Archive for January, 2017

ایک ملین ڈالر کا سوال…قلم کمان …حامد میر

ڈاکٹر طاہر القادری کو علامہ کینیڈی لکھنے پر ان کے کچھ عقیدت مند مجھ سے سخت ناراض تھے۔ عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری تبدیلی اور انقلاب کی علامت ہیں اور ڈاکٹر صاحب کی مخالفت کا مطلب تبدیلی کی مخالفت ہے۔ میں نے ان کے ایک جذباتی عقیدت مند کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے دسمبر 1999ء میں مسجد شہداء کے سامنے ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک احتجاجی دھرنا یاد ہے۔ انہوں نے یہ دھرنا سو بچوں کے ایک قاتل کے خلاف دیا تھا۔ اس زمانے میں جنرل پرویز مشرف نئے نئے اقتدار میں آئے تھے۔ شاہراہ قائد اعظم لاہور پر دفعہ 144 نافذ تھی۔ جیسے ہی طاہر القادری منہاج القرآن سکول سسٹم کے طلبہ کے ساتھ مسجد شہداء سے باہر آئے تو پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا اور ڈاکٹر صاحب بچوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی لینڈ کروزر میں بھاگ گئے۔ میں نے ان کے عقیدت مند سے کہا کہ بطور ایک صحافی میں ڈاکٹر صاحب کو بہت پرانا جانتا ہوں۔ منہاج القرآن کے پہلے ناظم اعلیٰ مفتی محمد خان قادری کے توسط سے مجھے جو معلومات ملیں وہ انتہائی حیران کن تھیں۔ رہی سہی کسر ڈاکٹر صاحب کے ایک سابقہ ساتھی اور معروف نعت گو شاعر مظفر وارثی مرحوم کی کتاب ”گئے دنوں کا سراغ“ نے پوری کر دی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے نواز شریف سے اپنی بہنوں کے نام پر پلاٹ لئے اور جب کبھی ان سے پوچھا جاتا کہ آپ نے شریف خاندان سے فائدے اٹھائے اور پھر ان کی مخالفت بھی کی تو ڈاکٹر صاحب کہا کرتے کہ حضرت موسیٰ  بھی تو فرعون کے گھر پلے بڑھے تھے۔ مظفر وارثی نے ڈاکٹر طاہر القادری کے کہنے پر سرکاری نوکری چھوڑ کر مصطفوی انقلاب کیلئے پاکستان عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کی لیکن جب انہیں ”وزیر اعظم طاہر القادری“ کے نعرے لگانے پڑے تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو خیر باد کہہ دیا۔ 14 جنوری 2013ء کو ڈاکٹر صاحب کا ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوا تو ان کا دعویٰ تھا کہ وہ انقلاب کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ وہ اسلام آباد کو کربلا اور حکمرانوں کو یزید، فرعون اور نمرود قرار دے رہے تھے۔ میرے کچھ محترم ساتھیوں کا خیال تھا کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کون ہے یہ دیکھا جائے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میرا موقف تھا کہ بطور صحافی کوئی خبر قارئین تک پہنچاتے ہوئے ہمیں غیر جانبدار رہنے کی ضرورت ہے لیکن خبر پر تجزیہ کرتے ہوئے ہم جھوٹ اور سچ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتے، ہمیں قارئین کو بتانا چاہئے کہ آج انقلاب کا نعرہ لگانے والا دس سال پہلے کیا کر رہا تھا اور بیس سال پہلے کیا کر رہا تھا؟
جس دن ”علامہ کینیڈی“ کے عنوان سے اس خاکسار کا کالم شائع ہوا اس شام ساری دنیا نے دیکھا کہ جن حکمرانوں کو ڈاکٹر طاہر القادری یزید، فرعون اور نمرود قرار دے رہے تھے انہی حکمرانوں کو گلے بھی لگایا اور ان کے ساتھ مذاکرات بھی کئے۔ جب ڈاکٹر صاحب باری باری حکومتی وفد کے ارکان کا تعارف کروا رہے تھے اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ فرط جذبات سے ان کے سینے سے لگ رہے تھے تو مجھے آغا شورش کاشمیری کا یہ شعر یاد آیا #
سیاسی مچھندر خدا ہو گئے ہیں
لٹیرے تھے اب رہنما ہو گئے ہیں
