Archive for March, 2017
14 Feb 10:27 AM 5 Read More...

Professor Ibrahim Khan, Afrasiab Khattak, Tahira Abdullah and Kashmala Tariq…

14 Feb 8:58 AM 0 Read More...
12 Feb 10:55 AM 551 Read More...

What is the future of Tahir Ul Qadiri?

Farooq H. Naek, Asma Jehangir and Barrister Akram Sheikh…

12 Feb 7:10 AM 4 Read More...

لاش کی جیت…قلم کمان …حامد میر

یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں ریاست نے ایک شخص کو دہشتگرد قرار دے کر قتل کردیا اور پھر مقتول کی لاش سے بھی خوفزدہ ہوگئی۔لاش کو مقتول کے لواحقین کے حوالے کرنے کی بجائے جیل میں ہی دفن کردیا جاتا ہے۔ ایک لاش سے خوفزدہ ریاست زندہ انسانوں کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے؟ یہ کوئی چھوٹی موٹی ریاست نہیں ہے بلکہ یہ ریاست دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت ہے۔ بھارت کی حکومت نے ایک کشمیری نوجوان افضل گرو کو9فروری کو دہشتگردی کے الزام میں پھانسی دیکر اس کی لاش خاندان کے حوالے نہیں کی بلکہ افضل گرو کہ تہاڑ جیل دہلی میں دفن کردیا۔ یہ وہی جیل ہے جہاں گیارہ فروری1984ء کو کشمیری رہنما مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی اور انہیں بھی تہاڑ جیل میں دفن کردیا گیا۔29/سال پہلے بھا رتی حکومت مقبول بٹ کی لاش سے خوفزدہ تھی اور 29سال کے بعد افضل گرو کی لاش سے خوفزدہ ہے۔ بھارتی حکومت آج وہیں کھڑی ہے جہاں29/سال پہلے کھڑی تھی لیکن کشمیری کافی آگے نکل چکے ہیں۔ پچھلے29سال میں لاکھوں کشمیری بھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بنے، کئی افضل گرو شہید ہوئے لیکن کشمیریوں کا جذبہ حریت ماند نہ پڑسکا۔بھارتی حکومت نے افضل گرو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر تحریک آزادی کشمیر کو ایک اور شہید دیدیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افضل گرو کی پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افضل گرو کو اس کی مرضی کا وکیل مہیا نہیں کیا گیا اور اسکے خلاف مقدمے کی سماعت میں کئی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔ بھارت میں کانگریس کی حکومت نے افضل گرو کو پھانسی پر لٹکا کر آنے والے انتخابات میں ہندو ووٹ کو پکا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارتی حکومت نے افضل گرو کی پھانسی کے ردعمل کو سمجھنے میں سنگین غلطی کی۔بھارتی حکومت افضل گرو کو اجمل قصاب سمجھ بیٹھی حالانکہ دونوں میں بہت فرق تھا۔ اجمل قصاب ایک پاکستانی تھا، اس نے ممبئی میں ا یک فائیو اسٹار ہوٹل پر حملہ کیا جس میں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ اجمل قصاب کو ایک عام سے ڈنڈابردار پولیس والے نے آسانی سے پکڑ لیا اور گرفتاری کے چند گھنٹوں کے اندر اندر اجمل قصاب نے بھارتی پولیس کو سب کچھ بتادیا کہ وہ کون تھا اور کہاں سے آیا تھا۔اجمل قصاب کے لئے پاکستان اور کشمیر میں کوئی ہمدردی دیکھنے میں نہ آئی۔ پھانسی کے بعد کچھ لوگوں نے پاکستان میں اس کی نماز جنازہ ضرور ادا کی لیکن ان لوگوں میں اتنی اخلاقی جرأت نہ تھی کہ اپنے مرحوم ساتھی کی لاش اس کے خاندان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے۔بھارتی حکومت اجمل قصاب کی لاش دینے کیلئے تیار تھی لیکن جب کوئی نہ آیا تو ایک مولوی صاحب کے ذریعہ لاش کو نامعلوم مقام پر دفن کردیا گیا۔بھارتی حکومت کا خیال تھا کہ جس طرح اجمل قصاب کی پھانسی پر کوئی ردعمل نہیں آیا افضل گرو کی پھانسی پر بھی ردعمل سامنے نہیں آئے گا لیکن یہ بہت بڑی غلطی تھی، پھانسی کے فوراًبعد بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔
افضل گرو اور اجمل قصاب میں کیا فرق تھا؟ اجمل قصاب ایک نیم خواندہ دیہاتی نوجوان تھا جو چند تھپڑ بھی برداشت نہ کرپایا اور گرفتاری کے بعد پوری پاکستانی قوم کیلئے شرمندگی کا باعث بن گیا۔افضل گرو ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ پچھلے پانچ سال کے دوران تہاڑ جیل میں کئی مرتبہ بھارتی حکومت نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ 13دسمبر2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی تمام ذمہ داری پاکستان پر ڈال دے تو اسے موت کے گھاٹ نہیں اتارا جائیگا۔ افضل گرو نے اپنی زندگی بچانے کیلئے پاکستان کو بدنام کرنے سے معذرت کرلی۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ ایک بھارتی صحافی کو حکومت کی طرف سے پیشکش کی گئی کہ اس کی جیل میں افضل گرو سے ملاقات کرائی جاسکتی ہے اور اس ملاقات میں افضل گرو یہ کہے گا کہ اس نے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا منصوبہ آئی ایس آئی کے کہنے پر بنایا۔ بھارتی صحافی نے یہ ملاقات کرنے سے معذرت کرلی۔ بعدازاں ایک اور صحافی کو جیل میں افضل گرو سے ملاقات کرائی گئی لیکن افضل گرو نے پاکستان پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ بھارتی منصوبہ ناکام ہوگیا۔
آپ کو یہ سن کر حیرانگی ہوگی کہ افضل گرو پاکستان کے ریاستی اداروں کی پالیسیوں سے خوش نہیں تھا لیکن وہ پاکستانی عوام کی نظروں میں غدار نہیں بننا چاہتا تھا۔ اس کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے علاقے سوپور سے تھا۔ سو پور کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ افضل گرو ایک ذہین نوجوان تھا اور کشمیر کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا طالبعلم تھا۔ مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا تو پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے خود مختار کشمیر کی حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی مدد شروع کردی۔ جے کے ایل ایف کا پھیلایا ہوا لٹریچر پڑھ کر افضل گرو کے دل میں بھی آزادی کا جذبہ ٹھاٹھیں مارنے لگا اور ایک دن وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ لائن آف کنٹرول عبور کرکے آزاد کشمیر آگیا۔ یہاں آیا تو کچھ ہی دنوں میں مایوس ہوگیا، اسے محسوس ہوا کہ پاکستانی ریاست پر قابض عناصر کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ صرف اور صرف کشمیر کے نام پر بھارتی فوج کو ایک محاذ پر پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ واپس سوپور چلا گیا اور اس نے بھارتی فوج کے سامنے سرینڈر کردیا۔ وہ ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتا تھا لیکن سرینڈر کے بعد اسے ذلت و رسوائی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ کبھی راشٹریہ رائفلز اور کبھی جموں و کشمیر پولیس اسے پکڑ کر لے جاتی تھی۔ راشٹریہ رائفلز کا میجر رام موہن رائے اس کے جسم کے نازک اعضاء کو بجلی کے جھٹکے دیتا۔ ایک دفعہ ڈی ایس پی دونیدر سنگھ نے اسے پکڑ کر پولیس والوں کی گندی لیٹرین صاف کرائی۔ افضل گرو کی بیوی نے کئی مرتبہ اپنے زیور اور گھر کا سامان بیچ کر رقم پولیس کو دی اور خاوند کو رہا کرایا لیکن افضل گرو کو بار بار گرفتار کیا جاتا تھا۔ 13دسمبر2001…

11 Feb 6:24 AM 3 Read More...