الوداع 2012ء… قلم کمان …حامد میر

31 Dec, 2012

 

آج سال 2012 ء کا آخری دن ہے۔ آج کے دن ہمیں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ 2012ء میں ہم نے کون کون سے بڑے جھوٹ بولے؟ ہم دوسروں پر بہت انگلیاں اٹھاتے لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اور یہیں سے وہ مسائل جنم لیتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ملتا۔ 2012ء کے کچھ اہم واقعات کو سامنے رکھئے۔ ان واقعات کا آغاز مایوسی تھی لیکن انجام کسی نہ کسی امید پر ہوا۔ 2012ء میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کے الزام میں مقدمہ چلا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دسمبر 2009ء میں این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے گریز کرتے ہوئے سوئس حکومت کو خط نہیں لکھا۔ گیلانی صاحب کا خیال تھا کہ خط نہ لکھ کر وہ سیاسی شہید بن جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت کے الزام میں چند سیکنڈ کی سزا دے کر وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا۔ نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے فوری طور پر عدالت میں حاضری دی اور چند دن کے اندر اندر عدالت کی مرضی کا خط لکھ کر یوسف رضا گیلانی کو حیران ہی نہیں پریشان بھی کر دیا۔ جب تک خط نہیں لکھا گیا تھا تو کہا جاتا رہا کہ ہم خط نہیں لکھیں گے خط لکھنے کا مطلب شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہو گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ خط لکھ دیا گیا اور شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کا کوئی ٹرائل نہ ہوا۔
کون کس کے ساتھ جھوٹ بول رہا تھا؟ صدر آصف علی زرداری اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ یا گیلانی اپنے صدر زرداری کے ساتھ جھوٹ بول رہے تھے؟ 2012ء نے ہمیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن گیلانی کی نااہلی سے قانون کی بالادستی کی ایک مثال قائم ہوئی۔ پارلیمنٹ نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کیا لیکن دوسری طرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ 2012ء میں ریاستی اداروں نے سینکڑوں پاکستانیوں کو لاپتہ کیا، درجنوں نوجوانوں کو قتل کر کے لاشیں سڑکوں پر پھینکی گئیں۔ سپریم کورٹ کو بلوچستان بدامنی کیس میں یہ کہنا پڑا کہ صوبے میں آئینی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی عملداری قائم کرنے کی کوشش میں مصروف معزز جج صاحبان کو دھمکیاں دی جاتی رہیں اور بلیک میل کیا گیا۔ 2012ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے ارسلان افتخار پر بہت بڑے بڑے الزامات لگائے گئے لیکن کسی الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آیا بلکہ الزامات لگانے والے اور میڈیا میں ان کے ہمنوا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئے۔
سال 2012ء میں صرف عدلیہ پر نہیں بلکہ میڈیا پر بھی بہت دباؤ ڈالا گیا۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے صحافیوں کو قتل کیا جاتا رہا، اغواء کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور کئی صحافیوں کو اپنے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا کچھ نے یہ ملک بھی چھوڑ دیا۔ پورا سال عالمی میڈیا یہ تاثر دیتا رہا کہ پاکستان میں انتہاء پسندی بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک طرف گرلز اسکولوں میں بم دھماکے جاری تھے، پولیو ورکرز پر حملے کئے جا رہے تھے، مساجد اور امام بارگاہیں خود کش حملوں کی زد میں تھیں دوسری طرف کچھ لوگ ان واقعات کو ڈرون حملوں کا ردعمل قرار دیتے رہے لیکن دو واقعات میں جھوٹ ہار گیا سچ جیت گیا۔ پہلا واقعہ اسلام آباد کی ایک نواحی بستی میں پیش آیا جہاں ایک مسیحی لڑکی رمشا پر قرآن پاک کے اوراق جلانے کا الزام لگایا گیا۔ اس بستی کی غریب مسلمان عورتوں نے موقف اختیار کیا کہ رمشا کی ذہنی حالت ٹھیک نہ تھی بعد ازاں یہ شہادتیں بھی سامنے آئیں کہ ایک مقامی امام مسجد نے رمشا پر الزام لگاتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا کو بے قصور قرار دیا اور یوں ثابت ہوا کہ خرابی توہین رسالت کے قانون میں نہیں بلکہ ہمارے رویوں میں ہے۔ ہم اکثر اوقات مذہب کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں۔ عام پاکستانی کے ساتھ مولوی بھی جھوٹ بولتا ہے اور سیاستدان بھی جھوٹا بولتا ہے لیکن اب وہ سمجھدار ہوتا جا رہا ہے۔ وہ امریکہ میں اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آتا ہے لیکن جب کوئی مولوی اپنی بستی سے غیر مسلموں کو بھگانے کے لئے رمشا مسیح پر جھوٹا الزام لگا دے تو عام پاکستانی جھوٹ کے مقابلے پر سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان آگے جا رہا ہے پیچھے نہیں۔