ڈاکٹر ڈاکٹرطاہر القادری اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے۔ مذاکراتی ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے انہیں بار بار نواز شریف کے متعلق قصے کہانیاں سنائیں۔ وفد کے ارکان نواز شریف کے متعلق باتوں میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب زبردستی کہانی پر کہانی سنا رہے تھے۔ اس دوران ایک حکومتی وزیر نے اپنے ساتھی کے کان میں کہا کہ یہ اپنے مریدوں کو جھوٹے خواب سناتا ہے ہمیں جھوٹی کہانیاں سنا رہا ہے ہم کدھر پھنس گئے؟ ڈاکٹر صاحب فرما رہے تھے کہ ایک زمانے میں نواز شریف ان کے عقیدت مند تھے اور باقاعدگی سے اتفاق مسجد ماڈل ٹاؤن لاہور میں ان کا درس قرآن سنتے تھے۔ ایک دفعہ نواز شریف ان کے دفتر میں آئے اور دروازہ بند کر کے بڑے تجسس سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کہیں آپ امام مہدی تو نہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب میں کہا کہ نہیں نہیں میں امام مہدی نہیں ہوں۔ یہ سن کر نواز شریف پریشان ہو گئے اور بے چینی سے کہا کہ تو پھر آپ کون ہیں؟ یہ کہانی سن کر حکومتی وفد کے ارکان تو ہنس دیئے لیکن مشاہد حسین نے کہا کہ واقعی یہ ملین ڈالر کا سوال ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کے پیچھے کون ہے؟ مشاہد صاحب کے جملے پر ڈاکٹر طاہر القادری بھی ہنسنے لگے۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کے ساتھ جس معاہدے پر دستخط کئے اس کے بعد کون سا انقلاب آیا ہے؟ اس معاہدے پر اس وزیر اعظم نے دستخط کئے جس کی گرفتاری کے حکم پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے ساتھیوں کو مبارکبادیں دی تھیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ سیاست اور میڈیا میں انقلاب کے نام پر غیر جمہوری تبدیلی کے حامی بے نقاب ہو گئے۔ کیسی ستم ظریفی تھی کہ ایک طرف ڈاکٹر طاہر القادری کرپشن کے خلاف نعرے لگا رہے تھے دوسری طرف این آر او پر دستخط کرنے والا مفرور ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کھل کر ڈاکٹر صاحب کی حمایت کر رہا تھا۔ کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی حمایت کرنے والوں میں اکثریت مشرف کے سابقہ ساتھیوں کی تھی؟
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ناکام لانگ مارچ اور آخر میں سرنڈر کا سب سے زیادہ فائدہ نواز شریف کو ہوا ہے۔ حکومت ڈاکٹر صاحب کو روکنے میں ناکام رہی لیکن جب نواز شریف نے لاہور میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کر لیا تو حکومت کے حوصلے بلند ہوئے اور طاہر القادری نے چند گھنٹوں میں ہتھیار پھینک دیئے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ فائدہ نواز شریف کو نہیں آصف زرداری کو ہوا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا دراصل آئندہ الیکشن ملتوی کرانے کی ایک ناکام سازش تھی تاکہ نواز شریف اقتدار میں نہ آ سکیں۔ اس ناکام سازش سے پاور پالیٹکس کرنے والے کئی موسمی سیاستدان خبردار ہو گئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ نواز شریف کے خلاف ایک اور سازش بھی ہو سکتی ہے اور ضروری نہیں کہ اگلی سازش ناکام ہو جائے لہٰذا یہ موسمی سیاستدان نواز شریف کے کاروان میں شمولیت سے پہلے کئی مرتبہ سوچیں گے۔ جہلم سے نواز شریف کے ایک پرانے ساتھی راجہ افضل کی اپنے دو ایم این اے صاحبزادوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت خاصی حیران کن ہے۔
راجہ افضل سابق گورنر چودھری الطاف اور ڈاکٹر غلام حسین کے سیاسی حریف رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی خود کشی کیلئے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ ان کی شمولیت کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ ن کو خاصا ٹف ٹائم دے گی لیکن دوسری طرف نیب کے ایک نوجوان افسر کامران فیصل کی پراسرار موت نے پیپلز پارٹی کے حلقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ کامران فیصل رینٹل پاور کمپنیوں کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کر رہے تھے۔ ان ہی کی پیش کردہ رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ کامران فیصل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ خاصے دباؤ میں تھے۔ نیب کے ایک افسر کوثر ملک نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف اپنی رپورٹ کو تبدیل کریں۔ کامران فیصل نے 17…

