Archive for March, 2017

بلوچستان کے سردار…قلم کمان …حامد میر

بلوچستان کے اکثر علاقوں میں خوف اوردہشت کے باعث سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابرہیں۔ دوماہ کے بعد انتخابات ہونے والے ہیں لیکن بلوچستان کے عوام کو یقین ہی نہیں آتا کہ ان کے صوبے میں فیئر اینڈ فری الیکشن منعقد ہوسکتاہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکے ہیں لیکن ریاستی اداروں کی سرپرستی میں چلنے والے کچھ پرائیویٹ لشکر ان قوم پرست جماعتوں کوالیکشن سے دوررکھنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے قوم پرستوں کوایک طرف سے ریاستی اداروں کی ڈبل گیم کا سامناہے اور دوسری طرف ناراض بلوچ عسکریت پسند بھی انہیں غدار قرار دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے شورش زدہ علاقے خضدار کی گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں سے گفتگو کے بعدمیں اس نتیجے پرپہنچاہوں کہ اگر 2013میں بلوچ قوم پرستوں کوالیکشن میں حصہ لینے کاموقع نہ ملاتوپھر بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل رکھنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ آج کل بلوچستان کے بڑے سردارالیکشن کے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اوراپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پارٹیاں بدل رہے ہیں۔ پارٹیاں بدلنے سے ان سرداروں کو توفائدہ مل سکتا ہے لیکن بلوچستان اور پاکستان کے فائدے کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بھائی لشکری رئیسانی نے رکن قومی اسمبلی ہمایوں عزیز کرد سمیت کئی ساتھیوں کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ لشکری رئیسانی اپنے بڑے بھائی اسلم رئیسانی سے خاصے مختلف ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر تھے۔ انہوں نے کئی معاملات پر وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیرداخلہ رحمن ملک اور صدر آصف علی زرداری کے ساتھ اختلاف کیا۔ انہیں مرکز میں ایک وزارت دے کر چپ کرانے کی کوشش ہوئی لیکن انہوں نے پارٹی کی صدارت چھوڑ دی۔ ان کے والد غوث بخش رئیسانی نے بھی کئی پارٹیاں بدلیں۔ اب لشکری رئیسانی پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) میں آگئے ہیں۔ میں ذاتی طورپر ان کی بہت قدرکرتاہوں لیکن میری ناقص رائے میں ان کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں۔ انہوں نے الیکشن سے صرف چند ہفتے قبل پارٹی بدل کریہ تاثر قائم کیاکہ ان کے لئے بھی اصل اہمیت سیاسی ہوا کے رخ کی تھی۔ وہ یہ فیصلہ کچھ پہلے کرلیتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔
بلوچستان کی سیاست پرگہری نظر رکھنے والے کئی مبصرین کا خیال ہے کہ لشکری رئیسانی کے مسلم لیگ (ن) میں آنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ مل کر صوبے کے حالات بہتر بنانا چاہتے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ایک پرانے دشمن سرداریار محمدخان رند کو مسلم لیگ (ن) میں آنے سے روکنا چاہتے تھے۔ سردار یارمحمد رند اور لشکری رئیسانی کے خاندان میں دشمنی کا آغاز 1983میں ہوا تھا جب بلدیاتی انتخابات میں رند قبیلے کے کچھ لوگ مارے گئے۔ 1985میں تاج محمد رند قومی اسمبلی اور یار محمد رند سنیٹربن گئے جس کے بعد غوث بخش رئیسانی کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال ہوا ور وہ کچھ عرصہ کے لئے افغانستان چلے گئے۔ واپس آئے تو 1987میں ایک حملے میں انہیں قتل کردیاگیا۔ اس حملے میں اسلم رئیسانی زخمی ہوئے۔ اس قتل کا الزام تاج محمد رند اور یار محمد رند کے علاو ہ نواب اکبر بگٹی پر بھیلگایا گیا کیونکہ یارمحمد رند کی نواب اکبر بگٹی سے خاصی قربت تھی۔ پھرتاج محمد رند قتل ہوئے تو ان کی ایک بیوہ نے قتل کا الزام یار محمد رند پر لگا دیا۔یار محمدرند اسے دشمنوں کی سازش قرار دیتے رہے۔ یہ دشمنی چلتی رہی اور یار محمد رند کے صاحبزادے اور سسر کو قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام رئیسانیوں پرلگایا۔ جنرل پرویز مشرف کے دورمیں سردار یارمحمد رند کا پلڑا بھاری تھا اور پچھلے پانچ سال میں رئیسانیوں کا پلڑا بھاری تھا۔ سردار یار محمد رند پانچ سال میں صرف ایک دفعہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرسکے کیونکہ صوبائی حکومت نے ان پر درجنوں مقدمے درج کئے۔ پچھلے دنوں ان کے چوہدری نثار علی خان کے ساتھ رابطے شروع ہوئے اور یہ خبر پھیل گئی کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ یار محمد رند حتمی فیصلے کے لئے اختر جان مینگل کی واپسی کے انتظار میں تھے کیونکہ انہوں نے مینگل صاحب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے کا اعلان ان کی واپسی پر کریں گے لیکن لشکری رئیسانی زیادہ تیز نکلے۔ وہ یارمحمد رند کے سیاسی حریف ہمایوں عزیز کرد کے ساتھ مسلم لیگ (ن) میں جا دھمکے۔ کیا یارمحمد رند اور لشکری رئیسانی ایک ہی پارٹی میں اکھٹے ہوسکتے ہیں؟ اگر ایسا نہ ہوسکا تو رندوں اور رئیسانیوں کے مابین دشمنی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ قبائلی دشمنیاں بلوچستان کی سیاسی قوتوں کے اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔انہی قبائلی دشمنیوں کا ریاستی اداروں نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا اور جہاں دشمنی نہ ملی وہاں زبردستی دشمنی پیدا کردی گئی۔
1963 میں سردار عطا اللہ مینگل نے قومی اسمبلی میں جنرل ایوب خان کے خلاف ایک تقریرکی جس پر وہ ناراض ہوگئے۔ انہوں نے سردار عطا اللہ مینگل صاحب کے ایک رشتہ دار کرم خان کو زبردستی مینگل قبیلے کاسردار بنا دیا جو کچھ عرصہ بعد قتل ہوگئے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں سردارعطا اللہ مینگل کے مقابلے پر نصیرمینگل کولایا گیا۔ نصیر مینگل ق لیگ کے سنیٹر ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی اکبر مینگل بی این پی مینگل گروپ میں ہیں۔ سردار ثنا اللہ زہری مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی اسرار اللہ زہری بی این پی عوامی میں شامل ہیں جو مشرف دور میں بنائی گئی۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ سردار ثنا اللہ زہری اور چنگیز مری ایسے وقت میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوئے جب سیاسی ہواکا رخ مخالف سمت میں تھا۔ بلوچستان کے حالات کو وہی سیاستدان تبدیل کرسکتے ہیں جو طاقتور ریاستی اداروں کے مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیں، جو کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرنے والے دوغلے چہروں کو بے نقاب کریں اور جو واقعی بلوچستان میں مثبت تبدیلی لانے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں سردار فی الحال ایک ایسی حقیقت ہیں جس سے فوری طور پر چھٹکارا پانا ممکن نہیں۔ کئی سردار اپنی قبائلی دشمنیوں میں الجھ کر عوام کو بھول جاتے ہیں۔ دشمن پر برتری حاصل کرنے کیلئے ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں۔ کچھ سردار ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بنتے لیکن اپنی انا کے غلام بن کر عوام سے دور ہوجاتے ہیں۔ سرداروں کو اپنی قبائلی دشمنیاں ختم کرنا ہوں گی۔ عوامی سیاست کیلئے عوامی انداز اختیارکرناہوگا تاکہ بلوچستان میں خوف اوردہشت ختم ہو۔ بلوچستان کو قومی دھارے میں واپس لانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو چاہئے کہ بلوچستان میں گن پوائنٹ پر سیاست کرنے والوں کا راستہ روکے۔

