علامہ کینیڈی ... قلم کمان …حامد میر

 

 

 

 

ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید بہت آسان ہے۔ کوئی انہیں چابی والا بابا قرار دے رہا ہے تو کوئی انہیں کسی امریکی ڈرامے کا اردو ترجمہ قرار دے رہا ہے، کوئی انہیں جرنیلوں کی ناتمام خواہشات کا ٹوٹا ہوا آئینہ کہتا ہے اور کوئی انہیں سیاسی مداری قرار دیکر اپنے غصے کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا مذاق اڑانا اس لئے بھی بہت آسان ہے کہ ان کے ہاتھ میں بندوق نہیں ہے۔ انہوں نے 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے لاکھوں کا مجمع اکٹھا کر لیا لیکن اس مجمعے کی طاقت کو میڈیا پر دباؤ کے لئے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے میڈیا میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اشتہارات کا سہارا لیا۔ سیاست بچاؤ یا ریاست بچاؤ کا نعرہ لگایا اور سیاستدانوں کی اکثریت کو اپنا دشمن بنا لیا۔ ڈاکٹر صاحب پر تنقید اس لئے بھی آسان ہے کہ ان کے مریدین نہ تو کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ کرتے ہیں نہ ہی کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر کسی چینل کی نشریات بند کرتے ہیں۔ 23 دسمبر کے جلسے سے پہلے اور بعد میں کچھ اہل فکر و دانش نے خالصتاً نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر ڈاکٹر طاہر القادری کو آڑے ہاتھوں لیا کیونکہ ان کا نعرہ صاف پتہ دے رہا تھا کہ وہ غیر سیاسی قوتوں کو سیاست کا گند صاف کرنے کیلئے اقتدار پر قبضے کی دعوت گناہ دے رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب پر تنقید کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے جو صرف تحریک طالبان پاکستان کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ میں خود بہت گناہ گار انسان ہوں اس لئے جب کسی دوسرے کی عیب جوئی کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے لیکن جب میں اپنے ایک بہت پرانے مہربان علامہ صاحب کو مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ڈاکٹر طاہر القادری پر الزامات لگاتے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے وہ صحافی دوست یاد آنے لگتے ہیں جو ان علامہ صاحب کی شام کی محفلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ علامہ صاحب شام کو میرے لبرل اور سیکولر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر طالبان کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور دوپہر کو طالبان کے حامیوں کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ میں جب اس علامہ صاحب کو ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف آگ برساتا دیکھتا ہوں تو میری نظریں جھک جاتی ہیں اور سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پر تنقید کتنی آسان اور اس علامہ صاحب پر تنقید کتنی مشکل ہے۔ اگر اس علامہ پر تنقید کروں تو کئی ساتھی اینکر، کئی نامور کالم نگار، کئی علماء اور کچھ کالعدم تنظیموں کے عہدیدار بھی مجھ سے ناراض ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید صرف ان علماء کرام کا حق ہے جن کا اپنا دامن صاف ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بذاتِ خود لفظ ”مولانا“ سے کافی الرجی محسوس ہوتی ہے لیکن ان کے قول وفعل سے مولانا صاحبان کی ساکھ سب سے زیادہ مجروح ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب مانیں نہ مانیں لوگ انہیں مولانا سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے انتخابات سے صرف چند ہفتے قبل اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر کے ہم جیسے سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیران و پریشان کر دیا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ جس حکومت پر وہ تنقید کر رہے تھے اسی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ان کی حمائت کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب کو کراچی بلا کر ایم کیو ایم کے جلسے سے خطاب بھی کروایا گیا اور جب لانگ مارچ کے لئے روانگی کا وقت آیا تو ایم کیو ایم نے مارچ میں شرکت سے معذوری کر لی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحب بھی آخری وقت میں لانگ مارچ ختم کر نے کا اعلان کر دیں گے لیکن وہ ڈٹے رہے۔ انہوں نے 14 جنوری کو لاہور سے سفر کا آغاز کیا اور 15 جنوری کو اسلام آباد پہنچ کر دم لیا۔ اسلام آباد پہنچ کر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے سامنے 40 لاکھ لوگ موجود ہیں لیکن میڈیا نے ان کے حامیوں کی تعداد کو 40 ہزار کے آس پاس قرار دیا۔ 15 جنوری کی دوپہر تک ڈی چوک اسلام آباد کے سامنے موجود مظاہرین کی تعداد 20 ہزار سے بھی کم تھی اور ڈاکٹر صاحب رو رو کر ان مظاہرین کو واسطے دے رہے تھے کہ میرا ساتھ چھوڑ کر نہ جانا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک بلٹ پروف بنکر میں بیٹھ کر حکمرانوں کو فرعون، نمرود اور یزید قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کربلا میں حسین کے راستے پر چلنے آئے ہیں۔
کربلائے اسلام آباد کی بلٹ پروف اسٹیج سے حُسینیت کا نعرہ لگانے والے اس ماڈرن مجاہد کے اکثر مطالبات غیر آئینی تھے لیکن وہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے خلاف نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم مایوسی کے اندھیروں میں ڈاکٹر صاحب کے لئے امید کی کرن بن گیا اور وہ اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر سپریم کورٹ کے حق میں نعرے لگوانے لگے۔ وہ یہ بھول گئے کہ سپریم کورٹ جس آئین و قانون کی بالادستی چاہتی ہے اس آئین و قانون میں ڈاکٹر صاحب کے مطالبات پر عملدرآمد کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ لے کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہے تھے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مخالفین نے فوری طور پر عدلیہ کے فیصلے اور طاہر القادری کے مطالبات میں تعلق تلاش کرنا شروع کر دیا۔ یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی ٹائمنگ کا فائدہ طاہر القادری نے اٹھانے کی کوشش کی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طاہر القادری الیکشن کمیشن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے اور اسی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے بروقت انعقاد کی ہدائت کر دی۔ سپریم کورٹ طاہر القادری کے غیر آئینی ایجنڈے کو فروغ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ کیا وزیر داخلہ رحمان ملک انکار کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد کے ڈی چوک تک پہنچانے میں ان کے پرانے مہربانوں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے اہم کردار ادا کیا؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے دوران وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا حکم دے کر جمہوریت کو کمزور کیا وہ بتائیں کہ جب اسی وزیراعظم کے اتحادی الطاف حسین اور چودھری شجاعت حسین اور ڈپٹی وزیراعظم پرویز الٰہی نے ڈاکٹر طاہر القادری کی حمائت کی تو کیا جمہوریت مضبوط ہو رہی تھی؟
ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید آسان ہے اور سپریم کورٹ پر بھی تنقید آسان ہے کیونکہ دونوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں ہے لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ ڈاکٹر صاحب دنیا کی ہر قسم کی دولت بشمول ڈالروں سے مالا مال ہیں جبکہ سپریم کورٹ ڈالر مافیا کی نظروں میں کھٹک رہی ہے۔ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈاکٹر صاحب کی حمائت کر رہے ہیں اور فوجی مداخلت کے ذریعہ سیاسی تبدیلی کے اشارے دے رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ فوجی مداخلت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سپریم کورٹ نے غیر ملکی شہریت رکھنے والوں کے لئے پارلیمنٹ کی رکنیت ناممکن بنا دی اور اسی لئے ایم کیو ایم نے ڈاکٹر صاحب کی حمائت کی۔ ڈاکٹر صاحب کو ان کے مخالفین علامہ کینیڈی کہہ کر چھیڑتے ہیں۔ علامہ کینیڈی صرف اور صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تو پھر علامہ کینیڈی اور سپریم کورٹ میں گٹھ جوڑ کیسے ممکن ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے بھی 16…

