یہ مذاق بند کرو... قلم کمان …حامد میر

بھارتی میڈیا بہت خوش ہے۔ پاکستان آرمی کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب کو پڑھے بغیر اس کتاب پر مختلف بھارتی ٹی وی چینلز پر مباحثے ہو رہے ہیں۔ مباحثوں کی بنیاد کتاب کے وہ اقتباسات ہیں جو کارگل جنگ کے متعلق ہیں اور کچھ انگریزی اخبارات نے یہ اقتباسات شائع کئے۔ جیو ٹی وی پر کیپٹل ٹاک میں کرنل ریٹائرڈ اشفاق حسین کی کتاب کا ذکر آیا تو بھارتی میڈیا نے کرنل اشفاق کو بھی اہمیت دینی شروع کر دی۔ بھارتی میڈیا کا خیال ہے جنرل شاہد عزیز اور کرنل اشفاق کی کتابوں سے پاکستانی فوج کی بہت بدنامی ہو گی لہٰذا وہ ان کتابوں پر گلے پھاڑ پھاڑ کر تبصرے کر رہے ہیں لیکن میری ناچیز رائے میں ان کتابوں سے پاکستانی فوج کا نقصان نہیں فائدہ ہو گا۔ فوج کی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کا مطلب اپنی فوج سے دشمنی نہیں ہے۔ ان دونوں کتابوں کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت کا احساس ہو گا۔ پڑھنے والوں کو یہ پتہ چلے گا کہ اس خطے میں امریکی پالیسیوں کے متعلق پاکستانی فوج کے افسران اور جوانوں کی اکثریت کا نکتہ نظر وہی ہے جو پاکستانی عوام کی اکثریت کا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لبرل اور سیکولر انتہاء پسندوں کو جنرل شاہد عزیز کے یہ الفاظ بہت بُرے لگیں کہ… ”طوائفوں کی عزت پر حملے کے الزام میں لال مسجد کو عورتوں اور بچوں سمیت جلا دیا۔“ ہو سکتا ہے مجھے بھی جنرل شاہد عزیز کی کتاب میں موجود کئی دعوؤں سے سخت اختلاف ہو لیکن ذرا ان کی کتاب کے صفحہ 177 پر موجود ان الفاظ پر غور کیجئے جہاں وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک سال کے وار کورس کا ذکر کر رہے ہیں۔ لکھتے ہیں… ”ایک مرتبہ میں نے کشمیر کی پالیسی پر نکتہ چینی کی کہ یہ کیسی پالیسی ہے کہ ہم صرف دشمن کی فوج کو وہاں پھنسائے رکھنے کے لئے کشمیریوں کا خون بہا رہے ہیں؟ کیا اس جہاد کا کوئی آخر بھی ہے؟ کیا اسے کسی انجام کو پہنچانا ہے یا صرف ایک حد تک رکھنا ہے کہ ہندوستان پھنسا رہے؟ کچھ دیر خاموشی رہی، مجھے ایسے دیکھا گیا جیسے میں ذہنی طور پر معذور ہوں۔ پھر اس بات کو ٹال دیا گیا۔“ کرنل اشفاق کی کتاب میں بھی مسئلہ کشمیر کا مکمل پس منظر بیان کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ کارگل آپریشن کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث کشمیر کی تحریک آزادی کو بہت نقصان پہنچا لیکن جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا کارگل جیسے واقعات دوبارہ بھی رونما ہو سکتے ہیں کیونکہ پہل ہمیشہ پاکستان کی طرف سے نہیں ہوئی بھارت نے بھی سیاچن پر ناجائز قبضہ کر کے مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ دونوں کتابوں میں جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں پر تنقید کی گئی ہے لیکن فوج کے جوانوں اور افسران کی جرأت و بہادری کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ کتابیں ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ترغیب ہیں۔
کرنل اشفاق کی کتاب ”جنٹلمین استغفراللہ“ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کارگل آپریشن کے اصل ماسٹر مائنڈ پرویز مشرف نہیں بلکہ ناردرن ایریاز کے کمانڈر میجر جنرل جاوید حسن تھے جنہوں نے کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود کے ساتھ مل کر آرمی چیف جنرل مشرف کو کارگل آپریشن پر راضی کیا۔ جنرل محمود بھی ”ہسٹری آف انڈوپاک وار 1965ء“ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے اگست 1965ء میں پاکستانی فوج کے آپریشن جبرالٹر کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس آپریشن کی منصوبہ بندی جی ایچ کیو میں ہوئی اور آرمی چیف جنرل موسیٰ خان کو آپریشن کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے ایئر فورس کو اعتماد میں لینا ضروری نہ سمجھا۔ آزاد کشمیر رجمنٹ کے پانچ ہزار جوانوں کو دس گروپوں میں تقسیم کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل کر دیا گیا۔ ان گروپوں نے کارگل سے سری نگر تک مقبوضہ جموں و کشمیر کے اہم علاقوں پر قبضہ کرنا تھا۔ کارگل کی طرف بڑھنے والی طارق فورس کے کمانڈر میجر سکندر 17 ہزار فٹ بلند چوٹیوں پر دشمن کی بجائے موسم کی سختیوں کے اسیر بن گئے اور ناکام واپس لوٹ آئے۔ سری نگر کی طرف جانے والی صلاح الدین فورس کے کمانڈر میجر منشا خان کی مشکل یہ تھی کہ مقامی آبادی ان سے تعاون نہیں کر رہی تھی کشمیری مسلمانوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کون لوگ ہیں؟ صلاح الدین فورس پر بھارتی فوج نے حملہ کر دیا اور یہ بھاری جانی نقصان اٹھا کر واپس بھاگ آئی اس کے چار جوان دشمن نے قیدی بنا لئے۔ صرف میجر ملک منور اعوان کی کمان میں غزنوی فورس جموں کے قریب راجوری گیریژن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی کیونکہ جموں کے مسلمانوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔ میجر منور کو سینکڑوں مقامی رضا کار مل گئے لیکن آپریشن جبرالٹر کے باعث 6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ 17 دن کی جنگ کے بعد سیز فائر ہو گیا۔ 23 ستمبر کو میجر منور سے کہا گیا کہ واپس آ جاؤ تو میجر منور نے احتجاج کیا اور پیغام بھجوایا کہ اگر وہ واپس آ گئے تو بھارتی فوج راجوری اور جموں کے مسلمانوں سے انتقام لے گی۔ جنرل ایوب خان نے اس پیغام پر توجہ نہ دی۔ ڈسپلن کی پابند غزنوی فورس واپس آ گئی اور پھر بھارتی فوج نے پاکستانیوں کی مدد کرنیوالے مقامی رضا کاروں کے خاندانوں کی عورتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اغواء کیا۔ بوڑھی عورتوں کے ہاتھ جلا دیئے کیونکہ وہ پاکستانیوں کیلئے روٹیاں پکاتی تھیں جوان عورتوں کیساتھ زیادتیاں ہوئیں۔ راجوری، پونچھ اور جموں کی سترہ سو جوان عورتیں اغواء کے بعد واپس نہ آئیں۔ حیرت ہے کہ جنرل محمود نے اپنی کتاب میں خود آپریشن جبرالٹر کی ناکامی کی وجوہات لکھیں اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے کارگل آپریشن کا حصہ بن گئے۔
کارگل آپریشن کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد کارگل پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ کمیشن کے قیام کا مطالبہ بالکل جائز ہے لیکن کمیشن کو اس پہلو کا جائزہ بھی لینا چاہئے کہ کارگل آپریشن جیسی غلطیاں بار بار کیوں دہرائی جاتی ہیں؟ کیا وجہ تھی کہ 1947ء میں قائداعظم کو اعتماد میں لئے بغیر انتہائی ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ بریگیڈیئر اکبر خان کی نگرانی میں ایک قبائلی لشکر کشمیر روانہ کر دیا گیا۔ بارہ مولا میں اس لشکر نے اپنے کمانڈر خورشید انور کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ پاکستان کے نامور مورخ زاہد چوہدری نے اپنی کتاب ”پاکستان کی سیاسی تاریخ“ کی جلد سوم میں لکھا ہے کہ 26 اکتوبر 1947ء کو آفریدی اورمحسود قبائلیوں نے بارہ مولا میں لوٹ مار کے علاوہ عورتوں کی آبرو ریزی بھی کی۔ انہوں نے جہاد کے نام پر اپنے شیطانی کھیل میں دو دن ضائع کر دیئے لہٰذا 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی ایئر فورس کے ذریعہ بھارتی فوج کو سری نگر میں اتار کر کشمیر پر قبضہ کر لیا گیا۔ قبائلی لشکر بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کی بجائے بھاگ نکلا اور یوں کشمیر پر بھارت کا مستقل قبضہ ہو گیا۔
معروف کشمیری محقق جی ایم میر اپنی کتاب ”کشور کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ“ میں لکھتے ہیں کہ کشمیر کے غیر مسلم راجہ ہری سنگھ اور قائداعظم کے درمیان نواب بھوپال کے ذریعہ تمام معاملات طے ہو گئے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کشمیر کا الحاق بھارت سے چاہتا تھا لیکن مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کو خود مختار ریاست بنانے پر تیار تھا۔ قائداعظم نے مسلم کانفرنس کے رہنماؤں چوہدری حمید اللہ خان اور اسحاق قریشی کو گیارہ جولائی 1947ء کو کراچی میں اعتماد میں بھی لے لیا۔ کشمیر کے وزیراعظم پنڈت رام چند کاک بھی مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ تھے لیکن قبائلی لشکر کی کارروائی نے قائداعظم کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ بعد ازاں قائداعظم نے اپنی فوج کے انگریز سربراہ جنرل گریسی سے کہا کہ بھارتی فوج کو سری نگر سے نکالو تو اس نے معذرت کر لی۔ قبائلی لشکر کو کشمیر بھیجنے کا منصوبہ بھی جی ایچ کیو میں بنا اور کارگل آپریشن بھی جی ایچ کیو کے بنائے گئے آپریشن جبرالٹر کا ایکشن ری پلے تھا۔ یہ منصوبے بنانے والوں کی نیت پر ہم شک نہیں کرتے لیکن ان ناقص منصوبوں نے کشمیریوں کی مشکلات اور تکلیفوں میں بہت اضافہ کیا۔ ہم ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے نام پر پورے پاکستان میں چھٹی کر دیتے ہیں۔ اس چھٹی کا کشمیریوں کو کیا فائدہ؟ کیا ہی اچھا ہو کہ 5…

