Archive for January, 2017

Should there be an Iquiry Commission on Kargil?

Guests: Lt. Gen(R) Talat Hussain, Air Marshal(R) Shahid Lateef and

Col(R) Ishfaq Hussain…

31 Jan 9:32 AM 1 Read More...

اعترافِ گناہ … قلم کمان …حامد میر

یہ ایک سپاہی کی داستان عشق و جنوں ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک؟“ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس داستان کو اپنی زبان میں لکھا ہے۔ یہ خوبی اس کتاب کی سب سے بڑی خامی ہے کیونکہ شاہد عزیز صاحب نے اپنے درد دل کو کہیں فیض احمد فیض کی زبان میں بیان کیا ہے کہیں احمد فراز کے الفاظ کا سہارا لیا ہے اور کہیں ان کے جنوں پر شکیب جلالی کا رنگ غالب ہے۔ اس کتاب کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کافی مشکل ہو گا۔ کتاب کے پہلے باب کا نام ہے… ”چُبھ نہ جائے دیکھنا باریک ہے نوکِ قلم“ علامہ اقبال کے مصرعے سے شروع کئے گئے پہلے باب کے پہلے صفحے باب پر سادہ دل سپاہی نے اپنا احساس جرم بیان کرتے ہوئے کہہ دیا کہ فوجی زندگی کے آخری موڑ پر، قانون توڑ کر کسی اور کا ساتھ دیا اور سب کچھ بدل گیا۔ پاکستان کا مطلب بھی، ہماری پہچان بھی، قوم کی تقدیر بھی، قبلہ بھی لیکن جو بدلنا چاہا تھا، جوں کا توں ہی رہا بلکہ اور بگڑ گیا۔ ایک چمکتے ہوئے خواب کو حقیقت میں بدلتے بدلتے اس میں اندھیرے گھول دیئے۔
عام تاثر یہ ہے کہ شاہد عزیز صاحب کی کتاب کارگل کی جنگ کے بارے میں ہے۔ میں نے کتاب پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ تو ان کی اپنی داستان حیات ہے جس میں انہوں نے بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ وہ سب لکھ دیا جسے وہ سچ سمجھتے ہیں۔ میں نے یہ کتاب ایک صحافی کی آنکھ سے پڑھی ہے اور اس میں کئی خامیاں اور تضادات تلاش کر لئے ہیں لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ شاہد عزیز صاحب کا انداز بیان بہت خوبصورت ہے اور بہت عرصے بعد اردو میں ایک اچھی کتاب پڑھنے کو ملی۔ ان کی کتاب میں بیان کئے گئے کئی واقعات کے کچھ زاویوں اور ان کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مجھے بدنیتی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے فوج کی خامیاں بیان کی ہیں لیکن خوبیاں بھی کھل کر لکھی ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ہونے والی اقربا پروری سے لے کر سٹاف کالج کوئٹہ میں داخلے کے امتحان میں ہونے والی نقل کے قصے لکھ کر مصنف نے فوج کا مذاق نہیں اڑایا بلکہ فوج کی خامیاں دور کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جو خامیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں وہی خامیاں فوج میں بھی موجود ہیں جب تک ہم ان خامیوں کو اپنے معاشرے سے ختم نہیں کریں گے یہ خامیاں فوج سے بھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز لکھتے ہیں… ”جیسے ہمارے ملک میں کنبہ پروری کا رواج چلتا ہے کہ اپنوں کا خاص خیال رکھا جائے، ویسے ہی فوج میں بھی ہے۔ کہا جاتا ہے بڑا حوصلے والا شخص ہے، یاروں کا یار ہے، دوستوں کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے چاہے کسی اور کا گلا ہی کیوں نہ کٹتا ہو۔ فوج میں عام رواج ہے کہ اپنی یونٹ کے لئے سب کچھ جائز ہے، جھوٹ بھی دھوکہ بھی اور چوری بھی۔ میں کوئی انوکھی بات نہیں کہہ رہا۔ یہی دستور ہے۔“