17 Jan 6:24 AM 3 Read More...

قائد اعظم کس کے وفادار تھے؟...قلم کمان …حامد میر

دل خون کے آنسو رو رہا تھا، کوئٹہ میں قتل و غارت کے مناظر ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے14اگست 1948ء کو پاکستان کا پہلا یوم آزادی منایا تھا لیکن آج اس شہر پر دہشت کاراج تھا۔ میں کچھ باخبر لوگوں سے پوچھ رہا تھا کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے کوئٹہ اور کراچی میں خونریزی کیوں بڑھ رہی ہے؟ اسلام آباد پر ایک غیر ملکی شہری نے ہلہ بولنے کا اعلان کیوں کردیا ہے؟ باخبر لوگ جواب میں کہہ رہے تھے کہ پاکستان ایک انٹرنیشنل ڈرامے کے تھیٹر میں تبدیل ہورہا ہے ۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کو سبق سکھانا ہے۔ ایران کو سبق سکھانے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی مدد چاہئے لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاسی حکومت ایران کے خلاف امریکی ڈرامے کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ صرف ایک غیر سیاسی حکومت امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے تیار ہوگی اس لئے پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے کہ انتخابات ملتوی ہوجائیں اور کچھ عرصہ کے لئے ایک غیر سیاسی حکومت پاکستان کا انتظام سنبھال لے۔
میرا خیال تھا کہ آج کا پاکستان جمہوریت کے بغیر نہیں چل سکتا اور اگر پاکستان کا وجود بکھر گیا تو اس خطے میں امریکہ کے لئے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے لیکن امریکیوں کے ساتھ آئے دن مذاکرات کرنے والے باخبر لیکن بے اختیار لوگوں نے مجھے کہا کہ ڈیوڈ سینگر کی کتاب کنفرنٹ اینڈ کینسلConfront and conceal پڑھ لو تو ایران کے خلاف امریکی ایجنڈا سمجھ میں آجائے گا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کار بم دھماکوں کے ذریعے ایران میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھارہے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت کار اس تاثر کی نفی میں مصروف تھے کہ طاہر القادری کا لانگ مارچ کسی مغربی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سیاسی ڈرون حملے کا اعلان کردیا۔ ڈرون حملہ امریکیوں کی ایجاد ہے اور امریکیوں کی مرضی سے ہوتا ہے لہٰذا ہم انتظار کرنے لگے کہ ڈرون حملہ کب اور کس پر ہوتا ہے؟10جنوری کی شام الطاف حسین نے لندن سے بیٹھ کر ٹیلی فون پر ایک طویل خطاب کیا جو پاکستان کے اکثرٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ اس خطاب میں الطاف حسین نے اپنی دہری شہریت کا جواز پیش کرنے کیلئے بانی پاکستان قائد اعظم کے ایک پرانے پاسپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ بھی برطانوی شہری تھے۔ الطاف حسین نے گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظم کے حلف کی عبارت پڑھ کر کہا کہ اگر ہم نے برطانوی حکومت سے وفاداری کا حلف اٹھایا تو قائد اعظم نے بھی تو اٹھایا تھا۔ اس خطاب میں الطاف حسین پنجابی میں بڑھکیں مارتے رہے اور گانے بھی گاتے رہے۔ انہوں نے کہا پاکستان14اگست کو نہیں15اگست کو معرض وجود میں آیا تھا۔ الطاف حسین نے دہری شہریت کے معاملے پر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے قائد اعظم  کو انگریزوں کا وفادار بنادیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں قائد اعظم کے اس کردار کا ذکرتک نہ کیا جس کے ذریعہ انہوں نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی اور ان کے ہاتھوں بکنے سے انکارکردیا۔ الطاف حسین کی اس تقریر پر مجھے بہت تکلیف ہوئی لیکن اس تقریر پرعام پاکستانیوں نے کراچی سے کوئٹہ اور پشاور سے لاہور تک جس ردعمل کا اظہار کیا وہ خوف اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن تھا۔ ہم نے دیکھا کہ پختون ،سندھی اور بلوچ قوم پرست الطاف حسین کی مذمت کررہے تھے۔ خود ایم کیو ا یم کے کئی حامیوں نے الطاف حسین کی تقریر پر تاسف کااظہار کیا۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ الطاف حسین نے ایک تاریخی حقیقت کے ذریعہ محض یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح قائد اعظم نے مجبوری میں انگریزیوں سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہم نے بھی مجبوری میں دہری شہریت حاصل کی۔ دہری شہریت کوئی جرم نہیں لیکن دہری شہریت کے دفاع میں الطاف حسین نے تاریخی حقائق کو مسخ کیا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ قائد اعظم نے کبھی دہری شہریت حاصل نہیں کی تھی۔ وہ ایک غلام ہندوستان کے شہری تھے اس لئے ان کے پاسپورٹ پر برٹش انڈیا لکھا گیا۔ وہ کبھی جان بچانے کے لئے اپنے وطن سے نہیں بھاگے تھے۔ قائد اعظم کے قریبی ساتھی سید شمس الحسن نے ا پنی کتاب میں لکھا ہے کہ قائد اعظم مسلمانوں کے اندرونی اختلافات سے دل برداشتہ ہو کر اکتوبر1930ء میں لندن چلے گئے ۔ ان کی عدم موجودگی میں سر محمد شفیع کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا لیکن انہیں وائسرائے نے اپنی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بنالیا۔ پھر سر ظفر اللہ خان مسلم لیگ کے صدر بنے تو وائسرائے نے انہیں بھی ایگزیکٹو کونسل کارکن بنا کرمسلم لیگ سے چھین لیا، پھر علامہ اقبال لندن گئے اور قائد اعظم کو دسمبر1933ء میں واپس لائے، اس جلا وطنی میں قائد اعظم  نے برطانوی شہریت حاصل نہیں کی۔ قائد اعظم نے ابتداء میں کانگریس کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد کی۔ ان کی سامراج دشمنی کا یہ عالم تھاکہ1919ء میں رولٹ بل پیش ہوا تو قائد اعظم امپریل لیجسلیٹو کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ معروف بھارتی محقق اے جی نورانی نے”جناح اینڈ تلک“ کے نام سے اپنی کتاب میں آزادی پسند ہندو لیڈر گنگا دھر تلک کے ساتھ قائد اعظم کی دوستی کی تفصیل لکھی ہے۔ تلک پر بغاوت کے کئی مقدمے قائم ہوئے اور قائد اعظم نے ہمیشہ تلک کی مفت وکالت کی۔ اے جی نورانی نے انگریزوں کے ایک اور دشمن بھگت سنگھ پر اپنی کتاب میں 12اور14ستمبر 1929ء کو مرکزی اسمبلی میں قائد ا عظم کی دو تقاریر کو بھی شامل کیاہے، بھگت سنگھ نے اسمبلی پر بم حملہ کیا تھا لیکن قائد اعظم نے دو دن تک اس کے حق میں تقریر کی اور اسے سیاسی قیدی قرار دیا۔کانگریس کے نام نہاد سیکولر لیڈروں نے ہمیشہ انگریز سرکارکے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں اور اسی ملی بھگت کے خلاف قائد اعظم نے غازی علم دین شہید کی بھی حمایت کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم کو احساس ہوا کہ کانگریس کا سیکولر ازم ایک دھوکہ ہے لہٰذا وہ مسلم لیگ میں آگئے لیکن ان کی سامراج دشمنی کا یہ عالم تھا کہ 1935ء میں انگریزوں نے خان عبدالغفار خان کے خدائی خدمت گاروں پر پابندیاں لگائیں تو قائد اعظم نے اسمبلی میں خدائی خدمت گاروں کے حق میں تقریر کردی۔ شریف فاروق نے قائد اعظم پر اپنی تحقیقی کتاب میں بتایا ہے کہ قائد اعظم  نے ڈاکٹرخان صاحب، اے کے فضل حق اور مولانا شوکت علی کے ساتھ مل کر خدائی خدمت گاروں کے حق میں قرارداد منظور کرائی۔ 1933ء سے1946ء تک قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے فلسطین کے حق میں18قراردادیں منظور کیں جس پر مفتی اعظم فلسطین سید محمد امین الحینی نے 12 اکتوبر 1945ء کو قائد اعظم کو اپنے ہاتھ سے شکریے کا ایک طویل خط لکھا۔ الطاف حسین سے گزارش ہے کہ مشہور کتاب فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین لیری کولنز اور ڈومینک لپائرے کی کتاب”ماؤنٹ بیٹن ایڈدی پارٹیشن آف انڈیا“ پڑھ لیں۔ اس کتاب میں ماؤنٹ بیٹن کے انٹرویوز شامل ہیں اور اس نے قائد اعظم پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کو پتہ ہوتا کہ قائد اعظم اتنے بیمار ہیں تو وہ ہندوستان کو تقسیم نہ ہونے دیتا۔ ماؤنٹ بیٹن کی قائد اعظم سے نفرت کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھارت اور پاکستان کا مشترکہ گورنر جنرل بننا چاہتا تھا لیکن قائد اعظم کو قبول نہ تھا۔ بھارت نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل قبول کرلیا پاکستان نے نہیں کیا۔ تحریک پاکستان کے کارکن اور محقق ڈاکٹر زوار حسین زیدی نے”جناح پیپرز“ کی جلد سوم میں بتایا ہے کہ سی آئی ڈی پنجاب کا ڈی آئی جی ولیم جنکن پاکستان میں غداروں کا ایک نیٹ ورک تیار کررہا تھا۔ سی آئی ڈی کے ایک مسلمان افسر دبیر حسین زیدی نے ممتاز شاہنواز کے ذریعہ اس منصوبے کی دستاویزات قائد اعظم تک پہنچا دیں جس کے بعد قائد اعظم ماؤنٹ بیٹن سے خبردار ہوگئے۔
ماؤنٹ بیٹن نے5جولائی 1947ء کو قائد اعظم سے کہا کہ پاکستان اپنے پرچم میں یونین جیک کا نشان شامل کرلے ، قائد اعظم نے12جولائی 1947ء کو انکار کردیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ آپ گورنر جنرل ہاؤس پر پاکستان کے پرچم کے ساتھ برطانیہ کا پرچم لہرائیں ،قائد اعظم نے انکار کردیا۔ بات بات پر انکار کرنے والے قائد اعظم پر انگریزوں سے وفاداری کا الزام دراصل ان کی شخصیت پر ناکام ڈرون حملہ ہے۔ قائد اعظم نے بطور گورنر جنرل جو حلف اٹھایا تھا اس کی اصل عبارت الطاف حسین گول کرگئے۔ اصل عبارت یہ تھی کہ میری سچی وفاداری پاکستان کے آئین سے ہوگی لیکن بطور گورنر جنرل میں برطانوی بادشاہ کا وفادار رہوں گا۔ قیوم نظامی کی کتاب”قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل “ میں یہ حلف اصل الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی کتاب”تقسیم ہند افسانہ اور حقیقت“ میں بتایا ہے کہ15اگست جاپان کے خلاف برطانیہ کی فتح کا دن تھا اس لئے قائد اعظم نے 15…