04 Feb 8:35 AM 0 Read More...

اعترافِ گناہ ... قلم کمان …حامد میر

یہ ایک سپاہی کی داستان عشق و جنوں ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک؟“ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس داستان کو اپنی زبان میں لکھا ہے۔ یہ خوبی اس کتاب کی سب سے بڑی خامی ہے کیونکہ شاہد عزیز صاحب نے اپنے درد دل کو کہیں فیض احمد فیض کی زبان میں بیان کیا ہے کہیں احمد فراز کے الفاظ کا سہارا لیا ہے اور کہیں ان کے جنوں پر شکیب جلالی کا رنگ غالب ہے۔ اس کتاب کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کافی مشکل ہو گا۔ کتاب کے پہلے باب کا نام ہے… ”چُبھ نہ جائے دیکھنا باریک ہے نوکِ قلم“ علامہ اقبال کے مصرعے سے شروع کئے گئے پہلے باب کے پہلے صفحے باب پر سادہ دل سپاہی نے اپنا احساس جرم بیان کرتے ہوئے کہہ دیا کہ فوجی زندگی کے آخری موڑ پر، قانون توڑ کر کسی اور کا ساتھ دیا اور سب کچھ بدل گیا۔ پاکستان کا مطلب بھی، ہماری پہچان بھی، قوم کی تقدیر بھی، قبلہ بھی لیکن جو بدلنا چاہا تھا، جوں کا توں ہی رہا بلکہ اور بگڑ گیا۔ ایک چمکتے ہوئے خواب کو حقیقت میں بدلتے بدلتے اس میں اندھیرے گھول دیئے۔
عام تاثر یہ ہے کہ شاہد عزیز صاحب کی کتاب کارگل کی جنگ کے بارے میں ہے۔ میں نے کتاب پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ تو ان کی اپنی داستان حیات ہے جس میں انہوں نے بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ وہ سب لکھ دیا جسے وہ سچ سمجھتے ہیں۔ میں نے یہ کتاب ایک صحافی کی آنکھ سے پڑھی ہے اور اس میں کئی خامیاں اور تضادات تلاش کر لئے ہیں لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ شاہد عزیز صاحب کا انداز بیان بہت خوبصورت ہے اور بہت عرصے بعد اردو میں ایک اچھی کتاب پڑھنے کو ملی۔ ان کی کتاب میں بیان کئے گئے کئی واقعات کے کچھ زاویوں اور ان کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مجھے بدنیتی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے فوج کی خامیاں بیان کی ہیں لیکن خوبیاں بھی کھل کر لکھی ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ہونے والی اقربا پروری سے لے کر سٹاف کالج کوئٹہ میں داخلے کے امتحان میں ہونے والی نقل کے قصے لکھ کر مصنف نے فوج کا مذاق نہیں اڑایا بلکہ فوج کی خامیاں دور کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جو خامیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں وہی خامیاں فوج میں بھی موجود ہیں جب تک ہم ان خامیوں کو اپنے معاشرے سے ختم نہیں کریں گے یہ خامیاں فوج سے بھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز لکھتے ہیں… ”جیسے ہمارے ملک میں کنبہ پروری کا رواج چلتا ہے کہ اپنوں کا خاص خیال رکھا جائے، ویسے ہی فوج میں بھی ہے۔ کہا جاتا ہے بڑا حوصلے والا شخص ہے، یاروں کا یار ہے، دوستوں کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے چاہے کسی اور کا گلا ہی کیوں نہ کٹتا ہو۔ فوج میں عام رواج ہے کہ اپنی یونٹ کے لئے سب کچھ جائز ہے، جھوٹ بھی دھوکہ بھی اور چوری بھی۔ میں کوئی انوکھی بات نہیں کہہ رہا۔ یہی دستور ہے۔“
شاہد عزیز صاحب کے بیان کردہ حقائق پڑھ کر سمجھ آتی ہے کہ ماضی کے فوجی ڈکٹیٹر اتنے جھوٹے اور دھوکے باز کیوں تھے اور صرف اپنے آپ کو صحیح باقی سب کو غلط کیوں سمجھتے تھے؟ شاہد عزیز صاحب پہلے پی ایم اے کے طالب علم بنے پھر اسی ادارے میں استاد بھی بنے۔ لکھتے ہیں کہ پی ایم اے میں سب پر آگے بڑھنے کی جستجو اور محنت کا دباؤ ہوتا ہے۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ فوج میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی بجائے ایک ہی مقصد کے لئے مل جل کر کام کرنے کی زیادہ اہمیت ہے۔ سبقت لے جانے کی کاوش انسان کی سیرت کو مسخ کر دیتی ہے اور اس کی اخلاقی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ سوچ ذرا اور گہری ہو جائے تو جھوٹ اور فریب کو جنم دیتی ہے اور بھائی چارے کی بجائے دشمنیاں پیدا کرتی ہے کمانڈر کے کردار میں ایسے نقائص جنم لیتے ہیں کہ وہ اچھا لیڈر نہیں بن پاتا میں نے پی ایم اے میں مقابلے کے اس ماحول کے بڑے کڑوے رنگ دیکھے ہیں، پھر ساری عمر فوج میں جگہ جگہ اس کے دل سوز اثرات دیکھتا رہا۔ اپنے بچوں کو بھی یہ کہتا رہا کہ جو بچہ فرسٹ آئے گا الٹا لٹکایا جائے گا۔
