پیپلز پارٹی کی اصل طاقت ؟

ایک زمانہ تھا جب پیپلز پارٹی سیاست و صحافت میں سیکرٹ فنڈز کے استعمال کی مخالفت کیا کرتی تھی۔ 1990ء کے ا نتخابات میں آئی ایس آئی کے سیکرٹ فنڈ کے ذریعہ پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی تو محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ انتخابات کو چرا لیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے کئی مرتبہ وفاقی وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ پر بھی تنقید کی۔ افسوس کہ آج پیپلز پارٹی کے کچھ وزراء سیکرٹ فنڈ کو اپنی اصل طاقت سمجھتے ہیں اور سیکرٹ فنڈ کی مخالفت کرنے والوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کو بتایا کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہے۔ ڈاکٹروں نے آپریشن تجویز کیا ہے لیکن مالی حالات آپریشن کی اجازت نہیں دیتے لہٰذا اس کی مدد کی جائے۔وزیر اطلاعات چاہتے تو صحافی کی مدد کا راستہ نکال سکتے تھے لیکن انہوں نے جھٹ سے ا س بے چارے کو کہا کہ آپ حامد میر کے پاس جائیں میرے پاس کیا لینے آئے ہیں؟ صحافی نے کہا کہ میں حامد میر کے پاس کیوں جاؤں؟ وزیر اطلاعات صاحب نے کہا کہ ہمارا ایک سیکرٹ فنڈ ہوا کرتا تھا ہم صحافیوں کی مدد وہیں سے کرتے تھے لیکن حامد میر اور ابصار عالم نے سپریم کورٹ میں ہمارے خلاف درخواست دائر کرکے اس سیکرٹ فنڈ کو منجمد کرادیا ہے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ آپ حامد میر کے پاس جاکر روئیں یا جاکر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو اپنا دکھڑا سنائیں۔ وزیر اطلاعات ہونے کے باوجود کائرہ صاحب کو آج تک معلوم نہیں کہ ہماری درخواست کی سماعت چیف جسٹس صاحب نے نہیں جسٹس خلجی عارف اور جسٹس جواد ایس خواجہ نے کی تھی اور سیکرٹ فنڈ منجمد کرنے کا حکم بھی انہی دو جج صاحبان نے جاری کیا تھا۔ میرا جرم صرف اتنا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ تمام ٹی وی اینکرز، چینل مالکان اور اشتہاری ایجنسیوں کا احتساب ہونا چاہئے کیونکہ آئندہ انتخابات میں میڈیا پر اثر انداز ہونے کے لئے اربوں روپے کے سیکرٹ فنڈ تشکیل دئیے جارہے ہیں۔ میں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وزارت اطلاعات سے پوچھا جائے کہ اس کا سیکرٹ فنڈ کہاں کہاں اور کیسے کیسے استعمال ہوتا ہے؟ سپریم کورٹ نے و زارت اطلاعات سے سیکرٹ فنڈ کی تفصیل پوچھی تو قومی مفاد کے نام پر تفصیل بتانے سے انکار کردیا گیا۔ جب ہم نے کچھ تفصیل عدالت کو بتائی تو وزارت نے کہا کہ سیکرٹ فنڈ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک معزز جج نے پوچھا کہ اگر یہ فنڈ صحافیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے تو پھر اسے سیکرٹ فنڈ کی بجائے ویلفیئر فنڈ کیوں نہیں کہا جاتا؟ وزارت اطلاعات کے وکیل کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وکیل صاحب نے یہ اعتراف بھی کیا کہ سیکرٹ فنڈ کے علاوہ سپیشل پبلسٹی فنڈ کا حساب کتاب بھی خفیہ رکھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کائرہ صاحب کو صحافیوں کی فلاح و بہبود کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ سیکرٹ فنڈ کو ویلفیئر فنڈ میں تبدیل کیوں نہیں کرتے؟ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ سیکرٹ فنڈ کا اصل مقصد کیا ہے؟2002ء میں پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر حسین بخاری نے وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ کے غلط استعمال کے خلاف ایک ریفرنس احتساب بیورو کو بھجوایا تھا۔ 2002ء کے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی نے جو منشور جاری کیا تھا اس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اقتدار میں آکر وزارت اطلاعات ختم کردی جائے گی تاکہ میڈیا میں کرپشن کا راستہ روکا جائے۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ2008ء میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو اپنے اکثر وعدے بھول گئی۔ آج پیپلز پارٹی کا وزیر اطلاعات سیکرٹ فنڈ منجمد ہونے پر خود کو بے اختیار قرار دیتا ہے جس حکومت کے و زراء کی اصل طاقت سیکرٹ فنڈز بن جائیں اس حکومت پر آپ کتنا اعتماد کرسکتے ہیں؟ سیاسی حکومتوں کی اصل طاقت سیکرٹ فنڈز نہیں بلکہ ان کا سیاسی نظریہ ہوتا ہے؟ پیپلز پارٹی کا سیاسی نظریہ کدھر گیا؟ وہ منشور کدھر گیا جس میں وزارت اطلاعات کے خاتمے کا وعدہ شامل کیا گیا تھا؟ ایک زمانے میں کائرہ صاحب کی پہچان ان کا سیاسی نظریہ اور سیاسی کردار ہوا کرتا تھا۔ اب ان کی پہچان یہ ہے کہ ایک دن پریس کانفرنس میں ڈاکٹر طاہر القادری کی نقلیں اتارتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں اگلے دن اسی ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ لپٹ لپٹ جاتے ہیں۔ ایک دن اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں لیکن جب طالبان نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور سید منور حسن کو ضامن بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ نواز شریف نے انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔
زیادہ پرانی بات نہیں،1993…