21 Jan 6:51 AM 7 Read More...
19 Jan 9:07 AM 11 Read More...

علامہ کینیڈی … قلم کمان …حامد میر

 

 

 

 

ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید بہت آسان ہے۔ کوئی انہیں چابی والا بابا قرار دے رہا ہے تو کوئی انہیں کسی امریکی ڈرامے کا اردو ترجمہ قرار دے رہا ہے، کوئی انہیں جرنیلوں کی ناتمام خواہشات کا ٹوٹا ہوا آئینہ کہتا ہے اور کوئی انہیں سیاسی مداری قرار دیکر اپنے غصے کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا مذاق اڑانا اس لئے بھی بہت آسان ہے کہ ان کے ہاتھ میں بندوق نہیں ہے۔ انہوں نے 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے لاکھوں کا مجمع اکٹھا کر لیا لیکن اس مجمعے کی طاقت کو میڈیا پر دباؤ کے لئے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے میڈیا میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اشتہارات کا سہارا لیا۔ سیاست بچاؤ یا ریاست بچاؤ کا نعرہ لگایا اور سیاستدانوں کی اکثریت کو اپنا دشمن بنا لیا۔ ڈاکٹر صاحب پر تنقید اس لئے بھی آسان ہے کہ ان کے مریدین نہ تو کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ کرتے ہیں نہ ہی کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر کسی چینل کی نشریات بند کرتے ہیں۔ 23 دسمبر کے جلسے سے پہلے اور بعد میں کچھ اہل فکر و دانش نے خالصتاً نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر ڈاکٹر طاہر القادری کو آڑے ہاتھوں لیا کیونکہ ان کا نعرہ صاف پتہ دے رہا تھا کہ وہ غیر سیاسی قوتوں کو سیاست کا گند صاف کرنے کیلئے اقتدار پر قبضے کی دعوت گناہ دے رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب پر تنقید کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے جو صرف تحریک طالبان پاکستان کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ میں خود بہت گناہ گار انسان ہوں اس لئے جب کسی دوسرے کی عیب جوئی کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے لیکن جب میں اپنے ایک بہت پرانے مہربان علامہ صاحب کو مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ڈاکٹر طاہر القادری پر الزامات لگاتے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے وہ صحافی دوست یاد آنے لگتے ہیں جو ان علامہ صاحب کی شام کی محفلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ علامہ صاحب شام کو میرے لبرل اور سیکولر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر طالبان کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور دوپہر کو طالبان کے حامیوں کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ میں جب اس علامہ صاحب کو ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف آگ برساتا دیکھتا ہوں تو میری نظریں جھک جاتی ہیں اور سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پر تنقید کتنی آسان اور اس علامہ صاحب پر تنقید کتنی مشکل ہے۔ اگر اس علامہ پر تنقید کروں تو کئی ساتھی اینکر، کئی نامور کالم نگار، کئی علماء اور کچھ کالعدم تنظیموں کے عہدیدار بھی مجھ سے ناراض ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید صرف ان علماء کرام کا حق ہے جن کا اپنا دامن صاف ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بذاتِ خود لفظ ”مولانا“ سے کافی الرجی محسوس ہوتی ہے لیکن ان کے قول وفعل سے مولانا صاحبان کی ساکھ سب سے زیادہ مجروح ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب مانیں نہ مانیں لوگ انہیں مولانا سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے انتخابات سے صرف چند ہفتے قبل اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر کے ہم جیسے سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیران و پریشان کر دیا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ جس حکومت پر وہ تنقید کر رہے تھے اسی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ان کی حمائت کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب کو کراچی بلا کر ایم کیو ایم کے جلسے سے خطاب بھی کروایا گیا اور جب لانگ مارچ کے لئے روانگی کا وقت آیا تو ایم کیو ایم نے مارچ میں شرکت سے معذوری کر لی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحب بھی آخری وقت میں لانگ مارچ ختم کر نے کا اعلان کر دیں گے لیکن وہ ڈٹے رہے۔ انہوں نے 14 جنوری کو لاہور سے سفر کا آغاز کیا اور 15 جنوری کو اسلام آباد پہنچ کر دم لیا۔ اسلام آباد پہنچ کر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے سامنے 40 لاکھ لوگ موجود ہیں لیکن میڈیا نے ان کے حامیوں کی تعداد کو 40 ہزار کے آس پاس قرار دیا۔ 15 جنوری کی دوپہر تک ڈی چوک اسلام آباد کے سامنے موجود مظاہرین کی تعداد 20 ہزار سے بھی کم تھی اور ڈاکٹر صاحب رو رو کر ان مظاہرین کو واسطے دے رہے تھے کہ میرا ساتھ چھوڑ کر نہ جانا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک بلٹ پروف بنکر میں بیٹھ کر حکمرانوں کو فرعون، نمرود اور یزید قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کربلا میں حسین کے راستے پر چلنے آئے ہیں۔
کربلائے اسلام آباد کی بلٹ پروف اسٹیج سے حُسینیت کا نعرہ لگانے والے اس ماڈرن مجاہد کے اکثر مطالبات غیر آئینی تھے لیکن وہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے خلاف نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم مایوسی کے اندھیروں میں ڈاکٹر صاحب کے لئے امید کی کرن بن گیا اور وہ اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر سپریم کورٹ کے حق میں نعرے لگوانے لگے۔ وہ یہ بھول گئے کہ سپریم کورٹ جس آئین و قانون کی بالادستی چاہتی ہے اس آئین و قانون میں ڈاکٹر صاحب کے مطالبات پر عملدرآمد کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ لے کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہے تھے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مخالفین نے فوری طور پر عدلیہ کے فیصلے اور طاہر القادری کے مطالبات میں تعلق تلاش کرنا شروع کر دیا۔ یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی ٹائمنگ کا فائدہ طاہر القادری نے اٹھانے کی کوشش کی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طاہر القادری الیکشن کمیشن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے اور اسی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے بروقت انعقاد کی ہدائت کر دی۔ سپریم کورٹ طاہر القادری کے غیر آئینی ایجنڈے کو فروغ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ کیا وزیر داخلہ رحمان ملک انکار کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد کے ڈی چوک تک پہنچانے میں ان کے پرانے مہربانوں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے اہم کردار ادا کیا؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے دوران وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا حکم دے کر جمہوریت کو کمزور کیا وہ بتائیں کہ جب اسی وزیراعظم کے اتحادی الطاف حسین اور چودھری شجاعت حسین اور ڈپٹی وزیراعظم پرویز الٰہی نے ڈاکٹر طاہر القادری کی حمائت کی تو کیا جمہوریت مضبوط ہو رہی تھی؟
ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید آسان ہے اور سپریم کورٹ پر بھی تنقید آسان ہے کیونکہ دونوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں ہے لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ ڈاکٹر صاحب دنیا کی ہر قسم کی دولت بشمول ڈالروں سے مالا مال ہیں جبکہ سپریم کورٹ ڈالر مافیا کی نظروں میں کھٹک رہی ہے۔ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈاکٹر صاحب کی حمائت کر رہے ہیں اور فوجی مداخلت کے ذریعہ سیاسی تبدیلی کے اشارے دے رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ فوجی مداخلت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سپریم کورٹ نے غیر ملکی شہریت رکھنے والوں کے لئے پارلیمنٹ کی رکنیت ناممکن بنا دی اور اسی لئے ایم کیو ایم نے ڈاکٹر صاحب کی حمائت کی۔ ڈاکٹر صاحب کو ان کے مخالفین علامہ کینیڈی کہہ کر چھیڑتے ہیں۔ علامہ کینیڈی صرف اور صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تو پھر علامہ کینیڈی اور سپریم کورٹ میں گٹھ جوڑ کیسے ممکن ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے بھی 16…

