بکواس…قلم کمان …حامد میر

04 Jan, 2013

 

 

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز بلاوجہ ان کی جماعت کے خلاف بکواس کررہے ہیں۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے بکواس کرنے کا حق نہیں ہے اگر آپ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ نے ہمیں بھی ہاتھ دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دھمکی نہیں دے رہا اشارہ دے رہا ہوں اسی میں تمہاری بہتری ہے ورنہ انقلاب کا راستہ جہاں اوروں کی بازپرس کرے گا وہاں تم بھی محفوظ نہ رہوگے۔الطاف حسین اور طاہر القادری14جنوری کو لاہورسے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے ذریعہ انقلاب کا سفر شروع کررہے ہیں ۔ان کا دعوی ہے کہ انقلاب کا یہ سفر پرامن ہوگا لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز کو یہ اشارہ دیا جارہا ہے کہ یہ انقلاب انہیں غیر محفوظ بھی کرسکتا ہے۔الطاف حسین کی تقریر سننے کے بعد ہم نے ایم کیو ایم میں اپنے دوستوں اور مہربانوں سے پوچھا کہ آپ لوگ کون کون سے اینکر پرسن اور رپورٹرز سے ناراض ہیں؟ ہمیں کسی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ہم نے بھی تفصیلات معلوم کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی کیونکہ اس قسم کی دھمکیاں یا انتباہ میڈیا کے لئے کوئی نئی چیز نہیں۔ ایک زمانے میں میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لئے صرف ڈرایا دھمکایا جاتا تھا، اخبارات کے بنڈل جلائے جاتے تھے، اخبار کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا جاتا تھا یا کسی صحافی کو نوکری سے نکلوا دیا جاتا تھا، پھر جنرل ضیاء الحق کا دور آیا ،صحافیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا اور کوڑے مارے گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار حکومت میں بھی میڈیا کے ساتھ جمہوری حکمرانوں کی غیر جمہوری آنکھ مچولی چلتی رہی۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں صحافیوں کو اغواء کرنے اور قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ صحافی قابو نہ آئے تو مشرف صاحب نے ہمارے دفاتر پر حملے کرائے، فائرنگ کروائی، پابندیاں لگوائیں۔ پھر پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کا دور حکومت آیا جو اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس دور میں بھی درجنوں صحافی قتل کئے گئے اور لاتعداد صحافیوں کو ان کے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ایم کیو ایم کا یہ کمال ہے کہ یہ جماعت مشرف حکومت میں بھی شامل تھی اور موجودہ حکومت میں بھی شامل ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے حکومت کے ہر اچھے برے کام میں شریک رہنے والی اس جماعت کے قائد الطاف حسین دس سال میں نظام کو نہ بدل سکے۔ اب وہ نظام کی تبدیلی کے لئے انقلاب لانا چاہتے ہیں اور لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حکومت چھوڑے بغیر سو دفعہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کریں لیکن یہ مت سمجھیں کہ لندن سے بیٹھ کر وہ کسی اینکر پرسن یا رپورٹر کو یہ سوال اٹھانے سے روک دیں گے کہ ایم کیو ایم انقلاب کے راستے پر روانگی سے قبل وزارتیں کیوں نہیں چھوڑتی؟
یہ درست ہے کہ میڈیا کو کسی مخصوص جماعت یا ادارے کے ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا نہیں بنانا چاہئے۔ یہ بھی درست ہے کہ اینکر پرسنز کو اپنے تجزیوں میں ذاتی پسند اور ناپسند کے مطابق ڈنڈی نہیں مارنی چاہئے لیکن ہم الطاف حسین جیسے سینئر اور تجربہ کار سیاستدان سے بھی یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ میڈیا کے لئے بکواس کا لفظ استعمال کریں اگر سوال کرنا واقعی بکواس ہے تو پھر اس بکواس سے اتنا بھی کیا گھبرانا؟ مجھے الطاف حسین کے الفاظ پر نہ افسوس ہوا ،نہ حیرت ہوئی بلکہ صرف ہنسی آئی۔ اس گستاخانہ ہنسی کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا سے صرف ا لطاف حسین نہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بھی ناراض ہے۔ گزشتہ ہفتے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی دوست نے مجھے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے تفصیلی ویڈیو انٹرویو کی ایک سی ڈی بھیجی جس میں وہ سوالات کے جوابات دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ولی الرحمان محسود بھی موجود ہیں۔ اس انٹرویو میں جگہ جگہ حکیم اللہ محسود نے میڈیا کے خلاف الزامات عائد کئے۔ اس سے پہلے ان کے ساتھی احسان اللہ احسان نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرنے والے صحافیوں کو امریکی ایجنٹ قرار دیدیا تھا۔ تحریک طالبان کی طرف سے میڈیا کو دھمکیوں پر ہمارے خفیہ ادارے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ بظاہر تحریک طالبان اور خفیہ ادارے ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے ہیں لیکن میڈیا کے خلاف دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خاموش تعاون کرتے ہیں۔خیبر پختونخوا میں کوئی خفیہ ادارہ کسی صحافی کو اغواء کرلے تو ذمہ داری طالبان پر ڈال دی جاتی ہے۔ بلوچستان میں لشکر جھنگوی کسی صحافی کو دھمکی دے تو اس کی ذمہ داری خفیہ ادار ے پر ڈالی جاتی ہے اور اسلام آباد میں کوئی صحافی خفیہ اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر سوالات اٹھائے تو اسے طالبان کے ذریعہ شٹ اپ کال دی جاتی ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کچھ دیگر سیاسی جماعتیں بھی میڈیا سے ناراضگی کا اظہار کرتی رہی ہیں لیکن کبھی کسی نے بکواس کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بکواس کا لفظ الطاف حسین نے استعمال کیا ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان میڈیا کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں ٹی وی پر سوالات کرنے والے اور اخبارات میں لکھنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں گولی مارنا، کسی بم دھماکے میں اڑانا یا کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں مروانا بہت آسان ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کے اس خطرناک ترین پیشے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا یورپ جانے کے مواقع نہیں ملے؟
ہم آج بھی پاکستان چھوڑے سکتے ہیں اور کسی بھی مغربی ملک کی شہریت آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہم اپنی مرضی سے پاکستان میں بیٹھے ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس پاک وطن کے لئے اپنا خون دیا ہے اور جب کوئی ہماری ارض وطن کو کسی معصوم کے خون سے سرخ کرتا ہے تو ہم سوال اٹھاتے ہیں۔ ہمارے سوالوں پر ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، ملک دشمن بھی کہا جاتا ہے لیکن ہم ملک چھوڑ کر نہیں بھاگتے کیونکہ ہمیں موت کا خوف نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین اور پاکستانی عوام کی بے پناہ محبت نے ہمیں موت کے خوف سے بہت دور کردیا ہے۔ آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ انقلاب کے لئے لانگ مارچ ضرور کریں کیونکہ یہ آپ کا آئینی و سیاسی حق ہے ۔
براہ کرم ہمیں بھی اپنے آئینی و صحافتی حق کو استعمال کرنے دیں اور یہ سوال پوچھنے دیں کہ اگر آپ واقعی اس کرپٹ نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو پھر چند وزارتیں لے کر اس کرپٹ نظام کا حصہ کیوں بنے بیٹھے ہیں؟ اگر آپ واقعی پاکستان میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پھر پاکستان آکر خود لانگ مارچ کی قیادت کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ سوال اٹھانا بکواس ہے؟ اگر یہ سوالات بکواس ہیں تو جناب ! یہ بکواس بند نہیں ہوگی