25 Feb 6:36 AM 0 Read More...

میرا بیٹا کمانڈو بنے گا ... قلم کمان …حامد میر

آج
 مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ آئے روز کے بم دھماکوں اور قتل و غارت کے باعث اکثر پاکستانی پریشان ہیں۔ پچھلے دنوں کوئٹہ میں ہزارہ بہن بھائیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا اُس پر خود میں شرمندگی کا شکار رہا لیکن پھر اس تخریب میں سے تعمیر کے کئی پہلو نکل کر سامنے آئے۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر حملے کے بعد کراچی میں ایک سنی تنظیم کے کارکنوں پر حملہ ہوا۔ مقصد بڑا واضح تھا۔ ہمارے دشمن پاکستان میں شیعہ سنی فساد کرانا چاہتے تھے لیکن پاکستانی قوم فرقہ وارانہ بنیادوں پر آپس میں لڑنے کیلئے تیار نہیں ۔ مت بھولئے کہ دشمنوں کے حربے عراق اور شام میں کامیاب رہے۔ دشمن عراق اور شام کی طرح پاکستان میں مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے میں کامیاب ہے لیکن پاکستانی قوم نے اپنے شہروں اور قصبوں کو شیعہ اور سنی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونے دیا۔ ہزارہ شیعہ برادری پر حالیہ خودکش حملے کے خلاف پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں صرف شیعہ مسلمان شریک نہ تھے بلکہ سنی مسلمانوں نے بھی قاتلوں کے خلاف کھل کر نعرے لگائے۔
حالات خراب ضرور ہیں لیکن پھر بھی ایک حکومتی وفد اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچا اور خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دینے والے ہزارہ برادری کے زعماء کے ساتھ مذاکرات کئے۔ سپریم کورٹ نے اس واقعے پر از خود نوٹس لیا اور حکومتی اداروں کی ناکامی پر جواب طلبی کی۔ حکومتی اداروں نے بھی اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے کچھ ہاتھ پاؤں مارے۔ کوئٹہ کے سانحے نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی بجائے پہلے سے زیادہ متحد کر دیا ہے۔ وہ طاقتور ادارے جن سے کوئی جواب طلبی نہ کر سکتا تھا اب اُن سے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کو ناکام قرار دینا پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ میرا خیال ہے کہ خفیہ اداروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے خفیہ اداروں کے متعلق وہی کہا جو بلوچستان بدامنی کیس میں سپریم کورٹ بہت پہلے کہہ چکی تھی۔ اگر حکومت کئی ماہ قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خفیہ اداروں اور سکیورٹی فورسز سے جواب طلبی کرتی تو شاید کوئٹہ کے حالات اتنے نہ بگڑتے۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ تمام تر مشکلات اور خرابیوں کے باوجود پاکستان آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عدالتیں حکومت کی جواب طلبی کر رہی ہیں، میڈیا سیاستدانوں سے جواب طلبی کر رہا ہے اور سیاستدان میڈیا سے جواب طلبی کر رہے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک ایسا نہیں تھا۔
آپ کو یاد ہو گا کہ جولائی 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کیا تھا۔ اس خاکسار نے پہلے دن سے لال مسجد میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی تھی اور آپریشن کے بعد انہی کالموں میں عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ افسوس کہ عدالتی انکوائری نہ ہوئی۔ کئی سال گزرنے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی شرعی عدالت کے ایک معزز جج صاحب سانحہ لال مسجد کی انکوائری کر رہے ہیں۔ اس انکوائری کمیشن نے مجھے بھی طلب کیا۔ 19فروری کو انکوائری کمیشن کے سامنے میں نے اپنا بیان دیا اور معزز جج صاحب نے مجھ سے بھی کچھ سوالات کے جواب طلب کئے۔ مجھے سانحہ لال مسجد کے پس منظر اور پیش منظر کے متعلق بطور صحافی جو کچھ معلوم تھا میں نے بتا دیا۔ انکوائری کمیشن کے سامنے حکومت کے کئی طاقتور سیکرٹری صاحبان، مشرف دور کے وزراء اور دیگر شخصیات کی جواب طلبی بھی ہو رہی تھی۔ جس وقت مولانا فضل الرحمن خلیل کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے تھے تو پاکستان پر میرا یقین بڑھ رہا تھا۔ اللہ کے گھر دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے لال مسجد انکوائری کمیشن کے سامنے وہ حقائق بیان کر دیئے جوعام لوگ نہیں جانتے۔ مولانا صاحب نے چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ لال مسجد میں محصور عبدالرشید غازی صاحب کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات کئے تھے۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ عبدالرشید غازی جامعہ حفصہ  کی طالبات کے چلڈرن لائبریری پر قبضے کے خلاف تھے اور بطور احتجاج لال مسجد سے جامعہ فریدیہ چلے گئے تھے۔ انہوں نے مولانا صاحب کو جامعہ فریدیہ بلایا اور درخواست کی کہ وہ ان کے بھائی مولانا عبدالعزیز کو جا کر سمجھائیں۔ بعد ازاں غازی صاحب لال مسجد میں واپس آ گئے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اُن کی ہر کوشش کو حکومت نے ناکام بنا دیا۔ 7/ جولائی 2007ء کو عبدالرشید غازی نے مولانا فضل الرحمن خلیل سے رابطہ کیا اور کہا کہ چودھری شجاعت حسین پھر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اس مرتبہ آپ ان مذاکرات میں بطور گواہ شامل ہو جائیں اور ہماری نمائندگی کریں۔ فضل الرحمن خلیل نے دو موبائل فون لال مسجد کے اندر بھجوا دیئے اور ان کے ذریعے عبدالرشید غازی اور چودھری شجاعت حسین کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ چودھری صاحب نے مطالبہ کیا کہ عبدالرشید غازی ہتھیار پھینک دیں اور مسجد سے باہر آ جائیں بے شک اپنے آبائی علاقے روجھان چلے جائیں لیکن اسلام آباد سے نکل جائیں۔ عبدالرشید غازی مان گئے۔ چودھری شجاعت حسین نے خوشی خوشی مشرف کو مذاکرات کی کامیابی سے آگاہ کیا تو مشرف نے کہا کہ نہیں عبدالرشید غازی روجھان نہیں جائے گا بلکہ گرفتاری دے گا۔ دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے غازی صاحب کو گرفتاری پر آمادہ کر لیا شرط صرف یہ تھی کہ گرفتاری اسلام آباد پولیس کو دی جائے گی کسی خفیہ ادارے کو نہیں۔مشرف کو دوبارہ کامیابی کی خبر دی گئی تو موصوف نے کہا کہ عبدالرشید غازی گرفتاری سے قبل اپنے پانچ ساتھی بطور ضمانت باہر بھیجے۔ غازی صاحب اس پر بھی مان گئے۔ مشرف پھر مکر گیا اور کہا کہ پانچ نہیں تیس ساتھی بطور ضمانت باہر بھیجو۔ فضل الرحمن خلیل نے یہ شرط بھی منوا لی۔ آخر میں غازی صاحب نے کہا کہ ہمیں 200آدمیوں کا کھانا اور گلے کی دوا بھجوا دیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کامیابی کی خبر دینے کیلئے مشرف سے رابطہ کیا لیکن اس دوران لال مسجد پر گولہ باری شروع ہو گئی۔ فضل الرحمن خلیل وہاں سے چودھری شجاعت حسین کے گھر چلے گئے۔ اگلی صبح 8بجکر 40 منٹ پر غازی صاحب سے اُن کا آخری رابطہ ہوا اور غازی نے کہا کہ میری والدہ زخمی ہیں میری گود میں آخری ہچکیاں لے رہی ہیں گواہ رہنا کہ مشرف نے ہمارے ساتھ ظلم بھی کیا دھوکہ بھی کیا۔
میں نے کمیشن کے سامنے اپنے بیان کے ساتھ 9کالموں اور 5ٹی وی پروگراموں کی نقول پیش کیں اور کمیشن کو ثبوت کے ساتھ بتایا کہ میں نے 8مارچ 2007ء کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مشرف کی تقریر کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہماری فوج اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت افریقہ میں جا کر وہاں کے قبائل پر گولی چلانے کی بجائے اُن کے دل جیتنے کی پالیسی اختیار کرتی ہے تو پاکستان میں یہ پالیسی کیوں اختیار نہیں کی جا سکتی۔ میں نے کمیشن کو 24مئی 2007ء کے کیپٹل ٹاک کی کاپی دی۔ اس پروگرام میں حکومت کے ایک وزیر طارق عظیم میرے ساتھ لال مسجد میں مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہے تھے اور دونوں بھائیوں نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ بعد ازاں مذاکرات شروع ہوئے۔ بار بار کامیاب ہوئے لیکن مشرف نے بار بار مذاکرات کو ناکام کر دیا۔ میں نے کمیشن کو 19جولائی 2007…