14 Jan 10:44 AM 3 Read More...

قاضی صاحب! آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے...قلم کمان …حامد میر

 

 

 

 محترم قاضی حسین احمد کا آخری مضمون 31 دسمبر 2012ء کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔یہ مضمون پروفیسر غفور احمد کے بارے میں تھا۔ قاضی صاحب نے اپنے اس بزرگ ساتھی کی موت پر لکھے جانے والے مضمون کے آخر میں کہا تھا۔”اے ہمارے شفیق اور مہربان بھائی آپ ہم سے جدا ہوگئے لیکن آپ اب بھی ہمارے دلوں میں بستے ہوں“۔کون جانتا تھا کہ صرف چند دنوں کے بعد پروفیسر غفور احمد صاحب کے بارے میں لکھے گئے یہی الفاظ ہمیں قاضی حسین احمد صاحب کے انتقال پر یاد آئیں گے اور مجھے لکھنا پڑے گا کہ اے ہمارے شفیق اور مہربان بزرگ ! آپ ہم سے جدا ہوگئے لیکن آپ بھی ہمیشہ ہمارے دلوں میں بسے رہیں گے۔ قاضی حسین احمد ہمارے لئے صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ واقعی ایک ایسے شفیق بزرگ تھے جن سے میں سیاست پر کم اور دیگر موضوعات پر زیادہ گفتگو کیاکرتا تھا۔ قاضی حسین احمد کے ساتھ میری جان پہچان 1987ء میں شروع ہوئی۔ یہ وہ سال تھا جب میں نے میدان صحافت میں قدم رکھا اور قاضی حسین احمد بھی اسی سال جماعت اسلامی کے سربراہ بنے تھے۔ جنرل ضیاء الحق وطن عزیز پر حکومت کررہے تھے اور جماعت اسلامی کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی بی ٹیم کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں خوشنود علی خان روزنامہ جنگ لاہور کے چیف رپورٹر تھے۔ ایک دن چیف رپورٹر صاحب نے صبح کی میٹنگ میں اعلان کیا کہ آج سے جماعت اسلامی کی کوریج کی ذمہ داری حامد میر کی ہوگی۔ یہ اعلان میرے لئے کسی بم دھماکے سے کم نہ تھا کیونکہ جماعت اسلامی کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ میرے والد مرحوم پروفیسر وارث میر کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔جماعت اسلامی کے یہ رہنما جنرل ضیاء الحق کے حامی اور میرے والد جنرل ضیاء الحق کے بہت بڑے ناقد تھے اور جنرل ضیاء نے میرے والد کو اپنے دام الفت میں پھانسنے میں ناکامی کے بعد جماعت اسلامی کے انہی رہنماؤں کے ذریعہ بلیک میل کیا تھا۔ میرے والد کی زندگی کے آخری دنوں میں پروفیسرغفور احمد ان کی مدد کو آئے لیکن کچھ نہ کرسکے اور اسی دوران میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ہم جنرل ضیاء الحق اور جماعت اسلامی کو اپنے والد کی موت کا ذمہ دار سمجھتے تھے جبکہ خوشنود علی خان صاحب نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی جماعت اسلامی کو میرے سپرد کردیا تھا اور مجھے جماعت اسلامی کے سپرد کردیا تھا۔ یہ میری صحافتی تربیت کا آغاز تھا۔ مجھے اپنے ذاتی خیالات اور احساسات کو پس پشت ڈالتے ہوئے صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنی تھیں۔ میں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور جب میرے قدم جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ کی طرف بڑھے تو خوش قسمتی سے وہاں قاضی حسین احمد موجود تھے۔ قاضی صاحب کو سب کچھ معلوم تھا لیکن انہوں نے اپنی محبت اورشفقت کے ذریعہ ماضی کی تلخیوں کا ذکر کئے بغیر ان تلخیوں کو ختم کردیا۔ قاضی صاحب نے کئی دفعہ مجھے جماعت اسلامی کے حوالے سے ایسی خبریں دیں جو کسی اور کے پاس نہیں ہوتی تھیں۔ خود جماعت اسلامی کے لوگ میرے ساتھیوں سے پوچھتے پھرتے تھے کہ ہماری اندر کی خبریں حامد میر کو کیسے مل رہی ہیں۔ کچھ ہی عرصے میں مجھے سمجھ آگئی کہ جنرل ضیاء کے بارے میں قاضی حسین احمد کے خیالات میاں طفیل محمد سے بالکل مختلف تھے۔یہ میاں طفیل محمد تھے جنہوں نے جنرل ضیاء کے ریفرنڈم کی حمایت کی تھی۔ پروفیسر غفور احمد اور قاضی حسین احمد اس ریفرنڈم کے حامی نہیں تھے لیکن جماعتی نظم و نسق کی وجہ سے خاموش رہے،جماعت اسلامی کی امارت سنبھالنے کے بعد قاضی حسین احمد نے آہستہ آہستہ جنرل ضیاء پر تنقید شروع کی اور جماعت اسلامی کو نئی پہچان دینی شروع کی۔
