الیکشن کے بعد کیا ہوگا؟ قلم کمان …حامد میر

28 Feb, 2013

صدر

آصف علی زرداری کے لاہور میں نئے گھر سے کئی افسانے وابستہ ہوچکے ہیں۔ کچھ اخباری کالموں میں بلاول ہاؤس لاہور کو ایک ایسا عالیشان محل قرار دیا گیا ہے جو رائے ونڈ میں شریف فیملی کے فارم ہاؤس سے کئی گنا بڑا ہے اور اس محل میں دنیا کی تمام آسائشیں اکٹھی کردی گئیں ہیں۔یہ بھی سننے میں آیا کہ صدر زرداری کو یہ نیا محل نما گھر ایک مشہور بزنس مین نے تحفے میں دیا ہے۔ چند دن پہلے میں نے صدر صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ کیا بلاول ہاؤس لاہور آپ کو کسی نے تحفے میں دیا ہے؟ یہ سن کر صدر زرداری نے قہقہہ لگایا اور مجھے دعوت دی کہ میں خود لاہور آکر ان کا گھر دیکھوں اور اسکے بیڈ روم گن کر اپنی تسلی کرلوں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا یہ گھر آپ کو ایک بزنس مین نے تحفے میں دیا ہے؟ صدر صاحب نے جواب میں کہا کہ بہت سال پہلے انہوں نے ٹھوکر نیاز بیگ لاہور میں کچھ اراضی خریدی تھی اس اراضی کے بدلے میں انہوں نے بحریہ ٹاؤن لاہور میں بلاول ہاؤس کے لئے زمین لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھر کسی نے تحفے میں نہیں دیا میں نے خود بنوایا ہے البتہ اس کی تعمیر کیلئے میں نے کچھ دوستوں سے نگرانی کی درخواست کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ اس گھر میں صرف ایک سوئمنگ پول ہے گھر کا رقبہ عام گھروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن رہائشی حصہ نارمل گھروں جیسا ہے۔ انہوں نے بار بار مجھے اس گھر کے دورے کی دعوت دی اور کہا کہ شہید بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ ان کے پاس لاہور میں اپنا گھر ہونا چاہئے ۔وہ اب دنیا میں نہیں رہیں لیکن میں نے انکی خواہش پوری کردی ہے۔ صدر زرداری یہ اعتراف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ انہوں نے لاہور میں گھر اس لئے بنایا ہے کیونکہ وہ آنیوالے وقت میں پنجاب کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا محور بنانا چاہتے ہیں۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ بہت جلد پنجاب کی کچھ اہم سیاسی شخصیات پیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں گی اور بلاول ہاؤس لاہور پیپلز پارٹی کے لئے بہت نیک شگون ثابت ہوگا لیکن میری اطلاعات کچھ مختلف ہیں۔
پیپلز پارٹی کے کچھ اہم اراکین اسمبلی مسلم لیگ(ن) کے رابطے میں ہیں اور جیسے ہی موجودہ حکومت کی مدت ختم ہوگی تو یہ اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) میں چلے جائیں گے۔ مسلم لیگ(ق) کے بچے کھچے اراکین اسمبلی اپنی قیادت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد خود کشی کے مترادف ہے خود کشی سے بہتر ہے کہ ہم اکیلے ہی لڑتے لڑتے شہید ہوجائیں لیکن چودھری پرویز الٰہی کو یقین ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کی لڑائی کا فائدہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کو ہوگا۔ آنے والا الیکشن اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ سیاسی جماعتوں کی نظریاتی پہچان برائے نام رہ گئی ہے۔لیفٹ اور رائٹ کی تفریق نظر نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی خود کو لبرل اور لیفٹ قرار دیتی ہے لیکن لبرل اے این پی اس کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ لبرل ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کی نوعیت کی کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یہ دوستانہ تعلقات ہیں یا منافقانہ، پیپلز پارٹی کا اتحاد صرف ق لیگ سے باقی ہے جو اپنے آپ کو رائٹ ونگ کہتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) ہے جس کی قیادت کو جنرل ضیاء الحق کی روحانی اولاد کہا جاتا تھا لیکن اس جماعت نے جنرل پرویز مشرف کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کی۔ لبرل پیپلز پارٹی نے جنرل مشرف کے ساتھ این آر او کرلیا اور رائٹ ونگ مسلم لیگ(ن) نے جنرل مشرف کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ اس مزاحمت نے مسلم لیگ(ن)کو بے پناہ مقبولیت سے نوازا لیکن جب مسلم لیگ(ن)نے جنرل مشرف کی باقیات کو گلے لگانا شروع کیا تو اس کی مقبولیت کا گراف کچھ نیچے آگیا۔ یہ وہ موقع تھا جب نوجوان طبقے نے عمران خان سے اپنی امیدیں وابستہ کرنی شروع کردیں لیکن جب عمران خان نے بھی ق لیگ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کا استعمال شدہ مال اٹھانا شروع کردیا تو ا ن کی انفرادیت ختم ہوگئی۔عمران خان کو ابھی تک یقین ہے کہ وہ کلین سویپ کریں گے لیکن نواز شریف کسی بڑے زعم میں مبتلا نہیں ہوئے۔وہ ہر مکتبہ فکر کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ابھی تک جے یو آئی اور جماعت اسلامی کا آپس میں کوئی باقاعدہ اتحاد نہیں بن سکا لیکن ان دونوں جماعتوں نے نواز شریف کے ساتھ ا تحاد کرلیا ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ہم خیال بھی نواز شریف کے ساتھ ہے۔جی ایم سید کا خاندان اور نواب اکبر بگٹی کا خاندان بھی نواز شریف کے ساتھ ہے۔ایاز لطیف پلیجو اور ڈاکٹر قادر مگسی جیسے پڑھے لکھے سندھی قوم پرستوں کی نواز شریف کے ساتھ قربت کا سنی تحریک کے ساتھ اتحاد سے موازنہ کیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کچھ دنوں میں اختر مینگل بھی پاکستان واپس آنے والے ہیں اور وہ بھی الیکشن میں حصہ لیں گے ۔ان کی پارٹی بھی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ رابطے میں ہے۔ محمود خان اچکزئی بھی مسلم لیگ(ن)کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے محمد احمد لدھیانوی بھی مسلم لیگ(ن)کے رابطے میں ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید اور احسن اقبال واشگاف الفاظ میں اعلان کرچکے ہیں کہ مسلم لیگ(ن)کا اہل سنت و الجماعت یا کالعدم لشکر جھنگوی کی قیادت کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوا لیکن بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے کالعدم لشکر جھنگوی کی قیادت کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا۔
یہ تاثر کچھ دن پہلے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ ملاقات میں بھی محسوس ہوا۔ عارف نظامی نے پنجاب حکومت اور کالعدم لشکر جھنگوی کے تعلقات کے بارے میں سوال کیا تو آرمی چیف نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ملک اسحاق کے ساتھ نرمی کس نے کی تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ فوج اپنے طور پر کہیں کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔ سیاسی حکومت فیصلہ کرے اور ہمیں آرڈر کرے ہم آپریشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کا تعلق صرف دو مدارس کے ساتھ ہے ان دو مدارس میں موجود عسکریت پسندوں سے نمٹنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن فیصلہ سیاسی حکومت کو کرنا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ملک اسحاق کو کبھی ان کے جہاز میں بٹھا کر اسلام آباد نہیں لایا گیا اور نہ انہوں نے کبھی ملک اسحاق کے ذریعہ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کئے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابھی تک فوج کو کوئٹہ میں ٹارگٹڈ آپریشن کا حکم نہیں دیا۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد ا یف سی نے کچھ مطلوب ملزمان کے خلاف آپریشن کیا جس پر ایف سی والوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فوج سے کوئی مشورہ نہیں ہوا فوج آئین اور قانون کے اندر رہ کر ہونے والے ہر عمل کی حمایت کرے گی۔
جنرل کیانی کے ساتھ ساڑھے پانچ گھنٹے کی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ اگلے دو سال بہت اہم ہیں۔ پاکستان کی معیشت اور سلامتی کو جن خطرات کا سامنا ہے ان کے مقابلے کیلئے سب مکاتب فکر اور سب ریاستی اداروں کو مل جل کر آگے بڑھنا ہے۔ پہلی دفعہ ایک ایسا الیکشن ہونے والا ہے جس میں فوج کی کوئی سیاسی مداخلت نہ ہوگی، عدلیہ اور میڈیا آزاد ہوں گے اور ا لیکشن کمیشن کسی کے حکم کا غلام نہیں ہوگا۔ الیکشن سے قبل صدر زرداری کا لاہور میں گھر بنانا اور نواز شریف کا سندھی و بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد بنانا اچھی بات ہے۔ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں اور مسلم لیگ (ن) کی سندھ و بلوچستان میں جڑیں مضبوط ہونے سے پاکستان مضبوط ہوگا۔ آنیوالے الیکشن کے بعد ہمارے تمام مسائل فوری طور پر تو حل نہ ہوں گے لیکن سیاسی تطہیر کا ایک عمل شروع ہوجائے گا اور یہی سیاسی تطہیر قوم کو ہر قسم کی سیاسی بیماریوں سے نجات دلانے کا ذریعہ بنے گی۔

Related Posts

Leave a reply