21 Feb 6:05 AM 0 Read More...

آخری سازش...قلم کمان …حامد میر

طبیعت انتہائی بوجھل ہے، کل رات سے ناکامی کا احساس ہتھوڑا بن کر دل و دماغ پر برس رہا ہے۔ رات بستر پرکروٹیں بدلتے ہوئے کئی مرتبہ خود کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی کہ کوئٹہ میں ایک اور خود کش حملے میں ہزارہ برادری کے 80 سے زائد افراد کی موت حکومت کی ناکامی ہے۔ میری نہیں لیکن دل کہہ رہا تھا کہ یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کی ناکامی ہے جسے کوئٹہ اور بلوچستان کے بارے میں کچھ سچائیوں کا عمل ہے لیکن وہ پورا سچ سامنے نہیں لاتا۔پورا سچ بولنے والوں کو ملک دشمن ،علیحدگی پسندوں کا ساتھی اور کرپٹ قرار دیا جاتا ہے پھر بھی کوئی سچ بولنے سے باز نہ آئے تو اسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، دھمکیاں کارگر ثابت نہ ہوں تو ہمارے خفیہ ادارے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات کا سہارا لیتے ہیں، اغواء اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو گاڑی میں بم نصب کروا کر کسی نان اسٹیٹ ایکٹر سے کہا جاتا ہے کہ تم ذمہ داری قبول کرلو۔ ریاستی اداروں اور غیر ریاستی عناصر کی یہ کوارڈی نیشن عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ عام لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ غیر ریاستی عناصر ہمارے ریاستی اداروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہوتے ہیں لیکن جب کوئی مجھ جیسا بے وقوف یہ پوچھ بیٹھے کہ ریاستی اداروں پر حملوں کے ذمہ دار کوئٹہ اور بنوں کی جیلوں سے کیسے بھاگ نکلتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مجھ جیسے صحافیوں کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش ان طاقتور شخصیات کی طرف سے ہوتی ہے جو امریکہ سے وار کورس کرتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان میں ڈرون حملے کراتے ہیں اور امریکیوں کے دباؤ پر اپنی مدت ملازمت میں توسیع بھی پاتے ہیں لیکن جب کوئی پاکستانی یہ پوچھ بیٹھے کہ تم لوگ سیاستدانوں اور صحافیوں کی نقل و حرکت پر تو نظر رکھتے ہو لیکن آئے دن پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو بم دھماکوں میں اڑانے والے انسانیت دشمن عناصر کا پتہ کیوں نہیں چلاتے؟جواب میں کہا جاتا ہے ہم تو دہشتگردوں کو پکڑ لیتے ہیں لیکن میڈیا اور عدلیہ ان دہشتگردوں کو لاپتہ افراد قرار دے کر ان کی مدد کرتی ہے۔ میڈیا اور عدلیہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ملکی قانون کے تحت گرفتار افراد کو عدالتوں میں پیش کرو لیکن خفیہ ادارے گرفتار افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ اکثر گرفتار افراد بے گناہ ہوتے ہیں۔اصلی دہشتگردوں کو یا تو جیلوں سے بھگا دیا جاتا ہے یا پھر وہ گرفتار ہی نہیں ہوتے۔ خفیہ اداروں میں سب لوگ برے نہیں ، اکثریت اچھے لوگوں کی ہوتی ہے لیکن یہ اچھے لوگ آگے نہیں جاتے کیونکہ انہیں سازش کرنا اور جھوٹ بولنا نہیں آتا۔ خفیہ اداروں کے طاقتور عہدوں تک عام طور پر وہ لوگ پہنچتے ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے دشمنوں کے ہاتھ میں کھیلنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے کیلئے صرف اپنی وفاداری بیچنا ضروری نہیں ہوتا، نااہلی اور غفلت کا مظاہرہ بھی دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہے۔