1987ء سے پہلے جماعت اسلامی کو عوامی پارٹی نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کے منشور کو عام فہم بنا کر پیش کیا۔ انہوں نے سیاست اور صحافت میں اپنے کئی ناقدین کے دلوں میں محبت و احترام حاصل کیا۔ ہمارے دوست سہیل وڑائچ جماعت اسلامی کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے لیکن اپنا نکاح پڑھانے کے لئے ا نہوں نے قاضی حسین احمد کو درخواست کی اور قاضی صاحب نے بڑی خوشی کے ساتھ سہیل وڑائچ کا نکاح پڑھایا۔ قاضی حسین احمد نے1993ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے مقابلے پر پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے ایک تیسری سیاسی طاقت کو کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ محمد علی درانی ان کی میڈیا مہم کے انچارج تھے اور انہوں نے یہ نعرہ متعارف کرایا”ظالمو! قاضی آرہا ہے“ اس الیکشن میں اسلامک فرنٹ زیادہ نشستیں نہ حاصل کرسکی لیکن قاضی صاحب دینی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے قیام میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی تو مشرف نے جماعت اسلامی کی حمایت کے لئے قاضی حسین احمد سے ملاقات کی۔ قاضی صاحب نے ملاقات تو کرلی لیکن بڑا محتاط رویہ اختیار کیا۔ اپریل 2001ء میں مجھے قاضی حسین احمد کے ہمراہ تہران میں ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ ان دنوں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار تہران میں مقیم تھے۔ اپنے مہربان بخت زمین خان کے ذریعہ میں تہران میں گلبدین حکمت یار کا انٹرویو کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اگلے روز گلبدین حکمت یار نے مجھے اور قاضی صاحب کو ظہرانے پر بلایا۔ اس ظہرانے میں قاضی صاحب کی شخصیت کا ایک نیا پہلو میرے سامنے آیا۔ قاضی حسین احمد نے میری موجودگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار کے کچھ فیصلوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر حزب اسلامی اور جمعیت اسلامی آپس میں لڑنے سے گریز کرتے تو طالبان وجود میں نہ آتے اور آج افغانستان میں خانہ جنگی نہ ہوتی۔ گلبدین حکمت یار اپنے مہمان کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بڑے مدلل انداز میں اپنا موقف بیان کرتے رہے لیکن قاضی صاحب کا اصرار تھا کہ شمالی اتحاد اور طالبان کو آپس میں مذاکرات کرنے چاہئیں ورنہ امریکہ افغان گروپوں کے اختلافات کا فائدہ اٹھا کر افغانستان پر حملہ کردے گا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گلبدین حکمت یار نے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔قاضی حسین احمد نے پاکستان واپس آکر مولانا سمیع الحق سے درخواست کی کہ وہ طالبان اور شمالی اتحاد میں فاصلے کم کرنے کے لئے اہم کردار ادا کریں۔ فاصلے کم کرنے کے لئے مذاکرات شروع ہوگئے لیکن گیارہ ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں حملوں کے بعد دنیا بدل گئی۔2002ء میں قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن نے مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں دینی جماعتوں کا ایک اتحاد قائم کیا جسے متحدہ مجلس عمل کا نام دیا گیا۔ اس اتحاد نے انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی لیکن جنرل پرویز مشرف اس اتحاد کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ بظاہر تو کچھ یاران نکتہ داں ایم ایم اے کو ملاُ ملٹری الائنس قرار دیتے تھے لیکن مولانا شاہ احمد نورانی مجھے بتایا کرتے کہ مشرف اس اتحاد کے خلاف کیا کیا سازشیں کرتا تھا۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد اس اتحاد میں دراڑیں پڑگئیں اور یہ قائم نہ رہ سکا۔ اکبر بگٹی کی شہادت اور لال مسجد میں آپریشن کے بعد قاضی حسین احمد اسمبلیوں سے مستعفی ہونا چاہئے تھے لیکن ایم ایم اے میں اتفاق نہ ہوسکا لہٰذا قاضی حسین احمد ذاتی حیثیت میں اسمبلی سے مستعفی ہوگئے ۔قاضی حسین احمد اکیس سال تک امیر جماعت اسلامی رہے لیکن2008ء میں انہوں نے دوبارہ امیر بننے سے معذرت کرلی۔ پچھلے پانچ سال سے وہ ادارہ فکر و عمل کے نام سے ایک تھنک ٹینک چلارہے تھے جس کا بنیادی مقصد اتحاد امت تھا۔ پچھلے سال نومبر میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک کامیاب اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد کیا۔
5اور6…

07 Jan 6:17 AM 1 Read More...

بکواس...قلم کمان …حامد میر

 