17 Jan 6:24 AM 22 Read More...

قائد اعظم کس کے وفادار تھے؟…قلم کمان …حامد میر

دل خون کے آنسو رو رہا تھا، کوئٹہ میں قتل و غارت کے مناظر ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے14اگست 1948ء کو پاکستان کا پہلا یوم آزادی منایا تھا لیکن آج اس شہر پر دہشت کاراج تھا۔ میں کچھ باخبر لوگوں سے پوچھ رہا تھا کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے کوئٹہ اور کراچی میں خونریزی کیوں بڑھ رہی ہے؟ اسلام آباد پر ایک غیر ملکی شہری نے ہلہ بولنے کا اعلان کیوں کردیا ہے؟ باخبر لوگ جواب میں کہہ رہے تھے کہ پاکستان ایک انٹرنیشنل ڈرامے کے تھیٹر میں تبدیل ہورہا ہے ۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کو سبق سکھانا ہے۔ ایران کو سبق سکھانے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی مدد چاہئے لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاسی حکومت ایران کے خلاف امریکی ڈرامے کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ صرف ایک غیر سیاسی حکومت امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے تیار ہوگی اس لئے پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے کہ انتخابات ملتوی ہوجائیں اور کچھ عرصہ کے لئے ایک غیر سیاسی حکومت پاکستان کا انتظام سنبھال لے۔
میرا خیال تھا کہ آج کا پاکستان جمہوریت کے بغیر نہیں چل سکتا اور اگر پاکستان کا وجود بکھر گیا تو اس خطے میں امریکہ کے لئے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے لیکن امریکیوں کے ساتھ آئے دن مذاکرات کرنے والے باخبر لیکن بے اختیار لوگوں نے مجھے کہا کہ ڈیوڈ سینگر کی کتاب کنفرنٹ اینڈ کینسلConfront and conceal پڑھ لو تو ایران کے خلاف امریکی ایجنڈا سمجھ میں آجائے گا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کار بم دھماکوں کے ذریعے ایران میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھارہے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت کار اس تاثر کی نفی میں مصروف تھے کہ طاہر القادری کا لانگ مارچ کسی مغربی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سیاسی ڈرون حملے کا اعلان کردیا۔ ڈرون حملہ امریکیوں کی ایجاد ہے اور امریکیوں کی مرضی سے ہوتا ہے لہٰذا ہم انتظار کرنے لگے کہ ڈرون حملہ کب اور کس پر ہوتا ہے؟10جنوری کی شام الطاف حسین نے لندن سے بیٹھ کر ٹیلی فون پر ایک طویل خطاب کیا جو پاکستان کے اکثرٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ اس خطاب میں الطاف حسین نے اپنی دہری شہریت کا جواز پیش کرنے کیلئے بانی پاکستان قائد اعظم کے ایک پرانے پاسپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی برطانوی شہری تھے۔ الطاف حسین نے گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظم کے حلف کی عبارت پڑھ کر کہا کہ اگر ہم نے برطانوی حکومت سے وفاداری کا حلف اٹھایا تو قائد اعظم نے بھی تو اٹھایا تھا۔ اس خطاب میں الطاف حسین پنجابی میں بڑھکیں مارتے رہے اور گانے بھی گاتے رہے۔ انہوں نے کہا پاکستان14اگست کو نہیں15اگست کو معرض وجود میں آیا تھا۔ الطاف حسین نے دہری شہریت کے معاملے پر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے قائد اعظم  کو انگریزوں کا وفادار بنادیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں قائد اعظم کے اس کردار کا ذکرتک نہ کیا جس کے ذریعہ انہوں نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی اور ان کے ہاتھوں بکنے سے انکارکردیا۔ الطاف حسین کی اس تقریر پر مجھے بہت تکلیف ہوئی لیکن اس تقریر پرعام پاکستانیوں نے کراچی سے کوئٹہ اور پشاور سے لاہور تک جس ردعمل کا اظہار کیا وہ خوف اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن تھا۔ ہم نے دیکھا کہ پختون ،سندھی اور بلوچ قوم پرست الطاف حسین کی مذمت کررہے تھے۔ خود ایم کیو ا یم کے کئی حامیوں نے الطاف حسین کی تقریر پر تاسف کااظہار کیا۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ الطاف حسین نے ایک تاریخی حقیقت کے ذریعہ محض یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح قائد اعظم نے مجبوری میں انگریزیوں سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہم نے بھی مجبوری میں دہری شہریت حاصل کی۔ دہری شہریت کوئی جرم نہیں لیکن دہری شہریت کے دفاع میں الطاف حسین نے تاریخی حقائق کو مسخ کیا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ قائد اعظم نے کبھی دہری شہریت حاصل نہیں کی تھی۔ وہ ایک غلام ہندوستان کے شہری تھے اس لئے ان کے پاسپورٹ پر برٹش انڈیا لکھا گیا۔ وہ کبھی جان بچانے کے لئے اپنے وطن سے نہیں بھاگے تھے۔ قائد اعظم کے قریبی ساتھی سید شمس الحسن نے ا پنی کتاب میں لکھا ہے کہ قائد اعظم مسلمانوں کے اندرونی اختلافات سے دل برداشتہ ہو کر اکتوبر1930ء میں لندن چلے گئے ۔ ان کی عدم موجودگی میں سر محمد شفیع کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا لیکن انہیں وائسرائے نے اپنی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بنالیا۔ پھر سر ظفر اللہ خان مسلم لیگ کے صدر بنے تو وائسرائے نے انہیں بھی ایگزیکٹو کونسل کارکن بنا کرمسلم لیگ سے چھین لیا، پھر علامہ اقبال لندن گئے اور قائد اعظم کو دسمبر1933ء میں واپس لائے، اس جلا وطنی میں قائد اعظم  نے برطانوی شہریت حاصل نہیں کی۔ قائد اعظم نے ابتداء میں کانگریس کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد کی۔ ان کی سامراج دشمنی کا یہ عالم تھاکہ1919ء میں رولٹ بل پیش ہوا تو قائد اعظم امپریل لیجسلیٹو کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ معروف بھارتی محقق اے جی نورانی نے”جناح اینڈ تلک“ کے نام سے اپنی کتاب میں آزادی پسند ہندو لیڈر گنگا دھر تلک کے ساتھ قائد اعظم کی دوستی کی تفصیل لکھی ہے۔ تلک پر بغاوت کے کئی مقدمے قائم ہوئے اور قائد اعظم نے ہمیشہ تلک کی مفت وکالت کی۔ اے جی نورانی نے انگریزوں کے ایک اور دشمن بھگت سنگھ پر اپنی کتاب میں 12اور14ستمبر 1929ء کو مرکزی اسمبلی میں قائد ا عظم کی دو تقاریر کو بھی شامل کیاہے، بھگت سنگھ نے اسمبلی پر بم حملہ کیا تھا لیکن قائد اعظم نے دو دن تک اس کے حق میں تقریر کی اور اسے سیاسی قیدی قرار دیا۔