دشمن بار بار کراچی سے کوئٹہ اور بنوں سے پشاور تک بم حملے کرے اور ہمارے خفیہ ادارے ذمہ داروں کا سراغ لگانے میں ناکام رہیں۔ پولیس، رینجرز ،ایف سی اور فوج کو پتہ ہی نہ چلے کہ کب کوئی دہشتگرد ایک ہزار کلو بارودی مواد واٹر ٹینکر میں بھر کر کوئٹہ میں داخل ہوگیا تو کیا ان اداروں کے سربراہان سے پوچھ گچھ نہیں ہونی چاہئے؟ کیا ان کے خلاف انکوائری نہیں ہونی چاہئے؟ ہمارے خفیہ اداروں نے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا کے اکثر علاقوں کو میڈیا کیلئے نوگو ایریاز بنا رکھا ہے۔ میں نے گواردر اور تربت سے لے کر کوئٹہ تک خفیہ اداروں اور سیکورٹی اداروں کے ظلم و ستم کی ایسی ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ اوسان خطا ہوگئے۔ اس ظلم و ستم کا تعلق لوٹ مار سے ہے۔ جرائم پیشہ افراد کیساتھ ملکر اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کی جاتی ہیں۔ کوئٹہ پولیس کے پاس طاقتور خفیہ اداروں کے کچھ افسران کیخلاف ایسے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جن کے مطابق بعض اوقات کسی سے مہنگی گاڑی چھیننے کیلئے اس کے مالک کو لاپتہ کردیا جاتا ہے۔چند ماہ قبل مجھے کوئٹہ میں ایک پولیس افسر نے خفیہ اداروں، ایف سی اور کچھ شدت پسند تنظیموں کے غیر اعلانیہ تعاون سے متعلق خوفناک حقائق بتائے۔ اس افسر نے مجھے بتایا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کی اصل وجہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ کچھ سرکاری اہلکار شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ہزارہ برادری سے ان کی جائیدادیں چھین رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں ہزارہ برادری کے علاوہ ہندوؤں، پارسیوں اور پنجابیوں کے علاوہ بلوچوں سے بھی جائیدادیں چھینی جارہی ہیں اور بلوچ علاقوں میں پشتونوں سے جائیداد چھینی جاتی ہے۔ بلوچستان کی بدامنی کا اصل فائدہ لینڈ مافیا اور پراپرٹی مافیا اٹھا رہا ہے جس کی کوئی زبان، نسل، قومیت ا ور فرقہ نہیں۔ اس بہادر پولیس افسر نے مجھے کچھ ثبوت مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔ اگلے دن مجھے اپنی ایک آئینی درخواست پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں حاضر ہونا تھا، جب میں عدالت کے احاطے میں داخل ہوا تو کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کردیا۔ موقع پر موجود وکلاء مجھے بچا کرعدالت میں لے گئے، عدالت میں وہ بہادر پولیس افسر موجود تھا۔ اس نے مجھے احتیاط کا مشورہ دیا لیکن میں نے اصرار کیا کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعات سے فائدہ اٹھا کر پچھلے چار سال میں سب سے زیادہ جائیدادیں خریدنے والوں کے متعلق ثبوت مجھے ضرور دئیے جائیں۔ بہادر پولیس افسر نے کہا کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔افسوس کہ میرے ساتھ ملاقات کے بعد چند دنوں کے اندر اندر اس افسر کو شہید کردیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیکورٹی ادارے اور خفیہ ادارے اگر چاہیں تو کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کو روک سکتے ہیں لیکن اگر حملے رک گئے تو ہزارہ برادری کے بھائی بہن کوئٹہ سے ہجرت چھوڑ دینگے اپنی جائیدادیں اونے پونے داموں فروخت نہیں کرینگے۔ بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے 16فروری کے خود کش حملے میں80…

