Archive for December, 2017

الوداع 2012ء… قلم کمان …حامد میر

 

آج سال 2012 ء کا آخری دن ہے۔ آج کے دن ہمیں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ 2012ء میں ہم نے کون کون سے بڑے جھوٹ بولے؟ ہم دوسروں پر بہت انگلیاں اٹھاتے لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اور یہیں سے وہ مسائل جنم لیتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ملتا۔ 2012ء کے کچھ اہم واقعات کو سامنے رکھئے۔ ان واقعات کا آغاز مایوسی تھی لیکن انجام کسی نہ کسی امید پر ہوا۔ 2012ء میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کے الزام میں مقدمہ چلا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دسمبر 2009ء میں این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے گریز کرتے ہوئے سوئس حکومت کو خط نہیں لکھا۔ گیلانی صاحب کا خیال تھا کہ خط نہ لکھ کر وہ سیاسی شہید بن جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت کے الزام میں چند سیکنڈ کی سزا دے کر وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا۔ نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے فوری طور پر عدالت میں حاضری دی اور چند دن کے اندر اندر عدالت کی مرضی کا خط لکھ کر یوسف رضا گیلانی کو حیران ہی نہیں پریشان بھی کر دیا۔ جب تک خط نہیں لکھا گیا تھا تو کہا جاتا رہا کہ ہم خط نہیں لکھیں گے خط لکھنے کا مطلب شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہو گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ خط لکھ دیا گیا اور شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کا کوئی ٹرائل نہ ہوا۔
کون کس کے ساتھ جھوٹ بول رہا تھا؟ صدر آصف علی زرداری اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ یا گیلانی اپنے صدر زرداری کے ساتھ جھوٹ بول رہے تھے؟ 2012ء نے ہمیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن گیلانی کی نااہلی سے قانون کی بالادستی کی ایک مثال قائم ہوئی۔ پارلیمنٹ نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کیا لیکن دوسری طرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ 2012ء میں ریاستی اداروں نے سینکڑوں پاکستانیوں کو لاپتہ کیا، درجنوں نوجوانوں کو قتل کر کے لاشیں سڑکوں پر پھینکی گئیں۔ سپریم کورٹ کو بلوچستان بدامنی کیس میں یہ کہنا پڑا کہ صوبے میں آئینی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی عملداری قائم کرنے کی کوشش میں مصروف معزز جج صاحبان کو دھمکیاں دی جاتی رہیں اور بلیک میل کیا گیا۔ 2012ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے ارسلان افتخار پر بہت بڑے بڑے الزامات لگائے گئے لیکن کسی الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آیا بلکہ الزامات لگانے والے اور میڈیا میں ان کے ہمنوا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئے۔
سال 2012ء میں صرف عدلیہ پر نہیں بلکہ میڈیا پر بھی بہت دباؤ ڈالا گیا۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے صحافیوں کو قتل کیا جاتا رہا، اغواء کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور کئی صحافیوں کو اپنے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا کچھ نے یہ ملک بھی چھوڑ دیا۔ پورا سال عالمی میڈیا یہ تاثر دیتا رہا کہ پاکستان میں انتہاء پسندی بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک طرف گرلز اسکولوں میں بم دھماکے جاری تھے، پولیو ورکرز پر حملے کئے جا رہے تھے، مساجد اور امام بارگاہیں خود کش حملوں کی زد میں تھیں دوسری طرف کچھ لوگ ان واقعات کو ڈرون حملوں کا ردعمل قرار دیتے رہے لیکن دو واقعات میں جھوٹ ہار گیا سچ جیت گیا۔ پہلا واقعہ اسلام آباد کی ایک نواحی بستی میں پیش آیا جہاں ایک مسیحی لڑکی رمشا پر قرآن پاک کے اوراق جلانے کا الزام لگایا گیا۔ اس بستی کی غریب مسلمان عورتوں نے موقف اختیار کیا کہ رمشا کی ذہنی حالت ٹھیک نہ تھی بعد ازاں یہ شہادتیں بھی سامنے آئیں کہ ایک مقامی امام مسجد نے رمشا پر الزام لگاتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا کو بے قصور قرار دیا اور یوں ثابت ہوا کہ خرابی توہین رسالت کے قانون میں نہیں بلکہ ہمارے رویوں میں ہے۔ ہم اکثر اوقات مذہب کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں۔ عام پاکستانی کے ساتھ مولوی بھی جھوٹ بولتا ہے اور سیاستدان بھی جھوٹا بولتا ہے لیکن اب وہ سمجھدار ہوتا جا رہا ہے۔ وہ امریکہ میں اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آتا ہے لیکن جب کوئی مولوی اپنی بستی سے غیر مسلموں کو بھگانے کے لئے رمشا مسیح پر جھوٹا الزام لگا دے تو عام پاکستانی جھوٹ کے مقابلے پر سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان آگے جا رہا ہے پیچھے نہیں۔
