بی بی ہم شرمندہ ہیں ... قلم کمان…… حامد میر

27دسمبر 2007 کا دن مجھے آج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے۔ اس دن صبح سے آسما ن پربادل چھائے ہوئے تھے۔ ان بادلوں نے اسلام آباد کے موسم کو خوشگوار بنانے کی بجائے پراسراربنارکھا تھا۔ کئی دنوں سے اسلام آباد میں یہ سرگوشیاں ہو رہی تھیں کہ کسی اہم سیاسی شخصیت پرقاتلانہ حملہ ہوگا اور پھر جنوری 2008 میں ہونے والے انتخابات کوملتوی کردیاجائے گا۔ان سرگوشیوں کی وجہ اس وقت کے صدرجنرل پرویز مشرف اور محترمہ بینظیربھٹو میں مفاہمت کاخاتمہ تھا۔ محترمہ بینظیربھٹو نے3نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس مفاہمت کے خاتمے کا خود ہی اعلان کردیا تھا۔ ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد مشرف حکومت نے امریکہ کے ذریعے محترمہ بینظیربھٹو پردباؤڈالا کہ وہ پاکستان سے واپس چلی جائیں اور انتخابات کے بعد واپس آئیں۔ محترمہ بینظیربھٹو پر دباؤڈالنے والوں میں جان نیگروپونٹے اورپاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نمایاں تھیں۔ ایمرجنسی نافذ ہونے کے چند دنوں کے بعد محترمہ بینظیربھٹو نے ایک صبح مجھے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ناشتے پر بلایا۔ انہوں نے اندر اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کی بجائے باہر صحن میں پلاسٹک کی کرسیاں لگوائیں اورہم وہیں پر بیٹھ گئے۔ شاید وہ کوئی بہت اہم باتیں کرنا چاہتی تھیں اور انہیں شک تھاکہ ان کا ڈرائنگ روم محفوظ نہیں۔گفتگو کاآغاز ہوا تو محترمہ بینظیربھٹو نے مجھے پوچھا کہ کل ججز کالونی کے باہرمیں نے جو تقریر کی اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ آپ نے معزول چیف جسٹس جناب افتخارمحمد چودھری کے گھر پر دوبارہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان عوام کی اکثریت کے جذبات کی ترجمانی ہے لیکن جنرل پرویزمشرف اسے اپنے خلاف اعلان جنگ سمجھے گا۔ یہ سن کر محترمہ بینظیربھٹو مسکرائیں اورکہنے لگیں کہ پرویز مشرف نے جنگ شروع کردی ہے لیکن اعلان نہیں کیا۔ امریکی حکومت کے ذریعے مجھے پاکستان سے واپس جانے کے لئے کہا جارہاہے لیکن میں پاکستان سے واپس نہیں جاؤں گی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے بہت سے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے سفارتکاروں کویہ بتایا جارہا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہٹانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ دہشت گردوں کی مدد کر رہے تھے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ 3نومبر کی رات مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد طالبان لیڈر بیت اللہ محسود کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت جنوبی وزیرستان میں اغواکئے جانے والے فوجیوں کے عوض اڈیالہ جیل سے ایسے ملزمان کو رہا کردیا ہے جو بہت خطرناک ہیں اور ان ملزمان کے ذریعے مجھ پرحملہ کرایاجاسکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ حکومت اورعدلیہ میں محاذ آرائی کا آغازکہاں سے ہوا؟
میں نے محترمہ بینظیربھٹو کو بتایا کہ محاذ آرائی کا آغاز تو 2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی پرائیوٹائزیشن کے خلاف عدالتی فیصلے سے ہوا تھا لیکن اس میں شدت لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت سے پیدا ہوئی۔ محترمہ بینظیربھٹو نے پوچھاکہ کیا اکثر لاپتہ افرادکاتعلق طالبان اور القاعدہ سے نہیں؟ میں نے انہیں جواب دیاکہ اکثر لاپتہ افرادکا تعلق بلوچستان سے ہے اگران کے خلاف دہشت گردی کے الزامات ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیاجانا چاہئے۔ محترمہ کے چہرے پر موجود سنجیدگی اب تشویش میں بدل رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نواب خیربخش مری کے بیٹے بالاچ مری کے قتل پرافسوس کے لئے ان کے پاس کراچی گئی تھیں۔ نواب خیربخش مری نے محترمہ بینظیربھٹو کو کہا کہ ہماری فکر چھوڑو اپنی خیر مناؤ وہ آپ کو بھی قتل کروادیں گے۔ یہ واقعہ سنانے کے بعدانہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھنا اگر مجھے قتل کیا گیا تو ذمہ دار جنرل پرویز مشرف ہوگا۔ ان الفاظ نے مجھ پر سکتہ طاری کردیا۔ میں نے اس سکتے سے نکلنے کی کوشش کی اور بڑبڑاتے ہوئے کہاکہ آپ کو مروا کر مشرف کو کیافائدہ ہوگا؟ محترمہ بینظیربھٹو نے کہا کہ 17 اکتوبر کوکراچی میں میرے جلوس پر حملے کا ذمہ دار بھی مشرف ہے۔ آئندہ حملے کا ذمہ دار بھی وہی ہوگا۔ وہ کبھی امریکہ کے ذریعہ کبھی کسی عرب ملک کے ذریعہ مجھے کہلواتا ہے کہ پاکستان سے چلی جاؤتمہیں طالبان مار دیں گے لیکن خود طالبان کے ساتھ خفیہ سودے بازیاں کرتاہے۔ میں ان چالاکیوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ جب سے میں نے مشرف کی پالیسیوں پر تنقید شروع کی ہے اس نے میری سکیورٹی کم کردی ہے۔ وہ چاہتا ہے میں ڈر کر بھاگ جاؤں اور اگر نہ بھاگوں تو مجھے مار دیاجائے گا۔ ذمہ داری طالبان قبول کرلیں گے لیکن میں آپ کو باربار کہہ رہی ہوں ذمہ دار مشرف ہوگا اور میری موت کے بعد میرے قاتلوں کو بے نقاب کرنا آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہوگی۔یہ ملاقات ختم ہوئی تو میں سخت پریشان تھا۔ ان دنوں مشرف حکومت نے مجھ پرپابندی لگا رکھی تھی اور میں جیو ٹی وی پرپروگرام نہیں کر رہا تھا لیکن میں نے اپنے قلم کے ذریعے محترمہ بینظیربھٹو کی زندگی کو درپیش خطرات کا اظہار شرو ع کردیا۔ محترمہ نے انتخابی مہم شروع کردی تھی اور 27دسمبر کو وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرنے والی تھیں۔ ایک رات قبل 26 دسمبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم تاج نے ان کے ساتھ ملاقات کی تھی اور انہیں لیاقت باغ جانے سے روکا تھا۔ محترمہ نے انہیں جواب میں کہا تھاکہ اگر آپ جانتے ہیں کہ وہاں مجھ پر حملہ ہوگا تو حملہ آوروں کو پکڑیئے مجھے جانے سے نہ روکئے۔ 27دسمبر کی دوپہر میں جلسے کاماحول دیکھنے کے لئے لیاقت باغ گیا۔ وہاں کافی چہل پہل تھی لیکن محترمہ بینظیربھٹو کے ایک محافظ نے مجھے کہا کہ میر صاحب واپس چلے جاؤ آج یہاں خطرہ ہے۔ میں واپس اسلام آباد آ گیااور دعا کررہا تھا کہ خیر خیریت رہے لیکن شام کو محترمہ بینظیر بھٹو پر حملہ ہوگیا۔ انہیں شہید کردیاگیا۔ حملے کے ایک گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ کو دھو کر سب کچھ مٹا دیا گیا۔ کئی گھنٹے تک لاش کا پوسٹ مارٹم بھی نہ کیاگیا اور حملے کی ذمہ داری طالبان پرڈال دی گئی۔جب بھی 27 دسمبر آتی ہے میں محترمہ بینظیربھٹو کے یہ الفاظ یاد کرتاہوں کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو ذمہ دار مشرف ہوگا۔ ان کی قربانی کے نتیجے میں ان کی پارٹی نے مرکز کے علاوہ سندھ اوربلوچستان میں حکومت بنائی۔ ان ہی کی وجہ سے آصف زرداری صدر پاکستان، راجہ پرویز اشرف وزیراعظم اور رحمن ملک وزیرداخلہ ہیں۔ پانچ سال پورے ہونے کو ہیں لیکن محترمہ بینظیربھٹو کے اصلی قاتلوں کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ رحمن ملک آج بھی اسی کہانی کے گرد گھوم رہے ہیں جومشرف نے تیار کی تھی اور مشرف لندن میں گھوم رہا ہے۔ محترمہ بینظیربھٹو نے مارک سیگل کے نام ای میل میں بھی مشرف کو اپنے قتل کا ذمہ دارقرار دیا تھا ۔ میں تو حکومت میں نہیں ہوں لیکن 27…