 

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز بلاوجہ ان کی جماعت کے خلاف بکواس کررہے ہیں۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے بکواس کرنے کا حق نہیں ہے اگر آپ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ نے ہمیں بھی ہاتھ دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دھمکی نہیں دے رہا اشارہ دے رہا ہوں اسی میں تمہاری بہتری ہے ورنہ انقلاب کا راستہ جہاں اوروں کی بازپرس کرے گا وہاں تم بھی محفوظ نہ رہوگے۔الطاف حسین اور طاہر القادری14جنوری کو لاہورسے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے ذریعہ انقلاب کا سفر شروع کررہے ہیں ۔ان کا دعوی ہے کہ انقلاب کا یہ سفر پرامن ہوگا لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز کو یہ اشارہ دیا جارہا ہے کہ یہ انقلاب انہیں غیر محفوظ بھی کرسکتا ہے۔الطاف حسین کی تقریر سننے کے بعد ہم نے ایم کیو ایم میں اپنے دوستوں اور مہربانوں سے پوچھا کہ آپ لوگ کون کون سے اینکر پرسن اور رپورٹرز سے ناراض ہیں؟ ہمیں کسی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ہم نے بھی تفصیلات معلوم کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی کیونکہ اس قسم کی دھمکیاں یا انتباہ میڈیا کے لئے کوئی نئی چیز نہیں۔ ایک زمانے میں میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لئے صرف ڈرایا دھمکایا جاتا تھا، اخبارات کے بنڈل جلائے جاتے تھے، اخبار کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا جاتا تھا یا کسی صحافی کو نوکری سے نکلوا دیا جاتا تھا، پھر جنرل ضیاء الحق کا دور آیا ،صحافیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا اور کوڑے مارے گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار حکومت میں بھی میڈیا کے ساتھ جمہوری حکمرانوں کی غیر جمہوری آنکھ مچولی چلتی رہی۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں صحافیوں کو اغواء کرنے اور قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ صحافی قابو نہ آئے تو مشرف صاحب نے ہمارے دفاتر پر حملے کرائے، فائرنگ کروائی، پابندیاں لگوائیں۔ پھر پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کا دور حکومت آیا جو اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس دور میں بھی درجنوں صحافی قتل کئے گئے اور لاتعداد صحافیوں کو ان کے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ایم کیو ایم کا یہ کمال ہے کہ یہ جماعت مشرف حکومت میں بھی شامل تھی اور موجودہ حکومت میں بھی شامل ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے حکومت کے ہر اچھے برے کام میں شریک رہنے والی اس جماعت کے قائد الطاف حسین دس سال میں نظام کو نہ بدل سکے۔ اب وہ نظام کی تبدیلی کے لئے انقلاب لانا چاہتے ہیں اور لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حکومت چھوڑے بغیر سو دفعہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کریں لیکن یہ مت سمجھیں کہ لندن سے بیٹھ کر وہ کسی اینکر پرسن یا رپورٹر کو یہ سوال اٹھانے سے روک دیں گے کہ ایم کیو ایم انقلاب کے راستے پر روانگی سے قبل وزارتیں کیوں نہیں چھوڑتی؟
یہ درست ہے کہ میڈیا کو کسی مخصوص جماعت یا ادارے کے ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا نہیں بنانا چاہئے۔ یہ بھی درست ہے کہ اینکر پرسنز کو اپنے تجزیوں میں ذاتی پسند اور ناپسند کے مطابق ڈنڈی نہیں مارنی چاہئے لیکن ہم الطاف حسین جیسے سینئر اور تجربہ کار سیاستدان سے بھی یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ میڈیا کے لئے بکواس کا لفظ استعمال کریں اگر سوال کرنا واقعی بکواس ہے تو پھر اس بکواس سے اتنا بھی کیا گھبرانا؟ مجھے الطاف حسین کے الفاظ پر نہ افسوس ہوا ،نہ حیرت ہوئی بلکہ صرف ہنسی آئی۔ اس گستاخانہ ہنسی کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا سے صرف ا لطاف حسین نہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بھی ناراض ہے۔ گزشتہ ہفتے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی دوست نے مجھے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے تفصیلی ویڈیو انٹرویو کی ایک سی ڈی بھیجی جس میں وہ سوالات کے جوابات دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ولی الرحمان محسود بھی موجود ہیں۔ اس انٹرویو میں جگہ جگہ حکیم اللہ محسود نے میڈیا کے خلاف الزامات عائد کئے۔ اس سے پہلے ان کے ساتھی احسان اللہ احسان نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرنے والے صحافیوں کو امریکی ایجنٹ قرار دیدیا تھا۔ تحریک طالبان کی طرف سے میڈیا کو دھمکیوں پر ہمارے خفیہ ادارے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ بظاہر تحریک طالبان اور خفیہ ادارے ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے ہیں لیکن میڈیا کے خلاف دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خاموش تعاون کرتے ہیں۔خیبر پختونخوا میں کوئی خفیہ ادارہ کسی صحافی کو اغواء کرلے تو ذمہ داری طالبان پر ڈال دی جاتی ہے۔ بلوچستان میں لشکر جھنگوی کسی صحافی کو دھمکی دے تو اس کی ذمہ داری خفیہ ادار ے پر ڈالی جاتی ہے اور اسلام آباد میں کوئی صحافی خفیہ اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر سوالات اٹھائے تو اسے طالبان کے ذریعہ شٹ اپ کال دی جاتی ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کچھ دیگر سیاسی جماعتیں بھی میڈیا سے ناراضگی کا اظہار کرتی رہی ہیں لیکن کبھی کسی نے بکواس کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بکواس کا لفظ الطاف حسین نے استعمال کیا ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان میڈیا کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں ٹی وی پر سوالات کرنے والے اور اخبارات میں لکھنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں گولی مارنا، کسی بم دھماکے میں اڑانا یا کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں مروانا بہت آسان ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کے اس خطرناک ترین پیشے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا یورپ جانے کے مواقع نہیں ملے؟
ہم آج بھی پاکستان چھوڑے سکتے ہیں اور کسی بھی مغربی ملک کی شہریت آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہم اپنی مرضی سے پاکستان میں بیٹھے ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس پاک وطن کے لئے اپنا خون دیا ہے اور جب کوئی ہماری ارض وطن کو کسی معصوم کے خون سے سرخ کرتا ہے تو ہم سوال اٹھاتے ہیں۔ ہمارے سوالوں پر ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، ملک دشمن بھی کہا جاتا ہے لیکن ہم ملک چھوڑ کر نہیں بھاگتے کیونکہ ہمیں موت کا خوف نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین اور پاکستانی عوام کی بے پناہ محبت نے ہمیں موت کے خوف سے بہت دور کردیا ہے۔ آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ انقلاب کے لئے لانگ مارچ ضرور کریں کیونکہ یہ آپ کا آئینی و سیاسی حق ہے ۔
براہ کرم ہمیں بھی اپنے آئینی و صحافتی حق کو استعمال کرنے دیں اور یہ سوال پوچھنے دیں کہ اگر آپ واقعی اس کرپٹ نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو پھر چند وزارتیں لے کر اس کرپٹ نظام کا حصہ کیوں بنے بیٹھے ہیں؟ اگر آپ واقعی پاکستان میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پھر پاکستان آکر خود لانگ مارچ کی قیادت کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ سوال اٹھانا بکواس ہے؟ اگر یہ سوالات بکواس ہیں تو جناب ! یہ بکواس بند نہیں ہوگی