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز بلاوجہ ان کی جماعت کے خلاف بکواس کررہے ہیں۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے بکواس کرنے کا حق نہیں ہے اگر آپ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ نے ہمیں بھی ہاتھ دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دھمکی نہیں دے رہا اشارہ دے رہا ہوں اسی میں تمہاری بہتری ہے ورنہ انقلاب کا راستہ جہاں اوروں کی بازپرس کرے گا وہاں تم بھی محفوظ نہ رہوگے۔الطاف حسین اور طاہر القادری14جنوری کو لاہورسے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے ذریعہ انقلاب کا سفر شروع کررہے ہیں ۔ان کا دعوی ہے کہ انقلاب کا یہ سفر پرامن ہوگا لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز کو یہ اشارہ دیا جارہا ہے کہ یہ انقلاب انہیں غیر محفوظ بھی کرسکتا ہے۔الطاف حسین کی تقریر سننے کے بعد ہم نے ایم کیو ایم میں اپنے دوستوں اور مہربانوں سے پوچھا کہ آپ لوگ کون کون سے اینکر پرسن اور رپورٹرز سے ناراض ہیں؟ ہمیں کسی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ہم نے بھی تفصیلات معلوم کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی کیونکہ اس قسم کی دھمکیاں یا انتباہ میڈیا کے لئے کوئی نئی چیز نہیں۔ ایک زمانے میں میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لئے صرف ڈرایا دھمکایا جاتا تھا، اخبارات کے بنڈل جلائے جاتے تھے، اخبار کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا جاتا تھا یا کسی صحافی کو نوکری سے نکلوا دیا جاتا تھا، پھر جنرل ضیاء الحق کا دور آیا ،صحافیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا اور کوڑے مارے گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار حکومت میں بھی میڈیا کے ساتھ جمہوری حکمرانوں کی غیر جمہوری آنکھ مچولی چلتی رہی۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں صحافیوں کو اغواء کرنے اور قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ صحافی قابو نہ آئے تو مشرف صاحب نے ہمارے دفاتر پر حملے کرائے، فائرنگ کروائی، پابندیاں لگوائیں۔ پھر پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کا دور حکومت آیا جو اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس دور میں بھی درجنوں صحافی قتل کئے گئے اور لاتعداد صحافیوں کو ان کے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ایم کیو ایم کا یہ کمال ہے کہ یہ جماعت مشرف حکومت میں بھی شامل تھی اور موجودہ حکومت میں بھی شامل ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے حکومت کے ہر اچھے برے کام میں شریک رہنے والی اس جماعت کے قائد الطاف حسین دس سال میں نظام کو نہ بدل سکے۔ اب وہ نظام کی تبدیلی کے لئے انقلاب لانا چاہتے ہیں اور لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حکومت چھوڑے بغیر سو دفعہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کریں لیکن یہ مت سمجھیں کہ لندن سے بیٹھ کر وہ کسی اینکر پرسن یا رپورٹر کو یہ سوال اٹھانے سے روک دیں گے کہ ایم کیو ایم انقلاب کے راستے پر روانگی سے قبل وزارتیں کیوں نہیں چھوڑتی؟
یہ درست ہے کہ میڈیا کو کسی مخصوص جماعت یا ادارے کے ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا نہیں بنانا چاہئے۔ یہ بھی درست ہے کہ اینکر پرسنز کو اپنے تجزیوں میں ذاتی پسند اور ناپسند کے مطابق ڈنڈی نہیں مارنی چاہئے لیکن ہم الطاف حسین جیسے سینئر اور تجربہ کار سیاستدان سے بھی یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ میڈیا کے لئے بکواس کا لفظ استعمال کریں اگر سوال کرنا واقعی بکواس ہے تو پھر اس بکواس سے اتنا بھی کیا گھبرانا؟ مجھے الطاف حسین کے الفاظ پر نہ افسوس ہوا ،نہ حیرت ہوئی بلکہ صرف ہنسی آئی۔ اس گستاخانہ ہنسی کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا سے صرف ا لطاف حسین نہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بھی ناراض ہے۔ گزشتہ ہفتے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی دوست نے مجھے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے تفصیلی ویڈیو انٹرویو کی ایک سی ڈی بھیجی جس میں وہ سوالات کے جوابات دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ولی الرحمان محسود بھی موجود ہیں۔ اس انٹرویو میں جگہ جگہ حکیم اللہ محسود نے میڈیا کے خلاف الزامات عائد کئے۔ اس سے پہلے ان کے ساتھی احسان اللہ احسان نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرنے والے صحافیوں کو امریکی ایجنٹ قرار دیدیا تھا۔ تحریک طالبان کی طرف سے میڈیا کو دھمکیوں پر ہمارے خفیہ ادارے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ بظاہر تحریک طالبان اور خفیہ ادارے ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے ہیں لیکن میڈیا کے خلاف دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خاموش تعاون کرتے ہیں۔خیبر پختونخوا میں کوئی خفیہ ادارہ کسی صحافی کو اغواء کرلے تو ذمہ داری طالبان پر ڈال دی جاتی ہے۔ بلوچستان میں لشکر جھنگوی کسی صحافی کو دھمکی دے تو اس کی ذمہ داری خفیہ ادار ے پر ڈالی جاتی ہے اور اسلام آباد میں کوئی صحافی خفیہ اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر سوالات اٹھائے تو اسے طالبان کے ذریعہ شٹ اپ کال دی جاتی ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کچھ دیگر سیاسی جماعتیں بھی میڈیا سے ناراضگی کا اظہار کرتی رہی ہیں لیکن کبھی کسی نے بکواس کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بکواس کا لفظ الطاف حسین نے استعمال کیا ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان میڈیا کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں ٹی وی پر سوالات کرنے والے اور اخبارات میں لکھنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں گولی مارنا، کسی بم دھماکے میں اڑانا یا کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں مروانا بہت آسان ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کے اس خطرناک ترین پیشے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا یورپ جانے کے مواقع نہیں ملے؟
ہم آج بھی پاکستان چھوڑے سکتے ہیں اور کسی بھی مغربی ملک کی شہریت آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہم اپنی مرضی سے پاکستان میں بیٹھے ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس پاک وطن کے لئے اپنا خون دیا ہے اور جب کوئی ہماری ارض وطن کو کسی معصوم کے خون سے سرخ کرتا ہے تو ہم سوال اٹھاتے ہیں۔ ہمارے سوالوں پر ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، ملک دشمن بھی کہا جاتا ہے لیکن ہم ملک چھوڑ کر نہیں بھاگتے کیونکہ ہمیں موت کا خوف نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین اور پاکستانی عوام کی بے پناہ محبت نے ہمیں موت کے خوف سے بہت دور کردیا ہے۔ آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ انقلاب کے لئے لانگ مارچ ضرور کریں کیونکہ یہ آپ کا آئینی و سیاسی حق ہے ۔
براہ کرم ہمیں بھی اپنے آئینی و صحافتی حق کو استعمال کرنے دیں اور یہ سوال پوچھنے دیں کہ اگر آپ واقعی اس کرپٹ نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو پھر چند وزارتیں لے کر اس کرپٹ نظام کا حصہ کیوں بنے بیٹھے ہیں؟ اگر آپ واقعی پاکستان میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پھر پاکستان آکر خود لانگ مارچ کی قیادت کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ سوال اٹھانا بکواس ہے؟ اگر یہ سوالات بکواس ہیں تو جناب ! یہ بکواس بند نہیں ہوگی

Related Posts

2 Comments

  1. January 04, 2013

    Meer Sahib ,
    its old ticks . when they wear lion skin they can try as well lion sound but ………. . its not possible. politics are business , when you try to aware others ? it can be problems with over powerd.
    its our bad luck , from past always we stuck with our inside enemies. we proud Dr Qadeer Khan , present judiciary, and media to awake and aware from possible time of curreption , many other things………
    life is not so long for all . grave is for everyone end .

  2. January 23, 2013

    Kudos! What a neat way of thniinkg about it.

Leave a reply