&nbsp…

07 Mar 6:02 AM 4 Read More...

Capital Talk from Abbas Town, Karachi…

06 Mar 6:06 AM 0 Read More...

Hamid Mir explores stories inside Khuzdar in today’s program…

05 Mar 7:05 AM 0 Read More...

ایک دن خضدار میں…قلم کمان ……..حامد میر

موجودہ قومی اسمبلی کے ارکان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کے منتخب ایوان نے پانچ سال مکمل کر لئے ہیں اور یہ جمہوریت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی پچھلے دنوں جمہوری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ آئندہ انتخابات اپنے وقت پر ہونگے۔ آرمی چیف نے یہ خواہش بھی ظاہر کی تھی کہ بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایک ہی دن انتخابات منعقد ہونے چاہئیں، ہر محب وطن پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے لیکن میں انتہائی دکھ اور افسوس کےساتھ یہ لکھ رہا ہوں کہ بلوچستان کو قومی دھارے میں لانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی اور آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد بلوچستان میں جتنے سیاسی کارکن لاپتہ ہوئے اور جتنی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر گرائی گئیں وہ فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے مقابلے پر کئی گنا زیادہ تھیں، میں نے خضدار میں صرف ایک دن اور ایک رات گزاری، اتنی گھٹن، اتنا خوف اور اتنی دہشت مجھے فلسطین، لبنان، عراق اور افغانستان میں بھی محسوس نہ ہوئی، مجھے بتایا گیا تھا کہ خضدار پریس کلب کھل گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ خضدار پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبدالحق بلوچ کے قتل کے بعد اسی پریس کلب کے صدر ندیم گرگناڑی کے دو جوان بیٹوں کو قتل کیا گیا۔ ہم اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کے قتل پر مذمت کرتے رہتے ہیں خضدار جا کر مظلوم ساتھیوں کے خاندانوں کے ساتھ تعزیت کرنی چاہئے۔ لمبا سفر طے کرکے خضدار پہنچا تو پریس کلب بند تھا۔ بڑی مشکل سے عبدالحق بلوچ کے ایک بھائی کو ڈھونڈا اور ان سے تعزیت کی، جس سے بھی ملا اس نے ایک ہی سوال پوچھا کہ آپ یہاں کیسے پہنچ گئے؟ آپ واپس کیسے جائینگے؟ آپ نے اتنا خطرہ کیوں مول لیا؟ مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ لوگ خضدار کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں فوج کا ایک بھی سپاہی کہیں کسی آپریشن میں شامل نہیں۔ خضدار جا کر معلوم ہوا کہ فوج کے خفیہ ادارے یہاںکھلم کھلا آپریشن کرتے ہیں۔ کبھی ایف سی کو استعمال کرتے ہیں اور کبھی کسی پرائیویٹ لشکر کو استعمال کرتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کو اسلام اور پاکستان کے نام پر سیاسی جماعتوں کےخلاف سازشوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ یہ باتیں سنی سنائی نہیں ہیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے خضدار میں دیکھ لیا کہ ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی کیا حیثیت ہے؟
میں نے خضدار سے قومی اسمبلی کے رکن محمد عثمان ایڈووکیٹ سے درخواست کی تھی کہ مجھے مقامی سیاستدانوں سے ملوا دیں۔ میں جمعیت علماءاسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، انجمن تاجران، بار ایسوسی ایشن اور کچھ سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ملنے سرکٹ ہاﺅس کی طرف روانہ ہوا تو ایک چیک پوسٹ پر ایف سی کے جوان نے پوچھا کہ کون ہو؟ محمد عثمان نے کہا کہ خضدار کا ایم این اے ہوں، ایف سی والے نے کہا کہ سروس کارڈ دکھاﺅ۔ ایم این اے نے کہا کہ ہمارا سروس کارڈ نہیں ہوتا، ایف سی والے نے تحکمانہ انداز میں کہا بحث مت کرو اور اپنی شناخت بتاﺅ۔ ایم این اے صاحب نے اسلام آباد کلب کا کارڈ دکھا کر جان چھڑائی، میں نے عثمان صاحب سے کہا کہ آپ نے قومی اسمبلی کا کارڈ کیوں نہ دکھایا؟ موصوف نے بڑی شرمساری سے کہا کہ میں نے کم از کم قومی اسمبلی کے کارڈ کی توہین تو نہیں ہونے دی۔ ایف سی کی چیک پوسٹوں سے گزر کر ہم سرکٹ ہاﺅس پہنچے، ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ کمشنر خضدار نے مجھے اطلاع دی کہ آپ کے خلاف روڈ بلاک ہو گئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کہاں روڈ بلاک ہوئی ہے؟ کہنے لگے کہ سرکٹ ہاﺅس کے باہر، میں حیرانگی کے عالمی مبں باہر آیا تو چھ باریش نوجوانوں اور آٹھ خواتین نے روڈ بلاک کی ہوئی تھی، میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ ایک نوجوان نے بڑے غصے اور حقارت سے کہا کہ ہم پاکستان کے سپاہی ہیں، پھر بی ایل اے کے خلاف نعرے بازی شروع ہو گئی، میں نے ان نوجوانوں سے کہا کہ میں بی ایل اے کو تو نہیں مل رہا، پاکستان کے آئین کو ماننے والی جماعتوں کے نمائندوں کو مل رہا ہوں تو ان نوجوانوں نے اختر جان مینگل کو گالیاں دینی شروع کیں۔ میں نے دائیں بائیں جائزہ لیا تو پولیس بے بس نظر آئی، سامنے ایف سی ہیڈ کوارٹر تھا اور ایف سی والے مسکرا مسکرا کر اپنے مجاہدین کی کارکردگی پر خوش ہو رہے تھے۔ بظاہر یہ باریش نوجوان اور برقع پوش خواتین اپنے آپ کو کچھ شہید پولیس والوں کے لواحقین قرار دے رہے تھے لیکن مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان نوجوانوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے اور اس تنظیم کو آئی ایس آئی کنٹرول کرتی ہے۔ میں نے ڈی آئی جی فصیح الدین سے کہا کہ آئی ایس آئی کے مقامی افسران کو پیغام دو کہ خضدار کے سیاسی نمائندوں سے ملنا کوئی جرم نہیں اپنے آدمیوں کو یہاں سے ہٹاﺅ۔ ڈی آئی جی نے ایک ایس ایچ او سے کہا کہ روڈ کلیئر کراﺅ لیکن کالعدم تنظیم کے باریش نوجوانوں نے ڈی آئی جی کے حکم کو ہنسی میں اڑا دیا۔ایس ایچ او بار بار ایف سی والوں کی طرف دیکھتا رہا لیکن وہ صرف مسکراتے رہے۔ میں نے پولیس والوں کو مزید امتحان میں نہیں ڈالا اور موقع سے ہٹ گیا۔ ریاستی اداروں کی طرف سے ایک کالعدم تنظیم کی سرپرستی کے باعث خضدار پولیس مکمل طور پر بے بس اور لاچار تھی۔ ڈی آئی جی فصیح الدین لکھنے پڑھنے والے آدمی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ریاستی اداروں کی پھیلائی ہوئی اس گندگی کو چھوڑو، میں نے سنا ہے کہ خضدار میںکسی صحابیؓ رسول کا مزار ہے مجھے اس مزار پر لے چلو، فصیح الدین مجھے خضدار شہر کے عقب میں واقع حضرت سنان بن سلمہ محبقؓ کے مزار پر لے گئے، بعض مو ¿رخین کا دعویٰ ہے کہ حضرت سنانؓ کا مزار پشاور میں ہے جو چغرمٹی کے قریب اصحاب بابا کے مزار کے نام سے مشہور ہے، فصیح الدین اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور مولانا ابو طفر ندوی کی ”تاریخ سندھ“ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ صحابیؓ رسول حضرت سنان نے خاران اور خضدار کو فتح کیا، فصیح الدین کی تحقیق کے مطابق حضرت سنانؓ مکران کی طرف سے خضدار آئے اور یہ واقعہ محمد بن قاسم سے پہلے کا ہے اور اسلئے پروفیسر ڈاکٹر رضوان علی ندوی کا خیال ہے کہ باب الاسلام سندھ نہیں بلکہ بلوچستان ہے۔ مشہور مورخ بلاذری کا کہنا ہے کہ حضرت سنانؓ کی وفات خضدار میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عبدالرحمن براہوی نے اپنی کتاب ”بلوچستان میں صحابہ کرامؓ“ میں حضرت سنانؓ کی پرانی قبر کی تصویر بھی شائع کی ہے جو اب پختہ کر دی گئی ہے۔ اگر فصیح الدین کی تحقیق درست ہے تو پھر ہمیں اپنی نصابی کتب پر نظرثانی کرنی چاہئے جن میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ کو باب الاسلام بنایا، حضرت سنانؓ کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد واپس خضدار شہر آ گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ سیاہ شیشوں والی ایک ٹویوٹا کار میں مسلح افراد میرا پیچھا کر رہے ہیں۔ میں نے یہ اطلاع دینے والے سے کہا کہ ایف سی والوں کی نظروں کے سامنے اس کار میں موجود افراد مجھ پر حملہ کر دیں تو اس کی ذمہ داری بھی بی ایل اے پر ڈال دو گے؟ یہ سن کر اطلاع دینے والے نے کہا کہ ہم سول انتظامیہ کے لوگ خفیہ اداروں اور ریاست مخالف عسکریت پسندوں کی لڑائی میں سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔ عدالتوں میں جواب طلبی ہماری ہوتی ہے بے عزتی بھی ہماری ہوتی ہے آج تک کسی وردی والے کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی آپ مہربانی کریں اور یہاں سے چلے جائیں۔ خضدار کی سول انتظامیہ میری وجہ سے خاصی پریشان تھی انہیں خدشہ تھا کہ کسی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں جواب طلبی کمشنر یا ڈی سی کی ہو گی، ایف سی یا آئی ایس آئی سے کوئی نہیں پوچھے گا لہٰذا میں گاڑیاں بدلتا ہوا خضدار سے نکل گیا۔ گزارش یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ یہ دھاندلی بلوچستان میں ہو گی جہاں خفیہ ادارے اپنی پالتو کالعدم تنظیموں کے ذریعہ اپنے ناپسندیدہ سیاستدانوں کے ساتھ مارا ماری کریں گے اور ذمہ داری بی ایل اے قبول کیا کرے گی۔

&nbsp…

04 Mar 6:13 AM 5 Read More...
01 Mar 12:52 PM 2 Read More...