18 Feb 5:54 AM 0 Read More...

لاش کی جیت...قلم کمان …حامد میر

یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں ریاست نے ایک شخص کو دہشتگرد قرار دے کر قتل کردیا اور پھر مقتول کی لاش سے بھی خوفزدہ ہوگئی۔لاش کو مقتول کے لواحقین کے حوالے کرنے کی بجائے جیل میں ہی دفن کردیا جاتا ہے۔ ایک لاش سے خوفزدہ ریاست زندہ انسانوں کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے؟ یہ کوئی چھوٹی موٹی ریاست نہیں ہے بلکہ یہ ریاست دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت ہے۔ بھارت کی حکومت نے ایک کشمیری نوجوان افضل گرو کو9فروری کو دہشتگردی کے الزام میں پھانسی دیکر اس کی لاش خاندان کے حوالے نہیں کی بلکہ افضل گرو کہ تہاڑ جیل دہلی میں دفن کردیا۔ یہ وہی جیل ہے جہاں گیارہ فروری1984ء کو کشمیری رہنما مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی اور انہیں بھی تہاڑ جیل میں دفن کردیا گیا۔29/سال پہلے بھا رتی حکومت مقبول بٹ کی لاش سے خوفزدہ تھی اور 29سال کے بعد افضل گرو کی لاش سے خوفزدہ ہے۔ بھارتی حکومت آج وہیں کھڑی ہے جہاں29/سال پہلے کھڑی تھی لیکن کشمیری کافی آگے نکل چکے ہیں۔ پچھلے29سال میں لاکھوں کشمیری بھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بنے، کئی افضل گرو شہید ہوئے لیکن کشمیریوں کا جذبہ حریت ماند نہ پڑسکا۔بھارتی حکومت نے افضل گرو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر تحریک آزادی کشمیر کو ایک اور شہید دیدیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افضل گرو کی پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افضل گرو کو اس کی مرضی کا وکیل مہیا نہیں کیا گیا اور اسکے خلاف مقدمے کی سماعت میں کئی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔ بھارت میں کانگریس کی حکومت نے افضل گرو کو پھانسی پر لٹکا کر آنے والے انتخابات میں ہندو ووٹ کو پکا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارتی حکومت نے افضل گرو کی پھانسی کے ردعمل کو سمجھنے میں سنگین غلطی کی۔بھارتی حکومت افضل گرو کو اجمل قصاب سمجھ بیٹھی حالانکہ دونوں میں بہت فرق تھا۔ اجمل قصاب ایک پاکستانی تھا، اس نے ممبئی میں ا یک فائیو اسٹار ہوٹل پر حملہ کیا جس میں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ اجمل قصاب کو ایک عام سے ڈنڈابردار پولیس والے نے آسانی سے پکڑ لیا اور گرفتاری کے چند گھنٹوں کے اندر اندر اجمل قصاب نے بھارتی پولیس کو سب کچھ بتادیا کہ وہ کون تھا اور کہاں سے آیا تھا۔اجمل قصاب کے لئے پاکستان اور کشمیر میں کوئی ہمدردی دیکھنے میں نہ آئی۔ پھانسی کے بعد کچھ لوگوں نے پاکستان میں اس کی نماز جنازہ ضرور ادا کی لیکن ان لوگوں میں اتنی اخلاقی جرأت نہ تھی کہ اپنے مرحوم ساتھی کی لاش اس کے خاندان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے۔بھارتی حکومت اجمل قصاب کی لاش دینے کیلئے تیار تھی لیکن جب کوئی نہ آیا تو ایک مولوی صاحب کے ذریعہ لاش کو نامعلوم مقام پر دفن کردیا گیا۔بھارتی حکومت کا خیال تھا کہ جس طرح اجمل قصاب کی پھانسی پر کوئی ردعمل نہیں آیا افضل گرو کی پھانسی پر بھی ردعمل سامنے نہیں آئے گا لیکن یہ بہت بڑی غلطی تھی، پھانسی کے فوراًبعد بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔
افضل گرو اور اجمل قصاب میں کیا فرق تھا؟ اجمل قصاب ایک نیم خواندہ دیہاتی نوجوان تھا جو چند تھپڑ بھی برداشت نہ کرپایا اور گرفتاری کے بعد پوری پاکستانی قوم کیلئے شرمندگی کا باعث بن گیا۔افضل گرو ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ پچھلے پانچ سال کے دوران تہاڑ جیل میں کئی مرتبہ بھارتی حکومت نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ 13دسمبر2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی تمام ذمہ داری پاکستان پر ڈال دے تو اسے موت کے گھاٹ نہیں اتارا جائیگا۔ افضل گرو نے اپنی زندگی بچانے کیلئے پاکستان کو بدنام کرنے سے معذرت کرلی۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ ایک بھارتی صحافی کو حکومت کی طرف سے پیشکش کی گئی کہ اس کی جیل میں افضل گرو سے ملاقات کرائی جاسکتی ہے اور اس ملاقات میں افضل گرو یہ کہے گا کہ اس نے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا منصوبہ آئی ایس آئی کے کہنے پر بنایا۔ بھارتی صحافی نے یہ ملاقات کرنے سے معذرت کرلی۔ بعدازاں ایک اور صحافی کو جیل میں افضل گرو سے ملاقات کرائی گئی لیکن افضل گرو نے پاکستان پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ بھارتی منصوبہ ناکام ہوگیا۔