کانگریس کے نام نہاد سیکولر لیڈروں نے ہمیشہ انگریز سرکارکے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں اور اسی ملی بھگت کے خلاف قائد اعظم نے غازی علم دین شہید کی بھی حمایت کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم کو احساس ہوا کہ کانگریس کا سیکولر ازم ایک دھوکہ ہے لہٰذا وہ مسلم لیگ میں آگئے لیکن ان کی سامراج دشمنی کا یہ عالم تھا کہ 1935ء میں انگریزوں نے خان عبدالغفار خان کے خدائی خدمت گاروں پر پابندیاں لگائیں تو قائد اعظم نے اسمبلی میں خدائی خدمت گاروں کے حق میں تقریر کردی۔ شریف فاروق نے قائد اعظم پر اپنی تحقیقی کتاب میں بتایا ہے کہ قائد اعظم  نے ڈاکٹرخان صاحب، اے کے فضل حق اور مولانا شوکت علی کے ساتھ مل کر خدائی خدمت گاروں کے حق میں قرارداد منظور کرائی۔ 1933ء سے1946ء تک قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے فلسطین کے حق میں18قراردادیں منظور کیں جس پر مفتی اعظم فلسطین سید محمد امین الحینی نے 12 اکتوبر 1945ء کو قائد اعظم کو اپنے ہاتھ سے شکریے کا ایک طویل خط لکھا۔ الطاف حسین سے گزارش ہے کہ مشہور کتاب فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین لیری کولنز اور ڈومینک لپائرے کی کتاب”ماؤنٹ بیٹن ایڈدی پارٹیشن آف انڈیا“ پڑھ لیں۔ اس کتاب میں ماؤنٹ بیٹن کے انٹرویوز شامل ہیں اور اس نے قائد اعظم پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کو پتہ ہوتا کہ قائد اعظم اتنے بیمار ہیں تو وہ ہندوستان کو تقسیم نہ ہونے دیتا۔ ماؤنٹ بیٹن کی قائد اعظم سے نفرت کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھارت اور پاکستان کا مشترکہ گورنر جنرل بننا چاہتا تھا لیکن قائد اعظم کو قبول نہ تھا۔ بھارت نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل قبول کرلیا پاکستان نے نہیں کیا۔ تحریک پاکستان کے کارکن اور محقق ڈاکٹر زوار حسین زیدی نے”جناح پیپرز“ کی جلد سوم میں بتایا ہے کہ سی آئی ڈی پنجاب کا ڈی آئی جی ولیم جنکن پاکستان میں غداروں کا ایک نیٹ ورک تیار کررہا تھا۔ سی آئی ڈی کے ایک مسلمان افسر دبیر حسین زیدی نے ممتاز شاہنواز کے ذریعہ اس منصوبے کی دستاویزات قائد اعظم تک پہنچا دیں جس کے بعد قائد اعظم ماؤنٹ بیٹن سے خبردار ہوگئے۔
ماؤنٹ بیٹن نے5جولائی 1947ء کو قائد اعظم سے کہا کہ پاکستان اپنے پرچم میں یونین جیک کا نشان شامل کرلے ، قائد اعظم نے12جولائی 1947ء کو انکار کردیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ آپ گورنر جنرل ہاؤس پر پاکستان کے پرچم کے ساتھ برطانیہ کا پرچم لہرائیں ،قائد اعظم نے انکار کردیا۔ بات بات پر انکار کرنے والے قائد اعظم پر انگریزوں سے وفاداری کا الزام دراصل ان کی شخصیت پر ناکام ڈرون حملہ ہے۔ قائد اعظم نے بطور گورنر جنرل جو حلف اٹھایا تھا اس کی اصل عبارت الطاف حسین گول کرگئے۔ اصل عبارت یہ تھی کہ میری سچی وفاداری پاکستان کے آئین سے ہوگی لیکن بطور گورنر جنرل میں برطانوی بادشاہ کا وفادار رہوں گا۔ قیوم نظامی کی کتاب”قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل “ میں یہ حلف اصل الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی کتاب”تقسیم ہند افسانہ اور حقیقت“ میں بتایا ہے کہ15اگست جاپان کے خلاف برطانیہ کی فتح کا دن تھا اس لئے قائد اعظم نے 15…

14 Jan 10:44 AM 6 Read More...
12 Jan 8:08 AM 3 Read More...