27 Dec 9:48 AM 1 Read More...

بشیر احمد بلور ہمیشہ ز ندہ رہے گا!...قلم کمان …حامد میر

 

موت سب کو مارتی ہے لیکن شہید موت کو مار دیتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے۔ شہید کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اپنی شہادت کے بعد وہ دنیا میں شجاعت و بہادری کی مثال بن جاتا ہے اور لوگ اس کا نام ہمیشہ احترام سے لیتے ہیں۔22…

24 Dec 9:40 AM 2 Read More...

آزادی کی واحد ضمانت...قلم کمان …حامد میر

مغرب کی اذان شروع ہوئی تو دوست نے سلسلہ کلام منقطع کیا اور الوداع کہنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ بہت عرصے کے بعد مجھے ملا تھا۔ کچھ سال پہلے میرے اس صحافی دوست پر پشاور میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ حملہ آوروں نے گاڑی روک کر بالکل قریب سے اس پر فائرنگ شروع کر دی۔ ایک گولی اس کے سینے پر لگی۔ دوسری گولی چلانے کیلئے حملہ آور نے اپنے پستول کو اس کے سر پر رکھا تو اس اللہ کے بندے نے پستول کی نالی پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ دوسری گولی نے اس کے ہاتھ میں سوراخ کر دیا۔ میرے دوست نے اپنے حواس کو قابو میں رکھا اور زخمی حالت میں گاڑی بھگانے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس پر حملہ کرنے والے طالبان تھے لیکن وہ حاموش رہا۔ اس نے کسی پر الزام نہیں لگایا کیونکہ اسے شک تھا کہ طالبان کو صرف استعمال کیا گیا ہے حملے کی منصوبہ بندی کسی اور نے کی تھی۔ وہ مجھے اپنے جسم پر گولیوں کے نشان دکھا رہا تھا۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ میرے صحافی دوست نے مجھے افغانستان میں ملامحمد عمر کی حکومت کے وزیر خزانہ ملا آغا جان مستعصم کا سلام پہنچایا۔ آغا جان پر دو سال قبل کراچی میں گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی۔ ان کی گردن اور جسم کے دیگر حصوں پر بیس سے زیادہ گولیاں لگیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی جان بچا لی۔ آغا جان ان دنوں ترکی میں ہیں۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء اس خطے میں جاری خونریزی کو بہت کم کر دے گا۔ ایک طرف افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ افغان حکومت اور امریکہ کے علاوہ کئی دیگر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے پاکستان کو موثر کردار ادا کرنے کی اپیل کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف پاکستان کے اندر خانہ جنگی کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیکر شام جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کراچی کے حالات خراب کرنے میں اپنے اور پرائے سب شامل ہیں۔
اس شہر میں لسانی فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ارشاد فرمایا ہے کہ کراچی میں مارشل لاء لگا کر شہر کو اسلحے سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ موصوف نو سال تک پاکستان کے حکمران رہے۔ ان نو سالوں میں کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی بجائے وہ اسلحے کے زور پر سیاست کرنے والوں کی سرپرستی کرتے رہے، آج کراچی میں امن قائم کرنے کیلئے مارشل لاء کی تجویز دے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسی تجویز صرف اہل کراچی نہیں بلکہ پاکستان آرمی کے ساتھ بھی دشمنی کے مترادف ہے۔ فوج کا کام شہری علاقوں میں ناجائز اسلحہ کے خلاف آپریشن کرنا نہیں بلکہ ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ ہاں اگر سیاسی حکومت آئینی طریقے سے فوج کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے استعمال کرنا چاہے تو ٹھیک ہے لیکن کسی جرنیل کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کر کراچی بھیجنے کا مطلب خانہ جنگی کو آواز دینے کے مترادف ہو گا۔ یہ 1953ء نہیں 2012ء ہے۔ 1953ء میں سیاسی حکومت نے جنرل اعظم خان کے ذریعہ لاہور میں 70 دن کا مارشل لاء لگا کر انٹی قادیانی تحریک پر قابو پا لیا تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کو نہ تو ڈرون حملوں کا سامنا تھا نہ افغانستان سے پاکستان پر گولہ باری ہوتی تھی۔ فوج نے 70 دن کے اندر اندر لاہور میں امن قائم کر کے خوب داد وتحسین وصول کی اور چند سال کے بعد 1958ء میں پورے ملک کی مالک بن بیٹھی۔ اسی پہلے فوجی دور میں کراچی کے حالات بگڑنے شروع ہوئے جب جنرل ایوب خان نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر دھاندلی کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کو 1965ء کے صدارتی انتخابات میں شکست دی اور پھر قائد اعظم کی بہن کے ساتھ دھاندلی کا داغ مٹانے کیلئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کر دیا۔ یہ آپریشن کشمیر کی تحریک آزادی کے بارے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ محض کچھ سیاسی فوائد کیلئے ترتیب دیئے گئے اس انتہائی بھونڈے آپریشن کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ شروع ہو گئی۔ کشمیر کی تحریک آزادی کبھی پاکستانی فوج کی محتاج نہ تھی۔ یہ تحریک آزادی 1930ء میں شروع ہوئی تھی لیکن کبھی جنرل ایوب خان کے آپریشن جبرالٹر اور کبھی جنرل پرویز مشرف کے آپریشن کارگل نے اس تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ آج یہ جرنیل کراچی میں مارشل لاء کی تجویز کے ذریعہ کراچی کو کشمیر بنانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کی یہ تجویز فوج کے حاضر سروس جرنیلوں اور جوانوں کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتی۔
آج پاکستان کو مارشل لاء کی نہیں بلکہ صرف اور صرف ایک فیئر اینڈ فری الیکشن کی ضرورت ہے۔ ایک صاف ستھرا الیکشن پاکستان کو ایک روشن تبدیلی کی طرف لے کر جائے گا۔ اس وقت ہمیں مارشل لاء یا کالا باغ ڈیم کی تعمیر جیسے معاملات میں الجھنے کی بجائے صرف اور صرف ایک فیئر اینڈ فری الیکشن کے انعقاد کو ممکن بنانے کیلئے پورا زور لگا دینا چاہئے۔ انشاء اللہ آئندہ الیکشن اپنے وقت پر ہو گا لیکن دشمن اس الیکشن کو سبوتاژ کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کریں گے۔ الیکشن سبوتاژ کرنے کا سب سے آسان طریقہ وطن عزیز میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنا ہے۔ خانہ جنگی کیلئے کسی بڑے سیاسی یا مذہبی رہنما پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں قاضی حسین احمد پر مہمند میں حملہ ایسی ہی کسی سازش کی کڑی نظر آتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی خانہ جنگی کے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر پر ایک اور حملے کا مقصد طابان کے مختلف گروپوں کو آپس میں لڑانا ہے۔ مولوی نذیر پر اگست 2009 میں بھی ایک جان لیوا حملہ ہوا تھا۔ ان پر کئی ڈرون حملے بھی ہو چکے ہیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ جاتے ہیں۔ 30…