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کچھ اینکر پرسنز اور رپورٹرز بلاوجہ ان کی جماعت کے خلاف بکواس کررہے ہیں۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے بکواس کرنے کا حق نہیں ہے اگر آپ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ نے ہمیں بھی ہاتھ دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دھمکی نہیں دے رہا اشارہ دے رہا ہوں اسی میں تمہاری بہتری ہے ورنہ انقلاب کا راستہ جہاں اوروں کی بازپرس کرے گا وہاں تم بھی محفوظ نہ رہوگے۔الطاف حسین اور طاہر القادری14…

04 Jan 12:02 PM 2 Read More...

الوداع 2012ء... قلم کمان …حامد میر

 

آج سال 2012 ء کا آخری دن ہے۔ آج کے دن ہمیں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ 2012ء میں ہم نے کون کون سے بڑے جھوٹ بولے؟ ہم دوسروں پر بہت انگلیاں اٹھاتے لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اور یہیں سے وہ مسائل جنم لیتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ملتا۔ 2012ء کے کچھ اہم واقعات کو سامنے رکھئے۔ ان واقعات کا آغاز مایوسی تھی لیکن انجام کسی نہ کسی امید پر ہوا۔ 2012ء میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کے الزام میں مقدمہ چلا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دسمبر 2009ء میں این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے گریز کرتے ہوئے سوئس حکومت کو خط نہیں لکھا۔ گیلانی صاحب کا خیال تھا کہ خط نہ لکھ کر وہ سیاسی شہید بن جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت کے الزام میں چند سیکنڈ کی سزا دے کر وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا۔ نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے فوری طور پر عدالت میں حاضری دی اور چند دن کے اندر اندر عدالت کی مرضی کا خط لکھ کر یوسف رضا گیلانی کو حیران ہی نہیں پریشان بھی کر دیا۔ جب تک خط نہیں لکھا گیا تھا تو کہا جاتا رہا کہ ہم خط نہیں لکھیں گے خط لکھنے کا مطلب شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہو گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ خط لکھ دیا گیا اور شہید بے نظیر بھٹو کی قبر کا کوئی ٹرائل نہ ہوا۔
کون کس کے ساتھ جھوٹ بول رہا تھا؟ صدر آصف علی زرداری اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ یا گیلانی اپنے صدر زرداری کے ساتھ جھوٹ بول رہے تھے؟ 2012ء نے ہمیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن گیلانی کی نااہلی سے قانون کی بالادستی کی ایک مثال قائم ہوئی۔ پارلیمنٹ نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کیا لیکن دوسری طرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ 2012ء میں ریاستی اداروں نے سینکڑوں پاکستانیوں کو لاپتہ کیا، درجنوں نوجوانوں کو قتل کر کے لاشیں سڑکوں پر پھینکی گئیں۔ سپریم کورٹ کو بلوچستان بدامنی کیس میں یہ کہنا پڑا کہ صوبے میں آئینی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی عملداری قائم کرنے کی کوشش میں مصروف معزز جج صاحبان کو دھمکیاں دی جاتی رہیں اور بلیک میل کیا گیا۔ 2012ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے ارسلان افتخار پر بہت بڑے بڑے الزامات لگائے گئے لیکن کسی الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آیا بلکہ الزامات لگانے والے اور میڈیا میں ان کے ہمنوا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئے۔
سال 2012ء میں صرف عدلیہ پر نہیں بلکہ میڈیا پر بھی بہت دباؤ ڈالا گیا۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے صحافیوں کو قتل کیا جاتا رہا، اغواء کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور کئی صحافیوں کو اپنے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا کچھ نے یہ ملک بھی چھوڑ دیا۔ پورا سال عالمی میڈیا یہ تاثر دیتا رہا کہ پاکستان میں انتہاء پسندی بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک طرف گرلز اسکولوں میں بم دھماکے جاری تھے، پولیو ورکرز پر حملے کئے جا رہے تھے، مساجد اور امام بارگاہیں خود کش حملوں کی زد میں تھیں دوسری طرف کچھ لوگ ان واقعات کو ڈرون حملوں کا ردعمل قرار دیتے رہے لیکن دو واقعات میں جھوٹ ہار گیا سچ جیت گیا۔ پہلا واقعہ اسلام آباد کی ایک نواحی بستی میں پیش آیا جہاں ایک مسیحی لڑکی رمشا پر قرآن پاک کے اوراق جلانے کا الزام لگایا گیا۔ اس بستی کی غریب مسلمان عورتوں نے موقف اختیار کیا کہ رمشا کی ذہنی حالت ٹھیک نہ تھی بعد ازاں یہ شہادتیں بھی سامنے آئیں کہ ایک مقامی امام مسجد نے رمشا پر الزام لگاتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا کو بے قصور قرار دیا اور یوں ثابت ہوا کہ خرابی توہین رسالت کے قانون میں نہیں بلکہ ہمارے رویوں میں ہے۔ ہم اکثر اوقات مذہب کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں۔ عام پاکستانی کے ساتھ مولوی بھی جھوٹ بولتا ہے اور سیاستدان بھی جھوٹا بولتا ہے لیکن اب وہ سمجھدار ہوتا جا رہا ہے۔ وہ امریکہ میں اسلام کے خلاف بننے والی فلم کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آتا ہے لیکن جب کوئی مولوی اپنی بستی سے غیر مسلموں کو بھگانے کے لئے رمشا مسیح پر جھوٹا الزام لگا دے تو عام پاکستانی جھوٹ کے مقابلے پر سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان آگے جا رہا ہے پیچھے نہیں۔
2013ء میں سوات کے شہر مینگورہ میں اسکول کی طالبہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور تاویلیں بھی پیش کیں لیکن کسی جید عالم دین نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی تائید نہ کی۔ ملالہ پر حملے کا واقعہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس حملے سے قبل پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ تحریک طالبان پاکستان دراصل قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کا ردعمل ہے اور اسی ردعمل میں خود کش حملے شروع ہوئے لہٰذا ان ناراض نوجوانوں سے مفاہمت کا راستہ تلاش کیا جائے۔ ملالہ یوسف زئی پر حملے کے بعد اس سوچ کو دھچکا لگا کیونکہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والوں نے بیچاری بچی کو فاحشہ بھی قرار دے دیا۔ پاکستان کے ہر اسکول میں اس بچی کے حق میں دعا کی گئی اور یہ دعائیں بچی کو فاحشہ قرار دینے والوں کی بہت بڑی شکست تھی۔ سال 2012ء میں تحریک طالبان پاکستان ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرنے والوں کو امریکی ایجنٹ قرار دے رہی تھی اور اسی سال افغان طالبان فرانس کے شہر پیرس میں شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ پیرس میں مذاکرات کیلئے مولوی شہاب الدین دلاور کو قطر کے راستے پیرس پہنچایا گیا۔ ان کے ساتھ وہاں موجود ان کے سیاتھیوں نے مجھے بتایا کہ جب دلاور کو بشیر احمد بلور کی موت کی خبر ملی تو وہ بڑے افسردہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بناء پر پشاور میں ہونے والی قتل و غارت قابل افسوس ہے۔ دلاور صاحب پشاور میں طالبان حکومت کے قونصل جنرل رہے ہیں۔ بشیر بلور کبھی بھی طالبان کے خیر خواہ نہ تھے لیکن ان کے قتل کی افغان طالبان میں پذیرائی نہیں ہوئی۔ ملا محمد عمر کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی طالبان ملا محمد عمر کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں لیکن افغان طالبان کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کی کئی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بہرحال اب تو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بھی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ مذاکرات کی اس پیشکش کا مقصد شمالی وزیرستان میں کسی بڑے آپریشن سے بچنا ہے لیکن یہ تو طے ہے کہ حکیم اللہ محسود کے ویڈیو پیغام نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے۔ وہ کہتے تھے حکیم اللہ محسود زخمی ہے ولی الرحمان محسود کے ساتھ اختلافات ہیں لیکن ویڈیو پیغام میں دونوں ساتھ تھے۔ رحمان ملک اب تسلیم کریں کہ حکومت کے خفیہ ادارے انہیں غلط رپورٹیں فراہم کرتے ہیں۔
27/ دسمبر کو نوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو سامنے رکھا جائے تو حکومت مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کرے گی کیونکہ حکیم اللہ محسود کی اکثر شرائط ناقابل عمل ہیں لیکن اگر واقعی مذاکرات میں مخلص ہیں تو سب سے پہلے مذاکرات کا مقصد بیان کریں۔ مقصد پاکستانی قوم کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے۔ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ افغان طالبان کے لیڈر ملا محمد عمر تصدیق کریں کہ حکیم اللہ محسود ان کے پیروکار ہیں اگر یہ ممکن نہیں تو حکیم اللہ محسود پاکستان میں ایسے لوگوں کے نام دیں جو ان کی ضمانت دے سکیں بصورت دیگر مذاکرات کا آگے بڑھنا مشکل ہو گا۔ یہ ممکن نہیں کہ حکیم اللہ محسود اے این پی کو مارتے رہیں سکیورٹی فورسز پر حملے بھی کرتے رہیں اور پاکستانی ریاست سے کسی نئے این آر او کی توقع بھی کریں اگر یہ این آر او پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو نہیں ملا تو تحریک طالبان کو کیسے مل سکتا ہے؟ اللہ کرے کہ 2013ء میں ہم این آر او کی سیاست سے چھٹکارا پا لیں۔ مجھے امید ہے کہ 2013…

31 Dec 9:57 AM 0 Read More...