Archive for February, 2017

What is the story behind the repealing of Sindh Local Government Ordinance?

Pervaiz Rasheed, Faisal Sabazwari and Sharjeel Memon…

21 Feb 8:49 AM 177 Read More...

میرا بیٹا کمانڈو بنے گا … قلم کمان …حامد میر

آج
 مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ آئے روز کے بم دھماکوں اور قتل و غارت کے باعث اکثر پاکستانی پریشان ہیں۔ پچھلے دنوں کوئٹہ میں ہزارہ بہن بھائیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا اُس پر خود میں شرمندگی کا شکار رہا لیکن پھر اس تخریب میں سے تعمیر کے کئی پہلو نکل کر سامنے آئے۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر حملے کے بعد کراچی میں ایک سنی تنظیم کے کارکنوں پر حملہ ہوا۔ مقصد بڑا واضح تھا۔ ہمارے دشمن پاکستان میں شیعہ سنی فساد کرانا چاہتے تھے لیکن پاکستانی قوم فرقہ وارانہ بنیادوں پر آپس میں لڑنے کیلئے تیار نہیں ۔ مت بھولئے کہ دشمنوں کے حربے عراق اور شام میں کامیاب رہے۔ دشمن عراق اور شام کی طرح پاکستان میں مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے میں کامیاب ہے لیکن پاکستانی قوم نے اپنے شہروں اور قصبوں کو شیعہ اور سنی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونے دیا۔ ہزارہ شیعہ برادری پر حالیہ خودکش حملے کے خلاف پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں صرف شیعہ مسلمان شریک نہ تھے بلکہ سنی مسلمانوں نے بھی قاتلوں کے خلاف کھل کر نعرے لگائے۔
حالات خراب ضرور ہیں لیکن پھر بھی ایک حکومتی وفد اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچا اور خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دینے والے ہزارہ برادری کے زعماء کے ساتھ مذاکرات کئے۔ سپریم کورٹ نے اس واقعے پر از خود نوٹس لیا اور حکومتی اداروں کی ناکامی پر جواب طلبی کی۔ حکومتی اداروں نے بھی اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے کچھ ہاتھ پاؤں مارے۔ کوئٹہ کے سانحے نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی بجائے پہلے سے زیادہ متحد کر دیا ہے۔ وہ طاقتور ادارے جن سے کوئی جواب طلبی نہ کر سکتا تھا اب اُن سے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کو ناکام قرار دینا پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ میرا خیال ہے کہ خفیہ اداروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے خفیہ اداروں کے متعلق وہی کہا جو بلوچستان بدامنی کیس میں سپریم کورٹ بہت پہلے کہہ چکی تھی۔ اگر حکومت کئی ماہ قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خفیہ اداروں اور سکیورٹی فورسز سے جواب طلبی کرتی تو شاید کوئٹہ کے حالات اتنے نہ بگڑتے۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ تمام تر مشکلات اور خرابیوں کے باوجود پاکستان آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عدالتیں حکومت کی جواب طلبی کر رہی ہیں، میڈیا سیاستدانوں سے جواب طلبی کر رہا ہے اور سیاستدان میڈیا سے جواب طلبی کر رہے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک ایسا نہیں تھا۔
آپ کو یاد ہو گا کہ جولائی 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کیا تھا۔ اس خاکسار نے پہلے دن سے لال مسجد میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی تھی اور آپریشن کے بعد انہی کالموں میں عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ افسوس کہ عدالتی انکوائری نہ ہوئی۔ کئی سال گزرنے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی شرعی عدالت کے ایک معزز جج صاحب سانحہ لال مسجد کی انکوائری کر رہے ہیں۔ اس انکوائری کمیشن نے مجھے بھی طلب کیا۔ 19فروری کو انکوائری کمیشن کے سامنے میں نے اپنا بیان دیا اور معزز جج صاحب نے مجھ سے بھی کچھ سوالات کے جواب طلب کئے۔ مجھے سانحہ لال مسجد کے پس منظر اور پیش منظر کے متعلق بطور صحافی جو کچھ معلوم تھا میں نے بتا دیا۔ انکوائری کمیشن کے سامنے حکومت کے کئی طاقتور سیکرٹری صاحبان، مشرف دور کے وزراء اور دیگر شخصیات کی جواب طلبی بھی ہو رہی تھی۔ جس وقت مولانا فضل الرحمن خلیل کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے تھے تو پاکستان پر میرا یقین بڑھ رہا تھا۔ اللہ کے گھر دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے لال مسجد انکوائری کمیشن کے سامنے وہ حقائق بیان کر دیئے جوعام لوگ نہیں جانتے۔ مولانا صاحب نے چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ لال مسجد میں محصور عبدالرشید غازی صاحب کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات کئے تھے۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ عبدالرشید غازی جامعہ حفصہ  کی طالبات کے چلڈرن لائبریری پر قبضے کے خلاف تھے اور بطور احتجاج لال مسجد سے جامعہ فریدیہ چلے گئے تھے۔ انہوں نے مولانا صاحب کو جامعہ فریدیہ بلایا اور درخواست کی کہ وہ ان کے بھائی مولانا عبدالعزیز کو جا کر سمجھائیں۔ بعد ازاں غازی صاحب لال مسجد میں واپس آ گئے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اُن کی ہر کوشش کو حکومت نے ناکام بنا دیا۔ 7/ جولائی 2007ء کو عبدالرشید غازی نے مولانا فضل الرحمن خلیل سے رابطہ کیا اور کہا کہ چودھری شجاعت حسین پھر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اس مرتبہ آپ ان مذاکرات میں بطور گواہ شامل ہو جائیں اور ہماری نمائندگی کریں۔ فضل الرحمن خلیل نے دو موبائل فون لال مسجد کے اندر بھجوا دیئے اور ان کے ذریعے عبدالرشید غازی اور چودھری شجاعت حسین کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ چودھری صاحب نے مطالبہ کیا کہ عبدالرشید غازی ہتھیار پھینک دیں اور مسجد سے باہر آ جائیں بے شک اپنے آبائی علاقے روجھان چلے جائیں لیکن اسلام آباد سے نکل جائیں۔ عبدالرشید غازی مان گئے۔ چودھری شجاعت حسین نے خوشی خوشی مشرف کو مذاکرات کی کامیابی سے آگاہ کیا تو مشرف نے کہا کہ نہیں عبدالرشید غازی روجھان نہیں جائے گا بلکہ گرفتاری دے گا۔ دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے غازی صاحب کو گرفتاری پر آمادہ کر لیا شرط صرف یہ تھی کہ گرفتاری اسلام آباد پولیس کو دی جائے گی کسی خفیہ ادارے کو نہیں۔مشرف کو دوبارہ کامیابی کی خبر دی گئی تو موصوف نے کہا کہ عبدالرشید غازی گرفتاری سے قبل اپنے پانچ ساتھی بطور ضمانت باہر بھیجے۔ غازی صاحب اس پر بھی مان گئے۔ مشرف پھر مکر گیا اور کہا کہ پانچ نہیں تیس ساتھی بطور ضمانت باہر بھیجو۔ فضل الرحمن خلیل نے یہ شرط بھی منوا لی۔ آخر میں غازی صاحب نے کہا کہ ہمیں 200آدمیوں کا کھانا اور گلے کی دوا بھجوا دیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کامیابی کی خبر دینے کیلئے مشرف سے رابطہ کیا لیکن اس دوران لال مسجد پر گولہ باری شروع ہو گئی۔ فضل الرحمن خلیل وہاں سے چودھری شجاعت حسین کے گھر چلے گئے۔ اگلی صبح 8بجکر 40 منٹ پر غازی صاحب سے اُن کا آخری رابطہ ہوا اور غازی نے کہا کہ میری والدہ زخمی ہیں میری گود میں آخری ہچکیاں لے رہی ہیں گواہ رہنا کہ مشرف نے ہمارے ساتھ ظلم بھی کیا دھوکہ بھی کیا۔
میں نے کمیشن کے سامنے اپنے بیان کے ساتھ 9کالموں اور 5ٹی وی پروگراموں کی نقول پیش کیں اور کمیشن کو ثبوت کے ساتھ بتایا کہ میں نے 8مارچ 2007ء کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مشرف کی تقریر کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہماری فوج اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت افریقہ میں جا کر وہاں کے قبائل پر گولی چلانے کی بجائے اُن کے دل جیتنے کی پالیسی اختیار کرتی ہے تو پاکستان میں یہ پالیسی کیوں اختیار نہیں کی جا سکتی۔ میں نے کمیشن کو 24مئی 2007ء کے کیپٹل ٹاک کی کاپی دی۔ اس پروگرام میں حکومت کے ایک وزیر طارق عظیم میرے ساتھ لال مسجد میں مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہے تھے اور دونوں بھائیوں نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ بعد ازاں مذاکرات شروع ہوئے۔ بار بار کامیاب ہوئے لیکن مشرف نے بار بار مذاکرات کو ناکام کر دیا۔ میں نے کمیشن کو 19جولائی 2007…