2013ء میں سوات کے شہر مینگورہ میں اسکول کی طالبہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور تاویلیں بھی پیش کیں لیکن کسی جید عالم دین نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی تائید نہ کی۔ ملالہ پر حملے کا واقعہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس حملے سے قبل پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ تحریک طالبان پاکستان دراصل قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کا ردعمل ہے اور اسی ردعمل میں خود کش حملے شروع ہوئے لہٰذا ان ناراض نوجوانوں سے مفاہمت کا راستہ تلاش کیا جائے۔ ملالہ یوسف زئی پر حملے کے بعد اس سوچ کو دھچکا لگا کیونکہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والوں نے بیچاری بچی کو فاحشہ بھی قرار دے دیا۔ پاکستان کے ہر اسکول میں اس بچی کے حق میں دعا کی گئی اور یہ دعائیں بچی کو فاحشہ قرار دینے والوں کی بہت بڑی شکست تھی۔ سال 2012ء میں تحریک طالبان پاکستان ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرنے والوں کو امریکی ایجنٹ قرار دے رہی تھی اور اسی سال افغان طالبان فرانس کے شہر پیرس میں شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ پیرس میں مذاکرات کیلئے مولوی شہاب الدین دلاور کو قطر کے راستے پیرس پہنچایا گیا۔ ان کے ساتھ وہاں موجود ان کے سیاتھیوں نے مجھے بتایا کہ جب دلاور کو بشیر احمد بلور کی موت کی خبر ملی تو وہ بڑے افسردہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بناء پر پشاور میں ہونے والی قتل و غارت قابل افسوس ہے۔ دلاور صاحب پشاور میں طالبان حکومت کے قونصل جنرل رہے ہیں۔ بشیر بلور کبھی بھی طالبان کے خیر خواہ نہ تھے لیکن ان کے قتل کی افغان طالبان میں پذیرائی نہیں ہوئی۔ ملا محمد عمر کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی طالبان ملا محمد عمر کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں لیکن افغان طالبان کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کی کئی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بہرحال اب تو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بھی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ مذاکرات کی اس پیشکش کا مقصد شمالی وزیرستان میں کسی بڑے آپریشن سے بچنا ہے لیکن یہ تو طے ہے کہ حکیم اللہ محسود کے ویڈیو پیغام نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے۔ وہ کہتے تھے حکیم اللہ محسود زخمی ہے ولی الرحمان محسود کے ساتھ اختلافات ہیں لیکن ویڈیو پیغام میں دونوں ساتھ تھے۔ رحمان ملک اب تسلیم کریں کہ حکومت کے خفیہ ادارے انہیں غلط رپورٹیں فراہم کرتے ہیں۔
27/ دسمبر کو نوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو سامنے رکھا جائے تو حکومت مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کرے گی کیونکہ حکیم اللہ محسود کی اکثر شرائط ناقابل عمل ہیں لیکن اگر واقعی مذاکرات میں مخلص ہیں تو سب سے پہلے مذاکرات کا مقصد بیان کریں۔ مقصد پاکستانی قوم کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے۔ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ افغان طالبان کے لیڈر ملا محمد عمر تصدیق کریں کہ حکیم اللہ محسود ان کے پیروکار ہیں اگر یہ ممکن نہیں تو حکیم اللہ محسود پاکستان میں ایسے لوگوں کے نام دیں جو ان کی ضمانت دے سکیں بصورت دیگر مذاکرات کا آگے بڑھنا مشکل ہو گا۔ یہ ممکن نہیں کہ حکیم اللہ محسود اے این پی کو مارتے رہیں سکیورٹی فورسز پر حملے بھی کرتے رہیں اور پاکستانی ریاست سے کسی نئے این آر او کی توقع بھی کریں اگر یہ این آر او پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو نہیں ملا تو تحریک طالبان کو کیسے مل سکتا ہے؟ اللہ کرے کہ 2013ء میں ہم این آر او کی سیاست سے چھٹکارا پا لیں۔ مجھے امید ہے کہ 2013…