آپ کو یہ سن کر حیرانگی ہوگی کہ افضل گرو پاکستان کے ریاستی اداروں کی پالیسیوں سے خوش نہیں تھا لیکن وہ پاکستانی عوام کی نظروں میں غدار نہیں بننا چاہتا تھا۔ اس کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے علاقے سوپور سے تھا۔ سو پور کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ افضل گرو ایک ذہین نوجوان تھا اور کشمیر کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا طالبعلم تھا۔ مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا تو پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے خود مختار کشمیر کی حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی مدد شروع کردی۔ جے کے ایل ایف کا پھیلایا ہوا لٹریچر پڑھ کر افضل گرو کے دل میں بھی آزادی کا جذبہ ٹھاٹھیں مارنے لگا اور ایک دن وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ لائن آف کنٹرول عبور کرکے آزاد کشمیر آگیا۔ یہاں آیا تو کچھ ہی دنوں میں مایوس ہوگیا، اسے محسوس ہوا کہ پاکستانی ریاست پر قابض عناصر کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ صرف اور صرف کشمیر کے نام پر بھارتی فوج کو ایک محاذ پر پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ واپس سوپور چلا گیا اور اس نے بھارتی فوج کے سامنے سرینڈر کردیا۔ وہ ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتا تھا لیکن سرینڈر کے بعد اسے ذلت و رسوائی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ کبھی راشٹریہ رائفلز اور کبھی جموں و کشمیر پولیس اسے پکڑ کر لے جاتی تھی۔ راشٹریہ رائفلز کا میجر رام موہن رائے اس کے جسم کے نازک اعضاء کو بجلی کے جھٹکے دیتا۔ ایک دفعہ ڈی ایس پی دونیدر سنگھ نے اسے پکڑ کر پولیس والوں کی گندی لیٹرین صاف کرائی۔ افضل گرو کی بیوی نے کئی مرتبہ اپنے زیور اور گھر کا سامان بیچ کر رقم پولیس کو دی اور خاوند کو رہا کرایا لیکن افضل گرو کو بار بار گرفتار کیا جاتا تھا۔ 13دسمبر2001…

11 Feb 6:24 AM 0 Read More...

میڈیا وار اور بھگوڑے ... قلم کمان …حامد میر

 ام
ریکی عوام کی اکثریت پاکستانیوں کو مذہبی انتہاپسند، جاہل اورخونخوار سمجھتی ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت امریکہ کو اسلام کا دشمن اوربھارت واسرائیل کا اتحادی سمجھتی ہے۔ دونوں ممالک پچھلی ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف ایک نام نہاد قسم کی جنگ میں ایک دوسرے کے پارٹنر ہیں لیکن ایک دوسرے پر اعتماد بھی نہیں کرتے۔ ایک دوسرے پر شکوک و شبہات اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کرنے میں امریکی میڈیا کا کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ ایک سپرپاور ہے اور سپرپاور کے اخبارات اور ٹی وی چینلز بھی عالمی میڈیا میں سب سے سپر ہیں۔ پچھلے دس سال میں امریکی میڈیا نے پاکستان کو کئی مرتبہ توڑا اور کئی مرتبہ جوڑا۔ امریکی میڈیا کے اکثر دعوے جھوٹے ثابت ہوتے رہے لیکن جس کے پاس طاقت ہوتی ہے اس کے جھوٹ کوبھی سچ کہا جاتا ہے۔ جس طرح امریکی میڈیا نے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک ثابت کرنے کی کوشش کی اسی طرح پاکستانی میڈیامیں بھی کچھ لوگ امریکہ کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہیں۔ امریکی میڈیا کے پروپیگنڈے نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا جبکہ پاکستانی میڈیا کے پروپیگنڈے نے کم از کم پاکستان کے اندرامریکی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا۔ اس میڈیا وار میں یقینا امریکہ کا پلڑا بھاری ہے لیکن آہستہ آہستہ کہیں نہ کہیں اس حقیقت کا ادراک کیا جارہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ میں عدم اعتمادکی فضا ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے میڈیا میں جنگ کا ماحول ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے کچھ عرصہ قبل وائس آف امریکہ کے ٹی وی پروگرام پاکستانی چینلز پر نشر کروائے گئے جس کے لئے پاکستانی چینلز پروقت خریداجاتا تھا لیکن شاید اس منصوبے کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