21 Feb 6:05 AM 2 Read More...
20 Feb 8:40 AM 11 Read More...

Who is contributing in the conspiracy to delay elections?

Naveed Qamar, Ahsan Iqbal, Hasil Bizenjo and Wasim Akhtar…

19 Feb 9:12 PM 20 Read More...

آخری سازش…قلم کمان …حامد میر

طبیعت انتہائی بوجھل ہے، کل رات سے ناکامی کا احساس ہتھوڑا بن کر دل و دماغ پر برس رہا ہے۔ رات بستر پرکروٹیں بدلتے ہوئے کئی مرتبہ خود کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی کہ کوئٹہ میں ایک اور خود کش حملے میں ہزارہ برادری کے 80 سے زائد افراد کی موت حکومت کی ناکامی ہے۔ میری نہیں لیکن دل کہہ رہا تھا کہ یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کی ناکامی ہے جسے کوئٹہ اور بلوچستان کے بارے میں کچھ سچائیوں کا عمل ہے لیکن وہ پورا سچ سامنے نہیں لاتا۔پورا سچ بولنے والوں کو ملک دشمن ،علیحدگی پسندوں کا ساتھی اور کرپٹ قرار دیا جاتا ہے پھر بھی کوئی سچ بولنے سے باز نہ آئے تو اسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، دھمکیاں کارگر ثابت نہ ہوں تو ہمارے خفیہ ادارے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات کا سہارا لیتے ہیں، اغواء اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو گاڑی میں بم نصب کروا کر کسی نان اسٹیٹ ایکٹر سے کہا جاتا ہے کہ تم ذمہ داری قبول کرلو۔ ریاستی اداروں اور غیر ریاستی عناصر کی یہ کوارڈی نیشن عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ عام لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ غیر ریاستی عناصر ہمارے ریاستی اداروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہوتے ہیں لیکن جب کوئی مجھ جیسا بے وقوف یہ پوچھ بیٹھے کہ ریاستی اداروں پر حملوں کے ذمہ دار کوئٹہ اور بنوں کی جیلوں سے کیسے بھاگ نکلتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مجھ جیسے صحافیوں کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش ان طاقتور شخصیات کی طرف سے ہوتی ہے جو امریکہ سے وار کورس کرتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان میں ڈرون حملے کراتے ہیں اور امریکیوں کے دباؤ پر اپنی مدت ملازمت میں توسیع بھی پاتے ہیں لیکن جب کوئی پاکستانی یہ پوچھ بیٹھے کہ تم لوگ سیاستدانوں اور صحافیوں کی نقل و حرکت پر تو نظر رکھتے ہو لیکن آئے دن پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو بم دھماکوں میں اڑانے والے انسانیت دشمن عناصر کا پتہ کیوں نہیں چلاتے؟جواب میں کہا جاتا ہے ہم تو دہشتگردوں کو پکڑ لیتے ہیں لیکن میڈیا اور عدلیہ ان دہشتگردوں کو لاپتہ افراد قرار دے کر ان کی مدد کرتی ہے۔ میڈیا اور عدلیہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ملکی قانون کے تحت گرفتار افراد کو عدالتوں میں پیش کرو لیکن خفیہ ادارے گرفتار افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ اکثر گرفتار افراد بے گناہ ہوتے ہیں۔اصلی دہشتگردوں کو یا تو جیلوں سے بھگا دیا جاتا ہے یا پھر وہ گرفتار ہی نہیں ہوتے۔ خفیہ اداروں میں سب لوگ برے نہیں ، اکثریت اچھے لوگوں کی ہوتی ہے لیکن یہ اچھے لوگ آگے نہیں جاتے کیونکہ انہیں سازش کرنا اور جھوٹ بولنا نہیں آتا۔ خفیہ اداروں کے طاقتور عہدوں تک عام طور پر وہ لوگ پہنچتے ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے دشمنوں کے ہاتھ میں کھیلنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے کیلئے صرف اپنی وفاداری بیچنا ضروری نہیں ہوتا، نااہلی اور غفلت کا مظاہرہ بھی دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہے۔