شاہد عزیز صاحب کے بیان کردہ حقائق پڑھ کر سمجھ آتی ہے کہ ماضی کے فوجی ڈکٹیٹر اتنے جھوٹے اور دھوکے باز کیوں تھے اور صرف اپنے آپ کو صحیح باقی سب کو غلط کیوں سمجھتے تھے؟ شاہد عزیز صاحب پہلے پی ایم اے کے طالب علم بنے پھر اسی ادارے میں استاد بھی بنے۔ لکھتے ہیں کہ پی ایم اے میں سب پر آگے بڑھنے کی جستجو اور محنت کا دباؤ ہوتا ہے۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ فوج میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی بجائے ایک ہی مقصد کے لئے مل جل کر کام کرنے کی زیادہ اہمیت ہے۔ سبقت لے جانے کی کاوش انسان کی سیرت کو مسخ کر دیتی ہے اور اس کی اخلاقی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ سوچ ذرا اور گہری ہو جائے تو جھوٹ اور فریب کو جنم دیتی ہے اور بھائی چارے کی بجائے دشمنیاں پیدا کرتی ہے کمانڈر کے کردار میں ایسے نقائص جنم لیتے ہیں کہ وہ اچھا لیڈر نہیں بن پاتا میں نے پی ایم اے میں مقابلے کے اس ماحول کے بڑے کڑوے رنگ دیکھے ہیں، پھر ساری عمر فوج میں جگہ جگہ اس کے دل سوز اثرات دیکھتا رہا۔ اپنے بچوں کو بھی یہ کہتا رہا کہ جو بچہ فرسٹ آئے گا الٹا لٹکایا جائے گا۔
میں جیسے جیسے پاکستانی فوج کے ایک سابق کور کمانڈر اور سابق چیف آف جنرل اسٹاف کی زندگی کی کہانی پڑھتا گیا میری نظروں کے سامنے بار بار 2006ء کے اس شاہد عزیز کا چہرہ گھومنے لگتا جو چیئرمین نیب تھا۔ ایک دن اس شاہد عزیز نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور شوگر اسکینڈل کی انکوائری کے متعلق کچھ باتیں بتا دیں۔ شاہد عزیز نے حکومت کے کچھ وزراء کے نام لئے اور کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر مشرف کے قریبی ساتھی طارق عزیز کا دباؤ ہے کہ شوگر اسکینڈل کی انکوائری روک دی جائے۔ شاہد عزیز ہمیں اپنی ہی حکومت کے قیدی نظر آئے تھے لیکن کچھ سال کے بعد وہ قیدی تمام پابندیاں توڑ کر آزاد ہو گیا اور اس نے اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھ ڈالا۔ 2006ء میں شاہد عزیز نے مشرف حکومت کے جن وزراء کی کرپشن کے خلاف انکوائری کی تھی اب ان میں سے کوئی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جا ملا کوئی پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ سیاستدان ایک فوجی ڈکٹیٹر کا دست و بازو نہ بنتے تو شائد پاکستان کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ شاہد عزیز صاحب کی کتاب کا سب سے زیادہ تشویشناک حصہ وہ ہے جہاں انہوں نے اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں لکھا ہے کہ امریکی فوج اور خفیہ اداروں نے تین مرتبہ ان کی وفاداریاں خریدنے کی کوشش کی۔ صفحہ 102 پر لکھتے ہیں کہ کمپنی کمانڈر کورس کرنے سات ماہ کے لئے فورٹ بیننگ FORT BENNING گئے تو امریکی فوج کے ایک افسر نے پیشکش کی کہ تم اسی رینک اور سروس کے ساتھ امریکی فوج جائن کر سکتے ہو لیکن شاہد عزیز نے انکار کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد ایک اور کورس کے لئے پھر امریکا گئے اس مرتبہ ان کے ساتھ میجر اشفاق پرویز کیانی بھی تھے۔ ایک دفعہ پھر شاہد عزیز کو امریکی فوج میں بھرتی کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ پھر کہا گیا پاکستانی فوج میں رہ کر ہمارے لئے کام کرو۔ شاہد عزیز نے انکار کر دیا“۔ یہ سب بیان کرنے کے بعد مصنف نے لکھا ہے۔ ”یہ صرف مجھ پر ہی تو عنایت نہیں کر رہے تھے، سب کو ہی دانہ ڈالتے ہوں گے کامیابی بھی پاتے ہوں گے تب ہی تو سلسلہ جاری تھا۔“ کتاب کے صفحہ 141…