حال ہی میں انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے امریکہ اورپاکستان کے صحافیوں میں پارٹنر شپ کو فروغ دینے کے لئے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے صحافیوں کو امریکہ بھجوایا جائے گا جہاں وہ امریکہ کے اخبارات اور چینلز میں کچھ عرصہ کے لئے کام کریں گے۔ اسی طرح امریکی صحافیوں کو پاکستان لایا جائے گااور وہ پاکستانی اخبارات وٹی وی چینلز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ امریکی و پاکستانی صحافی ایک دوسرے کی خوبیوں کا ذکر بھی کریں اور ایک دوسرے کے کلچر کوبھی سمجھیں۔ اس مقصد کیلئے پچھلے ہفتے انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس کی طرف سے امریکہ کے مختلف شہروں سے امریکی صحافیوں کے ایک وفد کو پاکستان بلایا گیا اور اسلام آباد میں ایک تین روزہ ورکشاپ کااہتمام کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ قبائلی علاقوں کے ایک سو سے زائد صحافی بلائے گئے۔ امریکی اورپاکستانی صحافی تین دن تک مختلف گروپوں میں بٹ کر مختلف موضوعات پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے رہے۔
اس ورکشاپ کے ایک سیشن میں مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ اس سیشن کا موضوع گفتگو یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کو کس نظرسے دیکھتے ہیں؟ میں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ آپ ہمیں تعصب کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہم آپ کوشک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان میں ڈکٹیٹروں کی حمایت کی اور ہمارے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کی جس کے باعث پاکستان کے جمہوریت پسندوں اورمحب وطن حلقوں میں امریکہ کے خلاف جذبات پیدا ہوئے۔ 1994میں طالبان پیدا ہوئے تو امریکہ ان کی حمایت کر رہا تھا لیکن گیارہ ستمبر 2001 کے بعد امریکہ نے طالبان کواپنا دشمن قرار دیدیا۔ میں نے حاضرین کو 30مئی 2002 کے نیویارک ٹائمز میں سلمان رشدی کا مضمون دکھایا جس میں پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے دیا گیا تھا حالانکہ اس وقت نہ خودکش حملے شروع ہوئے تھے نہ ڈرون حملے شروع ہوئے۔ 20اکتوبر 2007 کے نیوزویک نے بھی پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے دیا اور پھرمیں نے 22مارچ 2009 کا واشنگٹن پوسٹ پیش کیا جس میں امریکی حکومت کے فوجی مشیر ڈیوڈ کیلکولن نے دعویٰ کیا تھا کہ اگلے چھ ماہ تک پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ میں نے ورکشاپ میں موجود امریکی صحافیوں سے پوچھاکہ آج 2013 ہے پاکستان نہیں ٹوٹا لیکن کیا آپ نے کبھی ڈیوڈ کیلکولن سے پوچھا کہ تم نے واشنگٹن پوسٹ میں جھوٹ کیوں لکھا تھا؟ میں نے ورکشاپ کے شرکا کو 27ستمبر 2011 کا نیویارک ٹائمز دکھایا جس میں مجھ پرتنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حامد میر کیپٹل ٹاک میں یہ سوال اٹھارہا تھاکہ کیا امریکہ کی طرف سے پاکستان پر زمینی حملے کی تیاری کی جارہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں فرخ سلیم نے حامد میر سے کہا کہ آپ جلتی ہوئی آگ پر تیل کیوں پھینک رہے ہیں۔ 13اکتوبر 2011 کو سی این این کی ویب سائٹ پربھی مجھے اور کیپٹل ٹاک کوتنقید کانشانہ بنایا گیا کہ میں امریکہ کے ممکنہ حملے کا سوال اٹھا کر سنسنی پھیلا رہا ہوں لیکن آخرکار 26نومبر 2011 کو امریکہ نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کرکے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں کوشہیدکردیا۔ میں نے امریکی مہمانوں سے پوچھا کہ جب آپ کی تنقید غلط ثابت ہوگئی تو آپ نے مجھ پر لگائے گئے الزامات کو واپس لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس موقع پر میں نے امریکہ کے کچھ صحافیوں کے مثبت رویئے کا بھی ذکر کیاکیونکہ نومبر 2007…

07 Feb 6:00 AM 0 Read More...