میں جیسے جیسے پاکستانی فوج کے ایک سابق کور کمانڈر اور سابق چیف آف جنرل اسٹاف کی زندگی کی کہانی پڑھتا گیا میری نظروں کے سامنے بار بار 2006ء کے اس شاہد عزیز کا چہرہ گھومنے لگتا جو چیئرمین نیب تھا۔ ایک دن اس شاہد عزیز نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور شوگر اسکینڈل کی انکوائری کے متعلق کچھ باتیں بتا دیں۔ شاہد عزیز نے حکومت کے کچھ وزراء کے نام لئے اور کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر مشرف کے قریبی ساتھی طارق عزیز کا دباؤ ہے کہ شوگر اسکینڈل کی انکوائری روک دی جائے۔ شاہد عزیز ہمیں اپنی ہی حکومت کے قیدی نظر آئے تھے لیکن کچھ سال کے بعد وہ قیدی تمام پابندیاں توڑ کر آزاد ہو گیا اور اس نے اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھ ڈالا۔ 2006ء میں شاہد عزیز نے مشرف حکومت کے جن وزراء کی کرپشن کے خلاف انکوائری کی تھی اب ان میں سے کوئی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جا ملا کوئی پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ سیاستدان ایک فوجی ڈکٹیٹر کا دست و بازو نہ بنتے تو شائد پاکستان کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ شاہد عزیز صاحب کی کتاب کا سب سے زیادہ تشویشناک حصہ وہ ہے جہاں انہوں نے اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں لکھا ہے کہ امریکی فوج اور خفیہ اداروں نے تین مرتبہ ان کی وفاداریاں خریدنے کی کوشش کی۔ صفحہ 102 پر لکھتے ہیں کہ کمپنی کمانڈر کورس کرنے سات ماہ کے لئے فورٹ بیننگ FORT BENNING گئے تو امریکی فوج کے ایک افسر نے پیشکش کی کہ تم اسی رینک اور سروس کے ساتھ امریکی فوج جائن کر سکتے ہو لیکن شاہد عزیز نے انکار کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد ایک اور کورس کے لئے پھر امریکا گئے اس مرتبہ ان کے ساتھ میجر اشفاق پرویز کیانی بھی تھے۔ ایک دفعہ پھر شاہد عزیز کو امریکی فوج میں بھرتی کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ پھر کہا گیا پاکستانی فوج میں رہ کر ہمارے لئے کام کرو۔ شاہد عزیز نے انکار کر دیا“۔ یہ سب بیان کرنے کے بعد مصنف نے لکھا ہے۔ ”یہ صرف مجھ پر ہی تو عنایت نہیں کر رہے تھے، سب کو ہی دانہ ڈالتے ہوں گے کامیابی بھی پاتے ہوں گے تب ہی تو سلسلہ جاری تھا۔“ کتاب کے صفحہ 141…

31 Jan 7:15 AM 0 Read More...

اگر شاہ رُخ خان پاکستان آ جائے!...قلم کمان …حامد میر

بھارتی فلم اسٹار شاہ رخ خان کی بیوی ہندو ہے۔ شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام غیر مسلم رکھے تاکہ ان کی مسلم شناخت دونوں بچوں کے لئے وہ مسائل پیدا نہ کرے جن کا سامنا ان کے والد کو رہا ہے لیکن شاہ رخ خان کی کوئی احتیاط کام نہ آئی۔ بھارتی فلم انڈسٹری کا کنگ خان آخر کار پھٹ پڑا اور اس نے برملا کہہ دیا کہ سیکولر بھارت میں اس کی حب الوطنی مشکوک سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے اور کئی بھارتی سیاستدان اسے پاکستان جانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ شاہ رخ خان کے اس بیان پر کئی پاکستانی اخبارات نے سرخیاں جمائیں کہ شاہ رخ نے بھارتی سیکولرازم کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے بھی شاہ رخ کو یہ پیشکش کر دی کہ وہ پاکستان منتقل ہو جائیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جب بھارت میں مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ بھارتی سیکولرازم کا پردہ چاک کرتے ہیں تو ہمیں پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے لیکن بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ صرف بھارت کو نیچا دکھانے کے لئے ہمیں یہ بیان نہیں دینا چاہئے کہ شاہ رخ خان پاکستان آ جائیں۔ اس قسم کے بیانات سے شاہ رخ خان کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو سکتا ہے۔ شاہ رخ خان کو بھارتی فلم انڈسٹری نے ”کنگ خان“ بنایا ہے اگر وہ پاکستان آ گئے تو یہاں کیا کریں گے؟ پاکستان کی فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہے لہٰذا شاہ رخ خان کو اپنا فلم کیریئر ختم کرنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے ٹی وی ڈراموں میں اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کریں لیکن اگر کسی نے مطالبہ کر دیا کہ شاہ رخ خان کی ہندو بیوی اسلام قبول کرے تو کیا حافظ سعید ایسی صورت میں شاہ رخ خان کے خاندان کو تحفظ فراہم کریں گے؟ ہمیں شاہ رخ خان کو پاکستان آنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر وہ پاکستان آ گیا تو پھر بھارت میں آباد کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو گا؟ کیا بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیمیں ان کروڑوں مسلمانوں کو بھی پاکستان کی طرف نہیں دھکیلیں گی؟ کیا ہم دس پندرہ کروڑ بھارتی مسلمانوں کو پاکستان میں بسا سکتے ہیں؟ ہم 1971ء میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے چند لاکھ بہاریوں کو آج تک پاکستان نہیں لا سکے۔ یہ بہاری آج بھی ڈھاکہ میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہماری شان بے نیازی دیکھئے کہ ہم شاہ رخ خان کو پاکستان آ کر آباد ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔
جب کوئی بھارتی مسلمان اپنی تکلیف بیان کرتا ہے تو ہمیں ایسی بیان بازی نہیں کرنی چاہئے کہ اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو اور بی جے پی یا آر ایس ایس اسے پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے لگے۔ شائد ہم نہیں جانتے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ذہانت اور بہادری سے ہمیں پاکستان تو بنا دیا اور ہم نے اس پاکستان کو کھلونا سمجھ کر توڑ بھی ڈالا لیکن بھارتی مسلمان آج تک پاکستان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ بھارتی مسلمان اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر پاکستان کو خوب برا بھلا کہتے ہیں لیکن بھارتی ہندو انتہا پسند انہیں ہمیشہ پاکستان کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ میرا یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ بھارتی ہندو اور پاکستانی مسلمان امریکہ، یورپ یا مشرق وسطیٰ میں تو امن و شانتی سے مل جل کر رہتے ہیں لیکن اپنے ملکوں میں واپس جا کر امن کی آشا کو بھول جاتے ہیں۔ شاہ رخ خان کو تو صرف ڈرایا دھمکایا گیا اور طعنہ زنی کی گئی جس پر وہ بھارتی سیکولرازم کے خلاف پھٹ پڑے لیکن یاد کیجئے کہ سنجے دت کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ سنجے دت کی ماں نرگس مسلمان اور باپ سنیل دت ہندو تھا، اس کو مسلمان ماں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نفرت کا سامنا کرنا پڑا اور 1993ء میں ممبئی حملوں کے بعد سنجے دت کو گرفتار کر لیا گیا۔ سنجے دت پر الزام لگایا گا کہ ان کا داؤد ابراہیم سے رابطہ تھا اور داؤد ابراہیم نے ان کو ناجائز اسلحہ فراہم کیا۔ سنجے دت کو بار بار جیل جانا پڑا اور بڑی مشکل سے انہوں نے دہشت گردی کے الزام سے نجات پائی کچھ سال پہلے بھارتی پنجاب کے ایک ریٹائرڈ افسر بلجیت رائے نے ایک کتاب لکھی تھی Is India Going ISLAMIC (کیا بھارت مسلمان ہو جائے گا) اس کتاب میں بلجیت رائے نے بھارت کے پڑھے لکھے مسلمانوں کو ایک مافیا قرار دیا ہے۔ یہ کتاب شبانہ اعظمی سے لے کر شاہ رخ خان تک بھارت کے قابل ذکر مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھری پڑی ہے۔ کتاب میں کشمیر، آسام، مہاراشٹرا، کیرالہ اور دہلی کے مسلمانوں کو بھی مافیا کا حصہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ پڑھ لکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ مصنف نے اردو زبان سے بھی سخت نفرت کا اظہار کیا ہے۔ ہمدرد یونیورسٹی دہلی اور جامعہ ملیہ دہلی یر تنقید کی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ ہندوؤں کی آبادی کم ہو رہی ہے۔ بلجیت رائے نے اس کتاب میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کو بھی بھارت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ بلجیت رائے کے دعوے کے مطابق 2 کروڑ بنگالی مسلمان غیر قانونی طریقے سے آسام میں گھس چکے ہیں اور آسام کے 23 میں سے 10 اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت قائم ہو چکی ہے۔ آسام اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ کشمیر میں ہندو داخل نہیں ہو سکتے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو 2024…

28 Jan 7:27 AM 2 Read More...

چور لٹیرے سیاستدان ... قلم کمان …حامد میر

قومی اسمبلی کے پانچ سال پورے ہونے والے ہیں۔ کل رات میں نے ایک رکن قومی اسمبلی سے پوچھا کہ کیا آپ نے الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے؟ رکن اسمبلی نے سوال سن کر بڑے سنجیدہ لہجے میں کہا کہ شائد وہ الیکشن نہ لڑے۔ یہ جواب میرے لئے انتہائی غیر متوقع تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو رکن اسمبلی نے کہا کہ ابھی میں بوڑھا تو نہیں ہوا لیکن سیاست نے تھکا دیا ہے۔ میں نے اس سیاسی تھکاوٹ کی تفصیل میں جانے کی کوشش کی تو رکن اسمبلی صاحب غضب ناک ہو گئے۔ کہنے لگے کہ سوچتا ہوں کہ کیا مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ میں میڈیا کی گالیاں کھاؤں، ووٹروں کے نخرے اٹھاؤں، اپنی جمع پونجی بچوں پر خرچ کرنے کی بجائے الیکشن پر لگاؤں؟ پھر قومی اسمبلی کا رکن بن جاؤں اور مزید 5 سال کی رسوائی کا عذاب اٹھاؤں؟
موصوف غصے میں آ چکے تھے۔ کہنے لگے کہ سیاستدان اس ملک کا سب سے مظلوم طبقہ ہے، جو خود ٹیکس چوری کرتے ہیں سیاستدانوں کو ٹیکس چور قرار دے ڈالتے ہیں جو خود آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر پورے نہیں اترتے وہ ہم سیاستدانوں کے کردار میں سے امانت اور دیانت تلاش کرنے لگتے ہیں بس میں نے سوچ لیا ہے کہ الیکشن نہیں لڑنا، میں بچوں سمیت کینیڈا جا رہا ہوں، میں وہاں کی شہریت حاصل کروں گا، میں نے پچھلے پندر ہ بیس سال میں اپنے علاقے کے لوگوں کی بڑی خدمت کی ہے، اگلے پندرہ بیس سال تک کسی بھی وقت پندرہ بیس ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لانا میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں پانچ سال کینیڈا میں گزار کر اگلے الیکشن سے چند ماہ پہلے واپس آؤں گا، ایک بلٹ پروف ٹرک پر چڑھوں گا اور پندرہ بیس ہزار لوگوں کے ساتھ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کا ورد کرتا ہوا اسلام آباد پہنچوں گا، اگر تم لوگوں نے مجھے اہمیت نہ دی تو میں کسی بدنام زمانہ ایڈور ٹائزمنٹ ایجنسی کے ذریعہ میڈیا پر اشتہارات کی بھرمار کر دوں گا پھر دیکھوں گا تم مجھے کیسے اہمیت نہیں دیتے؟ اس جملے نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔ میں نے اس آگ پر قابو پاتے ہوئے احتجاجی لہجے میں کہا کہ کیا تم نے میڈیا کو بکاؤ مال سمجھ رکھا ہے؟ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ہم سچ کی خاطر نوکریوں سے نکالے جاتے ہیں، ہم پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، ہمیں اغواء کیا جاتا ہے، ہمیں قتل کیا جاتا ہے ہمیں دھمکایا جاتا ہے ہم پھر بھی سچ کہنے سے باز نہیں آتے، چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورے میڈیا کو بکاؤ مال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میری تکلیف دیکھ کر رکن اسمبلی کو کچھ قرار آ گیا اور فرمانے لگے کہ کیا سیاستدان قتل نہیں ہوتے، کیا سیاستدان گرفتار نہیں ہوتے ، کیا سیاستدانوں پر جھوٹے مقدمے نہیں بنتے کیا سیاستدانوں پر جھوٹے الزامات نہیں لگتے؟ کیا چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سب سیاستدانوں کو چور، لٹیرے، یزید اور فرعون کہنا جائز ہے؟ سیاستدان میڈیا کی کالی بھیڑوں کے خلاف احتجاج کرے تو بہت برا ہو جاتا ہے، آزادی صحافت کا دشمن قرار پاتا ہے، الطاف حسین کو بھی معذرت کرنی پڑتی ہے لیکن میڈیا جو مرضی کرے، جھوٹی خبریں نشر کرے، پاکستان کے سب سے بڑے ٹیکس چور کے حق میں اشتہارات چلائے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بھائی ہم ہارے تم جیتے۔ ہمیں معاف کر دو۔ ہم یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ تم لوگوں کا علاج صرف جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الحق ہے وہ ملک توڑے یا تمہارا سر توڑے، میڈیا اور عدالتیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں سیاستدان ملک بنائیں یا بچائیں وہ ڈاکو اور لٹیرے کہلائیں گے۔ گڈ بائی۔ میں جا رہا ہوں۔
رکن قومی اسمبلی صاحب مجھے جلی کٹی سنا کر پارلیمنٹ ہاؤس کی پُر پیچ راہداریوں میں غائب ہو چکے تھے اور میں حیران و پریشان کھڑا اپنے ایک ساتھی کا منہ تکے جا رہا تھا۔ آج کل بہت سے ارکان اسمبلی ہم میڈیا والوں کے ساتھ ناخوش نظر آتے ہیں۔ سب سیاست چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن بجھے بجھے اور تھکے تھکے سے بھی لگتے ہیں۔ پچھلے دنوں ہمارے دوست عمر چیمہ نے ان سیاستدانوں کی فہرست جاری کی تھی جنہوں نے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ آج کل ایسے سیاستدانوں میں سے جو بھی ملتا ہے وہ مجھے یہی کہتا ہے کہ آپ میڈیا والے صرف سیاستدانوں کے کپڑے اتار سکتے ہیں کیونکہ ہم آپ کو اغواء نہیں کرتے اور آپ کے سر کے بال نہیں منڈواتے جو لوگ آپ کو اغواء کر کے تشدد کرتے ہیں ان کا آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ حکومت کے ایک بہت طاقتور وزیر صاحب آج صبح مجھے کہہ رہے تھے کہ میڈیا نے شاہ زیب خانزادہ اور کامران فیصل کے لئے بہت شور مچایا، اچھا کیا لیکن کاش کہ آپ لوگ اکبر بگٹی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے بھی ایسے ہی شور مچاتے۔ میں نے ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر وزیر صاحب سے کہا کہ بگٹی صاحب کے نامزد قاتل آپ کی حکومت کے اتحادی ہیں جب ہم قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں تو آپ کو جمہوریت کے خلاف سازشیں یاد آ جاتی ہیں۔ بیچارے وزیر صاحب نے فوراً ہاتھ جوڑ دیئے اور کہا کہ بھائی معاف کر دو آئندہ گستاخی نہیں کروں گا۔
وزیر کی معافی اور اس کی عاجزی نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا میں نے اپنی غلطی پر کبھی کسی سیاستدان سے معافی مانگی ہے؟ ٹھیک ہے سیاستدانوں نے بہت غلطیاں کی ہیں اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی ہمارا فرض ہے لیکن کیا پاکستان کی تمام خرابیوں کے ذمہ دار صرف سیاستدان ہیں؟ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کسی فوجی جرنیل نے نہیں بنایا بلکہ سیاستدانوں نے بنایا تھا۔ جب سیاستدان انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے تو جنرل ایوب خان انگریزوں کے تنخواہ دار تھے۔ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد جب چور اور لٹیرے سیاستدانوں نے مذاکرات کے ذریعہ گوادر کو پاکستان کا حصہ بنایا تو جنرل ایوب خان نے عدلیہ کی مدد سے ان سیاستدانوں کو زیر کر لیا۔ موصوف کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے فوجی طاقت کی مدد سے صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر بنگالیوں کو پاکستان سے متنفر کر دیا۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں پاکستان ٹوٹ گیا۔ جنرل یحییٰ خان کے حکم پر پاکستانی فوج نے بھارت کے سامنے سرنڈر بھی کیا لیکن کسی کا احتساب نہ ہوا البتہ کچھ سالوں بعد پاکستان کو 1973ء کا متفقہ آئین دینے والے اور ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو جرنیلوں نے عدلیہ کے ساتھ مل کر پھانسی پر لٹکا دیا۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھارت نے سیاچن پر قبضہ کر لیا۔ آج تک سیاچن پر قبضے کی کوئی انکوائری نہ ہوئی لیکن 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف کو حکومت سے بھی نکالا گیا اور جلا وطن بھی کیا گیا۔ پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کشمیر پر سرنڈر کیا گیا اور امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دیئے گئے۔ یہ کام کوئی سیاستدان کرتا تو غدار ٹھہرتا لیکن کیونکہ مشرف ایک جرنیل تھا لہٰذا اسے گارڈ آف آنر دے کر ایوان صدر سے رخصت کیا گیا۔ پچھلے پانچ سال میں بہت کرپشن ہوئی بہت الزامات سامنے آئے لیکن کیا اسی کرپٹ حکومت نے شمسی ایئر بیس سے امریکہ کو نہیں نکالا؟ کیا ان چور اور لٹیرے سیاستدانوں نے این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق نہیں کیا؟ کیا ان چور لٹیرے سیاستدانوں نے آئینی ترامیم کے ذریعہ صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو واپس نہیں کئے؟ کیا ایک منتخب وزیراعظم توہین عدالت کے الزام میں نااہل نہیں ہوا؟ کیا ایک نا اہل وزیر اعلیٰ کو بلوچستان میں فارغ نہیں کیا گیا؟ 65 سال میں سے 32…

24 Jan 6:22 AM 1 Read More...

ایک ملین ڈالر کا سوال...قلم کمان …حامد میر

ڈاکٹر طاہر القادری کو علامہ کینیڈی لکھنے پر ان کے کچھ عقیدت مند مجھ سے سخت ناراض تھے۔ عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری تبدیلی اور انقلاب کی علامت ہیں اور ڈاکٹر صاحب کی مخالفت کا مطلب تبدیلی کی مخالفت ہے۔ میں نے ان کے ایک جذباتی عقیدت مند کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے دسمبر 1999ء میں مسجد شہداء کے سامنے ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک احتجاجی دھرنا یاد ہے۔ انہوں نے یہ دھرنا سو بچوں کے ایک قاتل کے خلاف دیا تھا۔ اس زمانے میں جنرل پرویز مشرف نئے نئے اقتدار میں آئے تھے۔ شاہراہ قائد اعظم لاہور پر دفعہ 144 نافذ تھی۔ جیسے ہی طاہر القادری منہاج القرآن سکول سسٹم کے طلبہ کے ساتھ مسجد شہداء سے باہر آئے تو پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا اور ڈاکٹر صاحب بچوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی لینڈ کروزر میں بھاگ گئے۔ میں نے ان کے عقیدت مند سے کہا کہ بطور ایک صحافی میں ڈاکٹر صاحب کو بہت پرانا جانتا ہوں۔ منہاج القرآن کے پہلے ناظم اعلیٰ مفتی محمد خان قادری کے توسط سے مجھے جو معلومات ملیں وہ انتہائی حیران کن تھیں۔ رہی سہی کسر ڈاکٹر صاحب کے ایک سابقہ ساتھی اور معروف نعت گو شاعر مظفر وارثی مرحوم کی کتاب ”گئے دنوں کا سراغ“ نے پوری کر دی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے نواز شریف سے اپنی بہنوں کے نام پر پلاٹ لئے اور جب کبھی ان سے پوچھا جاتا کہ آپ نے شریف خاندان سے فائدے اٹھائے اور پھر ان کی مخالفت بھی کی تو ڈاکٹر صاحب کہا کرتے کہ حضرت موسیٰ  بھی تو فرعون کے گھر پلے بڑھے تھے۔ مظفر وارثی نے ڈاکٹر طاہر القادری کے کہنے پر سرکاری نوکری چھوڑ کر مصطفوی انقلاب کیلئے پاکستان عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کی لیکن جب انہیں ”وزیر اعظم طاہر القادری“ کے نعرے لگانے پڑے تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو خیر باد کہہ دیا۔ 14 جنوری 2013ء کو ڈاکٹر صاحب کا ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوا تو ان کا دعویٰ تھا کہ وہ انقلاب کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ وہ اسلام آباد کو کربلا اور حکمرانوں کو یزید، فرعون اور نمرود قرار دے رہے تھے۔ میرے کچھ محترم ساتھیوں کا خیال تھا کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کون ہے یہ دیکھا جائے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میرا موقف تھا کہ بطور صحافی کوئی خبر قارئین تک پہنچاتے ہوئے ہمیں غیر جانبدار رہنے کی ضرورت ہے لیکن خبر پر تجزیہ کرتے ہوئے ہم جھوٹ اور سچ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتے، ہمیں قارئین کو بتانا چاہئے کہ آج انقلاب کا نعرہ لگانے والا دس سال پہلے کیا کر رہا تھا اور بیس سال پہلے کیا کر رہا تھا؟