31 Dec 9:57 AM 4 Read More...

بی بی ہم شرمندہ ہیں … قلم کمان…… حامد میر

27دسمبر 2007 کا دن مجھے آج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے۔ اس دن صبح سے آسما ن پربادل چھائے ہوئے تھے۔ ان بادلوں نے اسلام آباد کے موسم کو خوشگوار بنانے کی بجائے پراسراربنارکھا تھا۔ کئی دنوں سے اسلام آباد میں یہ سرگوشیاں ہو رہی تھیں کہ کسی اہم سیاسی شخصیت پرقاتلانہ حملہ ہوگا اور پھر جنوری 2008 میں ہونے والے انتخابات کوملتوی کردیاجائے گا۔ان سرگوشیوں کی وجہ اس وقت کے صدرجنرل پرویز مشرف اور محترمہ بینظیربھٹو میں مفاہمت کاخاتمہ تھا۔ محترمہ بینظیربھٹو نے3نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس مفاہمت کے خاتمے کا خود ہی اعلان کردیا تھا۔ ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد مشرف حکومت نے امریکہ کے ذریعے محترمہ بینظیربھٹو پردباؤڈالا کہ وہ پاکستان سے واپس چلی جائیں اور انتخابات کے بعد واپس آئیں۔ محترمہ بینظیربھٹو پر دباؤڈالنے والوں میں جان نیگروپونٹے اورپاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نمایاں تھیں۔ ایمرجنسی نافذ ہونے کے چند دنوں کے بعد محترمہ بینظیربھٹو نے ایک صبح مجھے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ناشتے پر بلایا۔ انہوں نے اندر اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کی بجائے باہر صحن میں پلاسٹک کی کرسیاں لگوائیں اورہم وہیں پر بیٹھ گئے۔ شاید وہ کوئی بہت اہم باتیں کرنا چاہتی تھیں اور انہیں شک تھاکہ ان کا ڈرائنگ روم محفوظ نہیں۔گفتگو کاآغاز ہوا تو محترمہ بینظیربھٹو نے مجھے پوچھا کہ کل ججز کالونی کے باہرمیں نے جو تقریر کی اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ آپ نے معزول چیف جسٹس جناب افتخارمحمد چودھری کے گھر پر دوبارہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان عوام کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی ہے لیکن جنرل پرویزمشرف اسے اپنے خلاف اعلان جنگ سمجھے گا۔ یہ سن کر محترمہ بینظیربھٹو مسکرائیں اورکہنے لگیں کہ پرویز مشرف نے جنگ شروع کردی ہے لیکن اعلان نہیں کیا۔ امریکی حکومت کے ذریعے مجھے پاکستان سے واپس جانے کے لئے کہا جارہاہے لیکن میں پاکستان سے واپس نہیں جاؤں گی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے بہت سے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے سفارتکاروں کویہ بتایا جارہا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہٹانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ دہشت گردوں کی مدد کر رہے تھے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ 3نومبر کی رات مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد طالبان لیڈر بیت اللہ محسود کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت جنوبی وزیرستان میں اغواکئے جانے والے فوجیوں کے عوض اڈیالہ جیل سے ایسے ملزمان کو رہا کردیا ہے جو بہت خطرناک ہیں اور ان ملزمان کے ذریعے مجھ پرحملہ کرایاجاسکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ حکومت اورعدلیہ میں محاذ آرائی کا آغازکہاں سے ہوا؟
میں نے محترمہ بینظیربھٹو کو بتایا کہ محاذ آرائی کا آغاز تو 2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی پرائیوٹائزیشن کے خلاف عدالتی فیصلے سے ہوا تھا لیکن اس میں شدت لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت سے پیدا ہوئی۔ محترمہ بینظیربھٹو نے پوچھاکہ کیا اکثر لاپتہ افرادکاتعلق طالبان اور القاعدہ سے نہیں؟ میں نے انہیں جواب دیاکہ اکثر لاپتہ افرادکا تعلق بلوچستان سے ہے اگران کے خلاف دہشت گردی کے الزامات ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیاجانا چاہئے۔ محترمہ کے چہرے پر موجود سنجیدگی اب تشویش میں بدل رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نواب خیربخش مری کے بیٹے بالاچ مری کے قتل پرافسوس کے لئے ان کے پاس کراچی گئی تھیں۔ نواب خیربخش مری نے محترمہ بینظیربھٹو کو کہا کہ ہماری فکر چھوڑو اپنی خیر مناؤ وہ آپ کو بھی قتل کروادیں گے۔ یہ واقعہ سنانے کے بعدانہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھنا اگر مجھے قتل کیا گیا تو ذمہ دار جنرل پرویز مشرف ہوگا۔ ان الفاظ نے مجھ پر سکتہ طاری کردیا۔ میں نے اس سکتے سے نکلنے کی کوشش کی اور بڑبڑاتے ہوئے کہاکہ آپ کو مروا کر مشرف کو کیافائدہ ہوگا؟ محترمہ بینظیربھٹو نے کہا کہ 17 اکتوبر کوکراچی میں میرے جلوس پر حملے کا ذمہ دار بھی مشرف ہے۔ آئندہ حملے کا ذمہ دار بھی وہی ہوگا۔ وہ کبھی امریکہ کے ذریعہ کبھی کسی عرب ملک کے ذریعہ مجھے کہلواتا ہے کہ پاکستان سے چلی جاؤتمہیں طالبان مار دیں گے لیکن خود طالبان کے ساتھ خفیہ سودے بازیاں کرتاہے۔ میں ان چالاکیوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ جب سے میں نے مشرف کی پالیسیوں پر تنقید شروع کی ہے اس نے میری سکیورٹی کم کردی ہے۔ وہ چاہتا ہے میں ڈر کر بھاگ جاؤں اور اگر نہ بھاگوں تو مجھے مار دیاجائے گا۔ ذمہ داری طالبان قبول کرلیں گے لیکن میں آپ کو باربار کہہ رہی ہوں ذمہ دار مشرف ہوگا اور میری موت کے بعد میرے قاتلوں کو بے نقاب کرنا آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہوگی۔یہ ملاقات ختم ہوئی تو میں سخت پریشان تھا۔ ان دنوں مشرف حکومت نے مجھ پرپابندی لگا رکھی تھی اور میں جیو ٹی وی پرپروگرام نہیں کر رہا تھا لیکن میں نے اپنے قلم کے ذریعے محترمہ بینظیربھٹو کی زندگی کو درپیش خطرات کا اظہار شرو ع کردیا۔ محترمہ نے انتخابی مہم شروع کردی تھی اور 27دسمبر کو وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرنے والی تھیں۔ ایک رات قبل 26 دسمبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم تاج نے ان کے ساتھ ملاقات کی تھی اور انہیں لیاقت باغ جانے سے روکا تھا۔ محترمہ نے انہیں جواب میں کہا تھاکہ اگر آپ جانتے ہیں کہ وہاں مجھ پر حملہ ہوگا تو حملہ آوروں کو پکڑیئے مجھے جانے سے نہ روکئے۔ 27دسمبر کی دوپہر میں جلسے کاماحول دیکھنے کے لئے لیاقت باغ گیا۔ وہاں کافی چہل پہل تھی لیکن محترمہ بینظیربھٹو کے ایک محافظ نے مجھے کہا کہ میر صاحب واپس چلے جاؤ آج یہاں خطرہ ہے۔ میں واپس اسلام آباد آ گیااور دعا کررہا تھا کہ خیر خیریت رہے لیکن شام کو محترمہ بینظیر بھٹو پر حملہ ہوگیا۔ انہیں شہید کردیاگیا۔ حملے کے ایک گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ کو دھو کر سب کچھ مٹا دیا گیا۔ کئی گھنٹے تک لاش کا پوسٹ مارٹم بھی نہ کیاگیا اور حملے کی ذمہ داری طالبان پرڈال دی گئی۔جب بھی 27 دسمبر آتی ہے میں محترمہ بینظیربھٹو کے یہ الفاظ یاد کرتاہوں کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو ذمہ دار مشرف ہوگا۔ ان کی قربانی کے نتیجے میں ان کی پارٹی نے مرکز کے علاوہ سندھ اوربلوچستان میں حکومت بنائی۔ ان ہی کی وجہ سے آصف زرداری صدر پاکستان، راجہ پرویز اشرف وزیراعظم اور رحمن ملک وزیرداخلہ ہیں۔ پانچ سال پورے ہونے کو ہیں لیکن محترمہ بینظیربھٹو کے اصلی قاتلوں کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ رحمن ملک آج بھی اسی کہانی کے گرد گھوم رہے ہیں جومشرف نے تیار کی تھی اور مشرف لندن میں گھوم رہا ہے۔ محترمہ بینظیربھٹو نے مارک سیگل کے نام ای میل میں بھی مشرف کو اپنے قتل کا ذمہ دارقرار دیا تھا ۔ میں تو حکومت میں نہیں ہوں لیکن 27…

27 Dec 9:48 AM 4 Read More...

بشیر احمد بلور ہمیشہ ز ندہ رہے گا!…قلم کمان …حامد میر

 

موت سب کو مارتی ہے لیکن شہید موت کو مار دیتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے۔ شہید کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اپنی شہادت کے بعد وہ دنیا میں شجاعت و بہادری کی مثال بن جاتا ہے اور لوگ اس کا نام ہمیشہ احترام سے لیتے ہیں۔22…

24 Dec 9:40 AM 4 Read More...

Capital Talk with Zaka Ashraf, Javed Miandad and Iqbal Qasim

Zaka Ashraf Chairman Pakistan Cricket Board, Javed Miandad Former Cricketer and Iqbal Qasim Former Cricketer in fresh episode of Capital Talk on Geo News and talk with Hamid Mir…

22 Dec 7:23 AM 665 Read More...
21 Dec 7:40 AM 3 Read More...