دشمن بار بار کراچی سے کوئٹہ اور بنوں سے پشاور تک بم حملے کرے اور ہمارے خفیہ ادارے ذمہ داروں کا سراغ لگانے میں ناکام رہیں۔ پولیس، رینجرز ،ایف سی اور فوج کو پتہ ہی نہ چلے کہ کب کوئی دہشتگرد ایک ہزار کلو بارودی مواد واٹر ٹینکر میں بھر کر کوئٹہ میں داخل ہوگیا تو کیا ان اداروں کے سربراہان سے پوچھ گچھ نہیں ہونی چاہئے؟ کیا ان کے خلاف انکوائری نہیں ہونی چاہئے؟ ہمارے خفیہ اداروں نے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا کے اکثر علاقوں کو میڈیا کیلئے نوگو ایریاز بنا رکھا ہے۔ میں نے گواردر اور تربت سے لے کر کوئٹہ تک خفیہ اداروں اور سیکورٹی اداروں کے ظلم و ستم کی ایسی ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ اوسان خطا ہوگئے۔ اس ظلم و ستم کا تعلق لوٹ مار سے ہے۔ جرائم پیشہ افراد کیساتھ ملکر اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کی جاتی ہیں۔ کوئٹہ پولیس کے پاس طاقتور خفیہ اداروں کے کچھ افسران کیخلاف ایسے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جن کے مطابق بعض اوقات کسی سے مہنگی گاڑی چھیننے کیلئے اس کے مالک کو لاپتہ کردیا جاتا ہے۔چند ماہ قبل مجھے کوئٹہ میں ایک پولیس افسر نے خفیہ اداروں، ایف سی اور کچھ شدت پسند تنظیموں کے غیر اعلانیہ تعاون سے متعلق خوفناک حقائق بتائے۔ اس افسر نے مجھے بتایا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کی اصل وجہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ کچھ سرکاری اہلکار شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ہزارہ برادری سے ان کی جائیدادیں چھین رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں ہزارہ برادری کے علاوہ ہندوؤں، پارسیوں اور پنجابیوں کے علاوہ بلوچوں سے بھی جائیدادیں چھینی جارہی ہیں اور بلوچ علاقوں میں پشتونوں سے جائیداد چھینی جاتی ہے۔ بلوچستان کی بدامنی کا اصل فائدہ لینڈ مافیا اور پراپرٹی مافیا اٹھا رہا ہے جس کی کوئی زبان، نسل، قومیت ا ور فرقہ نہیں۔ اس بہادر پولیس افسر نے مجھے کچھ ثبوت مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔ اگلے دن مجھے اپنی ایک آئینی درخواست پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں حاضر ہونا تھا، جب میں عدالت کے احاطے میں داخل ہوا تو کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کردیا۔ موقع پر موجود وکلاء مجھے بچا کرعدالت میں لے گئے، عدالت میں وہ بہادر پولیس افسر موجود تھا۔ اس نے مجھے احتیاط کا مشورہ دیا لیکن میں نے اصرار کیا کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعات سے فائدہ اٹھا کر پچھلے چار سال میں سب سے زیادہ جائیدادیں خریدنے والوں کے متعلق ثبوت مجھے ضرور دئیے جائیں۔ بہادر پولیس افسر نے کہا کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔افسوس کہ میرے ساتھ ملاقات کے بعد چند دنوں کے اندر اندر اس افسر کو شہید کردیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیکورٹی ادارے اور خفیہ ادارے اگر چاہیں تو کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کو روک سکتے ہیں لیکن اگر حملے رک گئے تو ہزارہ برادری کے بھائی بہن کوئٹہ سے ہجرت چھوڑ دینگے اپنی جائیدادیں اونے پونے داموں فروخت نہیں کرینگے۔ بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے 16فروری کے خود کش حملے میں80…

18 Feb 5:54 AM 1 Read More...