جس دن ”علامہ کینیڈی“ کے عنوان سے اس خاکسار کا کالم شائع ہوا اس شام ساری دنیا نے دیکھا کہ جن حکمرانوں کو ڈاکٹر طاہر القادری یزید، فرعون اور نمرود قرار دے رہے تھے انہی حکمرانوں کو گلے بھی لگایا اور ان کے ساتھ مذاکرات بھی کئے۔ جب ڈاکٹر صاحب باری باری حکومتی وفد کے ارکان کا تعارف کروا رہے تھے اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ فرط جذبات سے ان کے سینے سے لگ رہے تھے تو مجھے آغا شورش کاشمیری کا یہ شعر یاد آیا #
سیاسی مچھندر خدا ہو گئے ہیں
لٹیرے تھے اب رہنما ہو گئے ہیں
ڈاکٹر ڈاکٹرطاہر القادری اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے۔ مذاکراتی ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے انہیں بار بار نواز شریف کے متعلق قصے کہانیاں سنائیں۔ وفد کے ارکان نواز شریف کے متعلق باتوں میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب زبردستی کہانی پر کہانی سنا رہے تھے۔ اس دوران ایک حکومتی وزیر نے اپنے ساتھی کے کان میں کہا کہ یہ اپنے مریدوں کو جھوٹے خواب سناتا ہے ہمیں جھوٹی کہانیاں سنا رہا ہے ہم کدھر پھنس گئے؟ ڈاکٹر صاحب فرما رہے تھے کہ ایک زمانے میں نواز شریف ان کے عقیدت مند تھے اور باقاعدگی سے اتفاق مسجد ماڈل ٹاؤن لاہور میں ان کا درس قرآن سنتے تھے۔ ایک دفعہ نواز شریف ان کے دفتر میں آئے اور دروازہ بند کر کے بڑے تجسس سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کہیں آپ امام مہدی تو نہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب میں کہا کہ نہیں نہیں میں امام مہدی نہیں ہوں۔ یہ سن کر نواز شریف پریشان ہو گئے اور بے چینی سے کہا کہ تو پھر آپ کون ہیں؟ یہ کہانی سن کر حکومتی وفد کے ارکان تو ہنس دیئے لیکن مشاہد حسین نے کہا کہ واقعی یہ ملین ڈالر کا سوال ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کے پیچھے کون ہے؟ مشاہد صاحب کے جملے پر ڈاکٹر طاہر القادری بھی ہنسنے لگے۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کے ساتھ جس معاہدے پر دستخط کئے اس کے بعد کون سا انقلاب آیا ہے؟ اس معاہدے پر اس وزیر اعظم نے دستخط کئے جس کی گرفتاری کے حکم پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے ساتھیوں کو مبارکبادیں دی تھیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ سیاست اور میڈیا میں انقلاب کے نام پر غیر جمہوری تبدیلی کے حامی بے نقاب ہو گئے۔ کیسی ستم ظریفی تھی کہ ایک طرف ڈاکٹر طاہر القادری کرپشن کے خلاف نعرے لگا رہے تھے دوسری طرف این آر او پر دستخط کرنے والا مفرور ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کھل کر ڈاکٹر صاحب کی حمایت کر رہا تھا۔ کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی حمایت کرنے والوں میں اکثریت مشرف کے سابقہ ساتھیوں کی تھی؟
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ناکام لانگ مارچ اور آخر میں سرنڈر کا سب سے زیادہ فائدہ نواز شریف کو ہوا ہے۔ حکومت ڈاکٹر صاحب کو روکنے میں ناکام رہی لیکن جب نواز شریف نے لاہور میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کر لیا تو حکومت کے حوصلے بلند ہوئے اور طاہر القادری نے چند گھنٹوں میں ہتھیار پھینک دیئے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ فائدہ نواز شریف کو نہیں آصف زرداری کو ہوا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا دراصل آئندہ الیکشن ملتوی کرانے کی ایک ناکام سازش تھی تاکہ نواز شریف اقتدار میں نہ آ سکیں۔ اس ناکام سازش سے پاور پالیٹکس کرنے والے کئی موسمی سیاستدان خبردار ہو گئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ نواز شریف کے خلاف ایک اور سازش بھی ہو سکتی ہے اور ضروری نہیں کہ اگلی سازش ناکام ہو جائے لہٰذا یہ موسمی سیاستدان نواز شریف کے کاروان میں شمولیت سے پہلے کئی مرتبہ سوچیں گے۔ جہلم سے نواز شریف کے ایک پرانے ساتھی راجہ افضل کی اپنے دو ایم این اے صاحبزادوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت خاصی حیران کن ہے۔
راجہ افضل سابق گورنر چودھری الطاف اور ڈاکٹر غلام حسین کے سیاسی حریف رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی خود کشی کیلئے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ ان کی شمولیت کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ ن کو خاصا ٹف ٹائم دے گی لیکن دوسری طرف نیب کے ایک نوجوان افسر کامران فیصل کی پراسرار موت نے پیپلز پارٹی کے حلقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ کامران فیصل رینٹل پاور کمپنیوں کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کر رہے تھے۔ ان ہی کی پیش کردہ رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ کامران فیصل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ خاصے دباؤ میں تھے۔ نیب کے ایک افسر کوثر ملک نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف اپنی رپورٹ کو تبدیل کریں۔ کامران فیصل نے 17…

21 Jan 6:51 AM 3 Read More...