20 Dec 11:44 AM 0 Read More...

اب بس کریں!...قلم کمان …حامد میر

کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟13دسمبر کو ا فغان طالبان نے قندھار ایئر پورٹ پر غیر ملکی افواج کی ایئر فیلڈ کو ایک بارود بھری کار کے ذریعہ نشانہ بنایا۔ صرف دو دن کے بعد 15دسمبر کی شب پشاور ایئرپورٹ پر پاکستان ایئر فورس کی ایئر فیلڈ پر ایک بارود بھری کار کے ذریعہ حملہ ہوا اور تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ افغان طالبان کا نشانہ قابض غیر ملکی افواج ہیں جبکہ پاکستانی طالبان کا نشانہ اپنی فوج اور ادارے ہیں جو ان کے خیال میں غیرملکی طاقتوں کے اتحادی ہیں۔ پچھلے دس سال سے پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر غیر ملکی طاقتوں کی مدد کررہا ہے لیکن پاکستان میں دہشتگردی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ایک طرف غیر ملکی طاقتیں پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگاتی ہیں دوسری طرف ہم پاکستان میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹرپل گیم کھیل رہے ہیں۔ حملہ قندھار میں ہوتا ہے جواب پشاور میں دیا جاتا ہے۔ حملہ کابل میں ہوتا ہے جواب کوئٹہ اور کراچی میں دیا جاتا ہے۔ ناں تو افغان طالبان مانتے ہیں کہ انہیں پاکستان سے کوئی خفیہ مدد مل رہی ہے ناں ہی تحریک طالبان پاکستان مانتی ہے کہ اسے افغانستان کے راستے سے کوئی غیر ملکی امداد مل رہی ہے۔ افغان حکومت کئی سال سے دعویٰ کررہی ہے کہ ملا محمد عمر کوئٹہ میں روپوش ہیں لیکن آج تک ثبوت نہیں دیا گیا۔ ہمارے وزیر داخلہ رحمن ملک کئی مرتبہ افغانستان کے راستے سے پاکستان میں کراس بارڈ ٹیرر ازم کا الزام لگاچکے ہیں لیکن انہوں نے بھی کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ اس مرتبہ تو انہیں بہت سخت پیغام ملا۔ جس وقت پشاور ایئرپورٹ پر حملہ ہوا وہ بھارت میں امن کے گیت گارہے تھے اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کا ایک وفددہلی کے راستے سے لاہور پہنچ چکا تھا۔ انتخابات قریب ہیں۔ پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت انتخابات سے پہلے بھارت کے ساتھ کوئی بریک تھرو کرنا چاہتی ہے۔ ابھی تک بریک تھرو صرف اتنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو تجارت کے لئے پسندیدہ ملک قرار دینے کا وعدہ کررکھا ہے جس کے عوض پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت میں کچھ کرکٹ میچ کھیلنے کی سعادت بخشی جارہی ہے۔ اس صورتحال میں حریت کانفرنس کے ایک وفد کو پاکستان بلانے کامقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ حکومت عوام کو یہ تاثر دے سکے کہ وہ کشمیر پرکوئی سودے بازی نہیں کررہی اور کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر بھارت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھارہی ہے۔
پاکستان کے دورے پر آنے والے حریت کانفرنس کے وفد میں میر واعظ عمر فاروق اور دیگر اہم رہنما شامل ہیں جن کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہئے لیکن اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کیا جائے کہ سید علی گیلانی اور ان کا کوئی نمائندہ اس وفد میں شامل نہیں۔ یاسین ملک کا بھی یہ خیال ہے کہ حریت کانفرنس کے وفد کو پاکستان کے عام انتخابات سے صرف چند ماہ پہلے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے یہ تاثر ملے کہ حریت کانفرنس مسئلہ کشمیر کے حل کی کسی کوشش میں شامل نہیں بلکہ ایک سیاسی حکومت کے انتخابی عزائم کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ محب وطن پاکستانیوں کی بڑی اکثریت کے لئے یہ امر نہایت تکلیف کا باعث ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی بجائے غیر ملکی طاقتوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی۔ جنرل پرویز مشرف نے2002ء میں کشمیریوں پر ایک ایسا فارمولا مسلط کرنے کی ٹھان لی جو1931ء سے جاری کشمیر کی تحریک آزادی کے ساتھ غداری کے مترادف تھا اور اس مقصد کے لئے جنرل پرویز مشرف نے حریت کانفرنس کو تقسیم کردیا۔ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے بھارت نواز لیڈروں کو اسلام آباد بلا کر زبردستی حریت کانفرنس کی قیادت کے ساتھ بٹھایا گیا تاکہ لائن آف کنٹرول کو ختم کرکے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا اعلان کردیا جائے۔ پرویز مشرف اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہوئے لیکن افسوس کہ اب موجودہ حکومت کی کچھ شخصیات پرویز مشرف کے پرانے فارمولے کو کچھ نئے الفاظ کا جامہ پہنا کر دوبارہ پاکستانی اور کشمیری عوام کو بے وقوف بنانے کی تیاریوں میں ہیں۔ افسوس کہ پاکستان کے ارباب اختیار نے حریت کانفرنس کے وفد کو پاکستان بلانے سے پہلے سید علی گیلانی سمیت یاسین ملک اور شبیر شاہ کو اعتماد میں لینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ میر واعظ عمر فاروق اور ان کے وفد میں شامل مہمان مظفر آباد پہنچے تو پاکستان میں موجود غلام محمد صفی، فاروق رحمانی، غلام نبی نوشہری، عبدالمجید میر، محمد حسین خطیب سمیت دیگر کئی کشمیری رہنما ان کے پاس نظر نہیں آئے جس سے یہ تاثر ملا کہ حریت کانفرنس کے وفد کو جلدی میں بلایا گیا یا پھر جان بوجھ کر کشمیری قیادت کی نااتفاقی کو دنیا کے سامنے اچھالا جارہا ہے۔
پاکستان کا حکمران طبقہ یاد رکھے کہ 1947ء سے آج تک کشمیریوں کے ساتھ بے وفائیوں اور دھوکوں کی داستان بہت طویل ہے۔ اکتوبر1947ء میں قائد اعظم کو بتائے بغیر کشمیر میں ایک قبائلی لشکر بھیجا گیا اور اس لشکر کی وجہ سے بھارت کو کشمیر میں اپنی فوج بھیجنے کاموقع ملا۔ اس لشکر کے لئے جی ایچ کیو نے جو بندوقیں دیں ان پر پولیس نے قبضہ کرلیا اور یہ لشکر انتہائی ناقص بندوقوں کی مدد سے مار دھاڑ کرتا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارت نے پاکستان کو پیشکش کی کہ وہ حیدرآباد دکن پر دعوے سے دستبردار ہوجائے تو بھارت کشمیر سے نکل جائے گا لیکن لیاقت علی خان نے بڑی حقارت سے یہ پیشکش ٹھکرادی۔ پھر بھارت خود ہی یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا سیز فائر کرایالیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا۔ 1951ء میں پاکستان کے فوجی جرنیلوں نے لیاقت علی خان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کشمیر کے نام پر راولپنڈی سازش کیس کا شوشہ کھڑا کیا جس کا اصل مقصد سیاسی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔1962ء میں بھارت اور چین میں جنگ شروع ہوئی تو وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ا یوب خان سے کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیر خالی کردیا ہے ،یہ کشمیر آزاد کرانے کا بہترین موقع ہے لیکن ایوب کو واشنگٹن نے روک دیا۔ 1965ء میں آپریشن جبرالڈ کے ذریعہ کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا گیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ بھارت نے 1984ء میں سیاچن پر قبضہ کرلیا۔1987ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی۔ پاکستان نے اس تحریک میں عسکریت کو داخل کیا لیکن اس عسکریت کو ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جب عسکریت پسندوں نے احتجاج کیا تو آئی ایس آئی کے ایک ا فسر میجرجنرل افتخار حسین شاہ نے انہیں صاف کہا کہ ہم کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ صرف بھارت کو زخم لگانا چاہتے ہیں۔ کچھ سال کے بعد یہ صاحب مشرف دور میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر بنے تو موصوف نے قبائلی علاقوں میں وہ خوفناک کھیل شروع کیا جس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ 1999ء میں کارگل کے ایڈونچر سے لے کر2002…

17 Dec 10:26 AM 0 Read More...

Hamid Mir: our precious jewel by Umar Cheema

When I heard the news of an assassination attempt on Hamid Mir, tears started rolling down on my cheeks. I struggled hard to fight them back. In fact, I got to hear this while I was abroad. There were journalists from different countries accompanying me.
I didn’t want to…

01 Dec 11:53 AM 0 Read More...