں رکھا اور زخمی حالت میں گاڑی بھگانے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس پر حملہ کرنے والے طالبان تھے لیکن وہ حاموش رہا۔ اس نے کسی پر الزام نہیں لگایا کیونکہ اسے شک تھا کہ طالبان کو صرف استعمال کیا گیا ہے حملے کی منصوبہ بندی کسی اور نے کی تھی۔ وہ مجھے اپنے جسم پر گولیوں کے نشان دکھا رہا تھا۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ میرے صحافی دوست نے مجھے افغانستان میں ملامحمد عمر کی حکومت کے وزیر خزانہ ملا آغا جان مستعصم کا سلام پہنچایا۔ آغا جان پر دو سال قبل کراچی میں گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی۔ ان کی گردن اور جسم کے دیگر حصوں پر بیس سے زیادہ گولیاں لگیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی جان بچا لی۔ آغا جان ان دنوں ترکی میں ہیں۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء اس خطے میں جاری خونریزی کو بہت کم کر دے گا۔ ایک طرف افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ افغان حکومت اور امریکہ کے علاوہ کئی دیگر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے پاکستان کو موثر کردار ادا کرنے کی اپیل کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف پاکستان کے اندر خانہ جنگی کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیکر شام جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کراچی کے حالات خراب کرنے میں اپنے اور پرائے سب شامل ہیں۔
اس شہر میں لسانی فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ارشاد فرمایا ہے کہ کراچی میں مارشل لاء لگا کر شہر کو اسلحے سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ موصوف نو سال تک پاکستان کے حکمران رہے۔ ان نو سالوں میں کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی بجائے وہ اسلحے کے زور پر سیاست کرنے والوں کی سرپرستی کرتے رہے، آج کراچی میں امن قائم کرنے کیلئے مارشل لاء کی تجویز دے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسی تجویز صرف اہل کراچی نہیں بلکہ پاکستان آرمی کے ساتھ بھی دشمنی کے مترادف ہے۔ فوج کا کام شہری علاقوں میں ناجائز اسلحہ کے خلاف آپریشن کرنا نہیں بلکہ ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ ہاں اگر سیاسی حکومت آئینی طریقے سے فوج کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے استعمال کرنا چاہے تو ٹھیک ہے لیکن کسی جرنیل کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کر کراچی بھیجنے کا مطلب خانہ جنگی کو آواز دینے کے مترادف ہو گا۔ یہ 1953ء نہیں 2012ء ہے۔ 1953ء میں سیاسی حکومت نے جنرل اعظم خان کے ذریعہ لاہور میں 70 دن کا مارشل لاء لگا کر انٹی قادیانی تحریک پر قابو پا لیا تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کو نہ تو ڈرون حملوں کا سامنا تھا نہ افغانستان سے پاکستان پر گولہ باری ہوتی تھی۔ فوج نے 70 دن کے اندر اندر لاہور میں امن قائم کر کے خوب داد وتحسین وصول کی اور چند سال کے بعد 1958ء میں پورے ملک کی مالک بن بیٹھی۔ اسی پہلے فوجی دور میں کراچی کے حالات بگڑنے شروع ہوئے جب جنرل ایوب خان نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر دھاندلی کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کو 1965ء کے صدارتی انتخابات میں شکست دی اور پھر قائد اعظم کی بہن کے ساتھ دھاندلی کا داغ مٹانے کیلئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کر دیا۔ یہ آپریشن کشمیر کی تحریک آزادی کے بارے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ محض کچھ سیاسی فوائد کیلئے ترتیب دیئے گئے اس انتہائی بھونڈے آپریشن کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ شروع ہو گئی۔ کشمیر کی تحریک آزادی کبھی پاکستانی فوج کی محتاج نہ تھی۔ یہ تحریک آزادی 1930ء میں شروع ہوئی تھی لیکن کبھی جنرل ایوب خان کے آپریشن جبرالٹر اور کبھی جنرل پرویز مشرف کے آپریشن کارگل نے اس تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ آج یہ جرنیل کراچی میں مارشل لاء کی تجویز کے ذریعہ کراچی کو کشمیر بنانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کی یہ تجویز فوج کے حاضر سروس جرنیلوں اور جوانوں کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتی۔
آج پاکستان کو مارشل لاء کی نہیں بلکہ صرف اور صرف ایک فیئر اینڈ فری الیکشن کی ضرورت ہے۔ ایک صاف ستھرا الیکشن پاکستان کو ایک روشن تبدیلی کی طرف لے کر جائے گا۔ اس وقت ہمیں مارشل لاء یا کالا باغ ڈیم کی تعمیر جیسے معاملات میں الجھنے کی بجائے صرف اور صرف ایک فیئر اینڈ فری الیکشن کے انعقاد کو ممکن بنانے کیلئے پورا زور لگا دینا چاہئے۔ انشاء اللہ آئندہ الیکشن اپنے وقت پر ہو گا لیکن دشمن اس الیکشن کو سبوتاژ کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کریں گے۔ الیکشن سبوتاژ کرنے کا سب سے آسان طریقہ وطن عزیز میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنا ہے۔ خانہ جنگی کیلئے کسی بڑے سیاسی یا مذہبی رہنما پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں قاضی حسین احمد پر مہمند میں حملہ ایسی ہی کسی سازش کی کڑی نظر آتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی خانہ جنگی کے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر پر ایک اور حملے کا مقصد طابان کے مختلف گروپوں کو آپس میں لڑانا ہے۔ مولوی نذیر پر اگست 2009 میں بھی ایک جان لیوا حملہ ہوا تھا۔ ان پر کئی ڈرون حملے بھی ہو چکے ہیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ جاتے ہیں۔ 30 نومبر کے حملے کا مقصد احمد زئی وزیر قبائل کو محسود قبائل کے خلاف صف آراء کرنا ہے۔ کچھ منافقین کا خیال ہے کہ یہ قبائل آپس میں لڑیں گے تو طالبان کمزور ہو جائیں گے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ محسودوں اور احمدزئی وزیروں کی لڑائی صرف جنوبی وزیرستان تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ سب سے پہلے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان تک پہنچے گی اور پھر کراچی بھی میدان جنگ بن سکتا ہے کیونکہ کراچی میں دونوں قبائل کے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی کو پاکستانی سے لڑا کر پاکستان کو مضبوط کیا جاسکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان کو مسلمان سے لڑا کر اسلام کی خدمت کی جا رہی ہے تو یہ بھی حماقت ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں خوف کو جنم دیتی ہیں۔ خوفزدہ معاشرے ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ خوفزدہ انسان اپنے اندر ہی ریت کی دیوار کی طرح گر جاتا ہے اور زندہ ہونے کے باوجود ایک مردے کی سی زندگی گزارتا ہے۔ صرف خوف سے آزاد انسان ایک باوقار معاشرے کو جنم دے سکتے ہیں۔ خوف سے آزادی کا بہترین راستہ دل میں خوف خدا پیدا کرنا ہے۔ خدا سے خوف کھانے والے انسانوں سے خوف نہیں کھاتے۔ آج ہمیں باہر سے خطرہ کم ہے ایک دوسرے سے خطرہ زیادہ ہے۔ اگر ہم کسی مظلوم کی بددعا اور کسی محروم کی آہ سے بچنے کی کوشش کریں تو شائد انسانوں کے خوف سے آزاد ہو جائیں۔ انسانوں کے خوف سے آزادی ہی اصلی آزادی ہے اور اس آزادی کی واحد ضمانت خوف خدا ہے، دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور آئندہ سال ہمیں ایسی قیادت عطاء کرے جو کسی دنیاوی طاقت یا انسان سے نہ ڈرتی ہو صرف خدا سے ڈرنے والی ہو۔ آمین!

Related Posts

Leave a reply