31 Jan 7:15 AM 4 Read More...

Watch exlusive interview of Ex-Chairman NAB Lt.Gen(R) Shahid Aziz…

30 Jan 8:53 AM 3 Read More...

Is there a conspiracy in offing against upcoming elections?

Guests: Nazar Gondal, Khawaja Asif and Jehangir Tareen…

28 Jan 7:48 AM 49 Read More...

اگر شاہ رُخ خان پاکستان آ جائے!…قلم کمان …حامد میر

بھارتی فلم اسٹار شاہ رخ خان کی بیوی ہندو ہے۔ شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام غیر مسلم رکھے تاکہ ان کی مسلم شناخت دونوں بچوں کے لئے وہ مسائل پیدا نہ کرے جن کا سامنا ان کے والد کو رہا ہے لیکن شاہ رخ خان کی کوئی احتیاط کام نہ آئی۔ بھارتی فلم انڈسٹری کا کنگ خان آخر کار پھٹ پڑا اور اس نے برملا کہہ دیا کہ سیکولر بھارت میں اس کی حب الوطنی مشکوک سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے اور کئی بھارتی سیاستدان اسے پاکستان جانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ شاہ رخ خان کے اس بیان پر کئی پاکستانی اخبارات نے سرخیاں جمائیں کہ شاہ رخ نے بھارتی سیکولرازم کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے بھی شاہ رخ کو یہ پیشکش کر دی کہ وہ پاکستان منتقل ہو جائیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جب بھارت میں مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ بھارتی سیکولرازم کا پردہ چاک کرتے ہیں تو ہمیں پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے لیکن بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ صرف بھارت کو نیچا دکھانے کے لئے ہمیں یہ بیان نہیں دینا چاہئے کہ شاہ رخ خان پاکستان آ جائیں۔ اس قسم کے بیانات سے شاہ رخ خان کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو سکتا ہے۔ شاہ رخ خان کو بھارتی فلم انڈسٹری نے ”کنگ خان“ بنایا ہے اگر وہ پاکستان آ گئے تو یہاں کیا کریں گے؟ پاکستان کی فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہے لہٰذا شاہ رخ خان کو اپنا فلم کیریئر ختم کرنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے ٹی وی ڈراموں میں اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کریں لیکن اگر کسی نے مطالبہ کر دیا کہ شاہ رخ خان کی ہندو بیوی اسلام قبول کرے تو کیا حافظ سعید ایسی صورت میں شاہ رخ خان کے خاندان کو تحفظ فراہم کریں گے؟ ہمیں شاہ رخ خان کو پاکستان آنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر وہ پاکستان آ گیا تو پھر بھارت میں آباد کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو گا؟ کیا بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیمیں ان کروڑوں مسلمانوں کو بھی پاکستان کی طرف نہیں دھکیلیں گی؟ کیا ہم دس پندرہ کروڑ بھارتی مسلمانوں کو پاکستان میں بسا سکتے ہیں؟ ہم 1971ء میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے چند لاکھ بہاریوں کو آج تک پاکستان نہیں لا سکے۔ یہ بہاری آج بھی ڈھاکہ میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہماری شان بے نیازی دیکھئے کہ ہم شاہ رخ خان کو پاکستان آ کر آباد ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔
جب کوئی بھارتی مسلمان اپنی تکلیف بیان کرتا ہے تو ہمیں ایسی بیان بازی نہیں کرنی چاہئے کہ اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو اور بی جے پی یا آر ایس ایس اسے پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے لگے۔ شائد ہم نہیں جانتے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ذہانت اور بہادری سے ہمیں پاکستان تو بنا دیا اور ہم نے اس پاکستان کو کھلونا سمجھ کر توڑ بھی ڈالا لیکن بھارتی مسلمان آج تک پاکستان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ بھارتی مسلمان اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر پاکستان کو خوب برا بھلا کہتے ہیں لیکن بھارتی ہندو انتہا پسند انہیں ہمیشہ پاکستان کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ میرا یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ بھارتی ہندو اور پاکستانی مسلمان امریکہ، یورپ یا مشرق وسطیٰ میں تو امن و شانتی سے مل جل کر رہتے ہیں لیکن اپنے ملکوں میں واپس جا کر امن کی آشا کو بھول جاتے ہیں۔ شاہ رخ خان کو تو صرف ڈرایا دھمکایا گیا اور طعنہ زنی کی گئی جس پر وہ بھارتی سیکولرازم کے خلاف پھٹ پڑے لیکن یاد کیجئے کہ سنجے دت کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ سنجے دت کی ماں نرگس مسلمان اور باپ سنیل دت ہندو تھا، اس کو مسلمان ماں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نفرت کا سامنا کرنا پڑا اور 1993ء میں ممبئی حملوں کے بعد سنجے دت کو گرفتار کر لیا گیا۔ سنجے دت پر الزام لگایا گا کہ ان کا داؤد ابراہیم سے رابطہ تھا اور داؤد ابراہیم نے ان کو ناجائز اسلحہ فراہم کیا۔ سنجے دت کو بار بار جیل جانا پڑا اور بڑی مشکل سے انہوں نے دہشت گردی کے الزام سے نجات پائی کچھ سال پہلے بھارتی پنجاب کے ایک ریٹائرڈ افسر بلجیت رائے نے ایک کتاب لکھی تھی Is India Going ISLAMIC (کیا بھارت مسلمان ہو جائے گا) اس کتاب میں بلجیت رائے نے بھارت کے پڑھے لکھے مسلمانوں کو ایک مافیا قرار دیا ہے۔ یہ کتاب شبانہ اعظمی سے لے کر شاہ رخ خان تک بھارت کے قابل ذکر مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھری پڑی ہے۔ کتاب میں کشمیر، آسام، مہاراشٹرا، کیرالہ اور دہلی کے مسلمانوں کو بھی مافیا کا حصہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ پڑھ لکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ مصنف نے اردو زبان سے بھی سخت نفرت کا اظہار کیا ہے۔ ہمدرد یونیورسٹی دہلی اور جامعہ ملیہ دہلی یر تنقید کی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ ہندوؤں کی آبادی کم ہو رہی ہے۔ بلجیت رائے نے اس کتاب میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کو بھی بھارت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ بلجیت رائے کے دعوے کے مطابق 2 کروڑ بنگالی مسلمان غیر قانونی طریقے سے آسام میں گھس چکے ہیں اور آسام کے 23 میں سے 10 اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت قائم ہو چکی ہے۔ آسام اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ کشمیر میں ہندو داخل نہیں ہو سکتے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو 2024…

28 Jan 7:27 AM 5 Read More...