2013ء میں سوات کے شہر مینگورہ میں اسکول کی طالبہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور تاویلیں بھی پیش کیں لیکن کسی جید عالم دین نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی تائید نہ کی۔ ملالہ پر حملے کا واقعہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس حملے سے قبل پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ تحریک طالبان پاکستان دراصل قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کا ردعمل ہے اور اسی ردعمل میں خود کش حملے شروع ہوئے لہٰذا ان ناراض نوجوانوں سے مفاہمت کا راستہ تلاش کیا جائے۔ ملالہ یوسف زئی پر حملے کے بعد اس سوچ کو دھچکا لگا کیونکہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والوں نے بیچاری بچی کو فاحشہ بھی قرار دے دیا۔ پاکستان کے ہر اسکول میں اس بچی کے حق میں دعا کی گئی اور یہ دعائیں بچی کو فاحشہ قرار دینے والوں کی بہت بڑی شکست تھی۔ سال 2012ء میں تحریک طالبان پاکستان ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرنے والوں کو امریکی ایجنٹ قرار دے رہی تھی اور اسی سال افغان طالبان فرانس کے شہر پیرس میں شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ پیرس میں مذاکرات کیلئے مولوی شہاب الدین دلاور کو قطر کے راستے پیرس پہنچایا گیا۔ ان کے ساتھ وہاں موجود ان کے سیاتھیوں نے مجھے بتایا کہ جب دلاور کو بشیر احمد بلور کی موت کی خبر ملی تو وہ بڑے افسردہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بناء پر پشاور میں ہونے والی قتل و غارت قابل افسوس ہے۔ دلاور صاحب پشاور میں طالبان حکومت کے قونصل جنرل رہے ہیں۔ بشیر بلور کبھی بھی طالبان کے خیر خواہ نہ تھے لیکن ان کے قتل کی افغان طالبان میں پذیرائی نہیں ہوئی۔ ملا محمد عمر کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی طالبان ملا محمد عمر کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں لیکن افغان طالبان کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کی کئی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بہرحال اب تو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بھی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ مذاکرات کی اس پیشکش کا مقصد شمالی وزیرستان میں کسی بڑے آپریشن سے بچنا ہے لیکن یہ تو طے ہے کہ حکیم اللہ محسود کے ویڈیو پیغام نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے۔ وہ کہتے تھے حکیم اللہ محسود زخمی ہے ولی الرحمان محسود کے ساتھ اختلافات ہیں لیکن ویڈیو پیغام میں دونوں ساتھ تھے۔ رحمان ملک اب تسلیم کریں کہ حکومت کے خفیہ ادارے انہیں غلط رپورٹیں فراہم کرتے ہیں۔
27/ دسمبر کو نوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو سامنے رکھا جائے تو حکومت مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کرے گی کیونکہ حکیم اللہ محسود کی اکثر شرائط ناقابل عمل ہیں لیکن اگر واقعی مذاکرات میں مخلص ہیں تو سب سے پہلے مذاکرات کا مقصد بیان کریں۔ مقصد پاکستانی قوم کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے۔ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ افغان طالبان کے لیڈر ملا محمد عمر تصدیق کریں کہ حکیم اللہ محسود ان کے پیروکار ہیں اگر یہ ممکن نہیں تو حکیم اللہ محسود پاکستان میں ایسے لوگوں کے نام دیں جو ان کی ضمانت دے سکیں بصورت دیگر مذاکرات کا آگے بڑھنا مشکل ہو گا۔ یہ ممکن نہیں کہ حکیم اللہ محسود اے این پی کو مارتے رہیں سکیورٹی فورسز پر حملے بھی کرتے رہیں اور پاکستانی ریاست سے کسی نئے این آر او کی توقع بھی کریں اگر یہ این آر او پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو نہیں ملا تو تحریک طالبان کو کیسے مل سکتا ہے؟ اللہ کرے کہ 2013ء میں ہم این آر او کی سیاست سے چھٹکارا پا لیں۔ مجھے امید ہے کہ 2013ء میں انتخابات بروقت ہونگے، کوئی لانگ مارچ انتخابات کو نہیں روک سکے گا، پاکستان آگے بڑھے گا پیچھے نہیں جائے گا۔

Related Posts

Leave a reply